کیا عراق کی تیل آمدنی پر امریکہ کا کنٹرول برقرار ہے؟

عراق

?️

سچ خبریں:امریکی فوج کے عراق سے انخلا کے باوجود عراق کی تیل سے حاصل ہونے والی ڈالر آمدنی کے انتظام میں امریکہ کے کردار اور بغداد کی معاشی خودمختاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد ایک اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی عراق کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر واشنگٹن کا اثر و رسوخ بھی ختم ہوگیا ہے؟

عربی 21 کے مطابق، عراق میں تعینات امریکی فوجی آج بدھ کو اس ملک میں موجود اپنے آخری فوجی اڈوں سے بھی نکل رہے ہیں۔ امریکی فوجی ایسے وقت عراق چھوڑ رہے ہیں جب 20 سال سے زیادہ عرصے پر محیط جنگ کے دوران 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

تاہم فوجی انخلا کے باوجود امریکہ عملی طور پر عراق کی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی ڈالر کی آمدنی کے انتظام میں اب بھی کردار رکھتا ہے۔ یہ نظام 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے قائم ہے۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کو بغداد کے معاملات میں غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کیا ہے، جس کے اثرات خطے میں ایران سے متعلق طاقت کے توازن تک بھی پہنچتے ہیں۔

واشنگٹن عراق کی تیل آمدنی کا انتظام کیسے کرتا ہے؟

عراق کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کے انتظام میں امریکہ کا کردار بنیادی طور پر اس آمدنی کو نیویارک کے وفاقی ریزرو بینک کے ذریعے جمع اور منظم کیے جانے سے متعلق ہے۔

2003 میں عراق پر حملے کے بعد امریکہ کی قیادت میں قائم عارضی اتحاد نے عراق ترقیاتی فنڈ قائم کیا، جس کی رقم نیویارک کے وفاقی ریزرو بینک میں جمع کرائی گئی۔ اس کا مقصد عراق کی تیل کی آمدنی جمع کرنا اور امریکی مؤقف کے مطابق اسے ملک کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے استعمال کرنا تھا۔

اس فنڈ کو عراق کی تیل کی آمدنی کو صدام حسین کے دور سے متعلق قانونی دعووں اور مالی مطالبات سے محفوظ رکھنے کے مقصد سے بھی قائم کیا گیا تھا۔

اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس انتظام کے تحت ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے، جس میں بعد کے تمام امریکی صدور نے توسیع کی۔ بالآخر عراق ترقیاتی فنڈ نیویارک کے وفاقی ریزرو بینک میں عراقی مرکزی بینک کے ایک ذیلی کھاتے میں تبدیل ہوگیا اور یہ نظام آج تک برقرار ہے۔

عراق کی معیشت پر امریکہ کا اثر و رسوخ کتنا ہے؟

عراق کی معیشت میں تیل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور حکومتی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مشتمل ہے۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کو عراق کے معاشی اور سیاسی استحکام پر نمایاں اثر و رسوخ فراہم کیا ہے۔

2020 میں جب عراقی حکومت نے امریکی فوجیوں سے ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا تو ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ واشنگٹن نے عراق کو نیویارک کے وفاقی ریزرو بینک میں موجود رقوم تک رسائی سے محروم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، اس صورتحال کے نتیجے میں بغداد کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

اگرچہ امریکی قبضے کے ابتدائی برسوں کے مقابلے میں عراقی حکومت نے اپنے مالی معاملات پر زیادہ اختیار حاصل کرلیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان یہ مالیاتی تعلق عراق کے معاشی معاملات پر واشنگٹن کے مستقل اثر و رسوخ کو نمایاں کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بغداد اپنی خودمختاری اور معاشی آزادی کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس وقت عراق کی تیل آمدنی کا انتظام کیسے کیا جارہا ہے؟

عراق کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی اب بھی نیویارک کے وفاقی ریزرو بینک میں موجود نظام کے ذریعے منظم کی جاتی ہے۔

عراقی مرکزی بینک اس سے قبل ڈالر کی فراہمی کے لیے ڈالر نیلامیوں پر انحصار کرتا تھا، جنہیں سرکاری طور پر غیر ملکی زر مبادلہ کی نیلامی کہا جاتا تھا۔ نجی بینک اور کرنسی ایکسچینج ادارے عراقی دینار کے ذریعے ڈالر خریدنے کے لیے روزانہ بولی دے سکتے تھے۔

تاہم 2025 کے آغاز میں واشنگٹن کے شدید دباؤ کے بعد عراق نے باضابطہ طور پر غیر ملکی زر مبادلہ کی نیلامیوں کا نظام ختم کردیا۔ یہ اقدام امریکہ کی اس وسیع مہم کے تناظر میں کیا گیا جس کا مقصد واشنگٹن کے مطابق ڈالر کی اس اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کرنا تھا جو بالخصوص ایران سمیت پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں تک پہنچ رہی تھی۔

مشہور خبریں۔

سلمان خان کوسعودی حکام نےخصوصی اعزاز سے نوازا

?️ 12 دسمبر 2021ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ اسٹار سلمان خان  کو سعودی حکام کی جانب

پارک بنانے کے لیے فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضہ

?️ 11 جنوری 2022سچ خبریں:   فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی

فلسطینیوں کے دباؤ کے بعد صیہونی ٹیم اور بارسلونا کے مابین ہونے والا فٹ بال میچ منسوخ ہوسکتا ہے

?️ 12 جولائی 2021تل ابیب (سچ خبریں) عبرانی ذرائع ابلاغ نے اہم انکشاف کرتے ہوئے

مسلسل حملوں کے باوجود فلسطینی پناہ گزینوں کی اپنے تباہ شدہ گھروں میں واپسی

?️ 15 اپریل 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کے زمینی اور

صیہونی حکومت کی ڈیٹنگ ویب سائٹس سے حساس معلومات کا افشا

?️ 23 اگست 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی سائبر اسپیس آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ

ڈی آئی خان: دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید

?️ 11 فروری 2026ڈیرہ اسماعیل خان (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان

انتخابی عمل کی نگرانی شفاف، غیرجانب دارانہ انداز میں کرنے کی کوشش ہوگی، نگران وزیراعظم

?️ 22 اگست 2023کراچی: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہم

اسرائیل جارحیت بند کرے تو معاہدہ ہو سکتا ہے: قطر

?️ 15 مئی 2024سچ خبریں: قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے