?️
سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فوج کے اندر اسلحہ چوری کا خطرناک رجحان شدت اختیار کر گیا۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں گولیاں، دستی بم، ٹینک شکن میزائل اور جدید جنگی آلات فوجی اڈوں سے چوری کیے جا چکے ہیں۔
مقبوضہ فلسطین میں اسلحہ چوری ایک خطرناک اور تشویشناک رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں صہیونی فوجی نہ صرف لبنان اور فلسطین کے عوام کے اموال لوٹ رہے ہیں بلکہ صہیونی فوجی اڈوں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران متعدد افراد، جن میں دو اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں، کو فوجی اڈوں سے اسلحہ چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ یہ پیش رفت صہیونی فوجی اڈوں سے مسلسل ہونے والی اسلحہ چوری کی تازہ ترین کڑی ہے، جو حالیہ برسوں میں ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں اس رجحان سے متعلق کئی اہم سوالات کے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق گرفتار افراد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پیش آنے والے کم از کم چار بڑے واقعات میں ملوث تھے اور وہ چوری شدہ اسلحہ فوجی اڈوں سے نامعلوم اندرونی مقامات تک منتقل کرنے میں کامیاب رہے۔
چوری شدہ اسلحے کی مقدار کتنی ہے؟
صہیونی فوجی پولیس کی تحقیقات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق فوجی گودام غیر قانونی اسلحے کے لیے کھلی مارکیٹ کی مانند بن چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دس برسوں کے دوران اپنے فوجی اڈوں سے تقریباً دو سو بڑی چوریوں کے واقعات درج کیے ہیں، یعنی اوسطاً ہر سال بیس بڑی چوریاں ہوئی ہیں۔
صہیونی حکام نے دو ہزار چوبیس سے دو ہزار چھبیس کے درمیان کئی بڑے واقعات دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے ہیں، جن میں جنوب میں واقع سدی تیمان فوجی اڈے سے تیس ہزار گولیوں اور شمالی علاقوں و مقبوضہ جولان کے فوجی اڈوں سے ستر ہزار گولیوں کی چوری نمایاں ہے۔ اس وقت تک فوجی بیرکوں سے چوری ہونے والی گولیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ چوریاں صرف ہلکے ہتھیاروں جیسے بندوق، پستول اور ان کی گولیوں تک محدود نہیں بلکہ ان میں ٹینک شکن میزائل، مارٹر گولے، زمینی افواج کے لیے جدید دفاعی نظام، مشین گنیں، دستی بم اور جدید رات میں دیکھنے والے آلات بھی شامل ہیں۔ چوری شدہ اسلحے کی اس منڈی کی مالیت سالانہ کروڑوں ڈالر کے برابر بتائی جاتی ہے۔
صہیونی فوجی اڈوں سے اسلحہ کون چوری کرتا ہے؟
اندرونی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اندرونی غداری کا نتیجہ ہے اور فوجی اڈوں سے اسلحہ چوری فوجیوں اور افسروں کی جانب سے یا ان کے تعاون سے انتہائی منظم انداز میں کی جاتی ہے۔
دو ہزار چھبیس میں ہونے والی تحقیقات نے انکشاف کیا کہ جنگی یونٹوں سے تعلق رکھنے والے دو اسرائیلی فوجی چار بڑی چوریوں میں ملوث تھے۔ انہیں دیگر افراد کے ساتھ نو مئی کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل اپریل کے آخر میں بھی صہیونی فوجی پولیس نے دو خاتون فوجیوں کو گرفتار کیا تھا جن پر نقب کے ایک فوجی اڈے سے اسلحہ اور گولہ بارود چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
صہیونی فوجی اسلحہ کیوں چراتے ہیں؟
مالی لالچ ان چوریوں کی سب سے بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ایم سولہ طرز کی ایک بندوق کی قیمت بلیک مارکیٹ میں ایک لاکھ شیکل تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض فوجی، خصوصاً رسد کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد اور وہ افسران جنہیں گوداموں تک رسائی حاصل ہوتی ہے، اسلحہ چوری کر کے فروخت کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
صہیونی ویب سائٹ آئی چوبیس کے مطابق غزہ اور لبنان کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد خودکار ہتھیاروں، دستی بموں اور قابلِ حمل میزائلوں کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں، جس کے باعث اسلحہ چوری بعض فوجیوں کے لیے جلد دولت حاصل کرنے یا قرضے ادا کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔
چوری شدہ اسلحہ کہاں جاتا ہے؟
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق فوجی اڈوں سے چوری ہونے والے اسلحے کا بڑا حصہ اسرائیل کے اندر سرگرم منظم جرائم پیشہ گروہوں تک پہنچتا ہے، جبکہ کچھ اسلحہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے ہاتھ بھی لگتا ہے۔
صہیونی ٹیلی وژن کے چینل بارہ نے اپریل دو ہزار پچیس میں رپورٹ دی تھی کہ فوجی پولیس کے تعاون سے ہونے والی ایک خفیہ تحقیقات کے نتیجے میں ایسے ریزرو فوجیوں کو گرفتار کیا گیا جو جنوبی مقبوضہ علاقوں کے ایک فوجی اڈے سے درجنوں دستی بم چوری کر کے مختلف فریقوں کو ہزاروں شیکل کے عوض فروخت کر رہے تھے۔
اسی طرح صہیونی چینل کان نے مئی دو ہزار چوبیس میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ صہیونی فوج سے چوری کیے گئے تقریباً پندرہ دستی بم اسی مہینے مقبوضہ فلسطین میں مختلف مجرمانہ واقعات میں استعمال ہوئے۔
صہیونی سکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ فوجی اڈوں سے اسلحہ اور گولہ بارود کی چوری مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں، خصوصاً نابلس اور جنین میں سرگرم تنظیموں، کو اسلحہ فراہم کرنے کے ذرائع میں سے ایک ہے۔ البتہ یہ تنظیمیں مصر، اردن اور لبنان کی سرحدوں کے ذریعے اسمگلنگ سمیت دیگر ذرائع سے بھی اسلحہ حاصل کرتی ہیں۔
صہیونی اخبار یروشلم نے بھی رپورٹ دی کہ اسرائیلی فوج کئی برسوں سے اپنے فوجی اڈوں، خصوصاً نقب کے علاقوں، سے اسلحہ چوری کے بحران کا شکار ہے۔ اخبار کے مطابق حالیہ برسوں میں چوری ہونے والے بیشتر ہتھیار فوجیوں اور فوجی اڈوں میں کام کرنے والے غیر فوجی ٹھیکیداروں کے تعاون سے حاصل کیے گئے۔


مشہور خبریں۔
2022 میں سچ خبریں ویب سائٹ پر جو بین المللی خبریں زیادہ پڑھی گئیں
?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:2022 کا سال دنیا بھر میں کافی اتار چڑھاؤ کے ساتھ
جنوری
جبالیا کے رہائشی علاقے صیہونی درندگی کا نشانہ
?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کی جانب سے مسلسل بمباری
نومبر
ہم بھارت کو گالیاں دیتے اور اسی کے گانوں پر ناچتے ہیں، فیصل قریشی
?️ 9 فروری 2023کراچی: (سچ خبریں) سینیئر اداکار فیصل قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستانی
فروری
لبنان کے خلاف صیہونی جارحیت کا اصل مقصد کیا ہے؟
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں:حزباللہ کے پارلیمانی رکن حسین جشی نے کہا ہے کہ لبنان
نومبر
پاکستان کے خلاف افغان طالبان رجیم کا مذموم پروپیگنڈا بے نقاب
?️ 24 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کے خلاف افغان طالبان رجیم کا مذموم
اکتوبر
فرانس کا عوامی قرضہ 2.8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا
?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں: فرانسیسی اخبار لی فیگارو کے مطابق فرانسیسی ادارہ برائے شماریات اور
دسمبر
امریکہ کے خلاف یمن کی کاروائی جاری
?️ 12 جون 2024سچ خبریں: امریکن ولسن سینٹر نے اعلان کیا کہ امریکہ اور اس
جون
رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں 80 ہزار فلسطینیوں نے نماز ادا کی
?️ 23 مارچ 2025سچ خبریں: یروشلم میں محکمہ اوقاف اسلامی نے اعلان کیا کہ تقریباً
مارچ