ایران کے خلاف جنگ سے حاصل ہونے والے 5 بڑے سبق

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:الشرق کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے ٹیکنالوجی، توانائی، خودمختاری اور عالمی طاقت کے توازن سے متعلق اہم اسباق دنیا کے سامنے رکھ دیے۔

روزنامہ الشرق نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس تنازع سے کئی اہم اسباق حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اس جارحیت کا مقابلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ ظلم اور عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت اور کامیابی صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی ممکن ہے، اور یہ جدید تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔

پہلا سبق: خود انحصاری اور ٹیکنالوجی

الشرق کے مطابق ایران نے ثابت کیا کہ داخلی وسائل کے ذریعے جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی ہے۔ میزائلوں کا جدید دفاعی نظاموں جیسے آئرن ڈوم، پیٹریاٹ، فلاخنِ داوود اور تھاڈ کو عبور کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لیے جدید میزائل ٹیکنالوجی، رہنمائی نظام اور سیٹلائٹ کنٹرول جیسے عوامل درکار ہوتے ہیں۔
یہ تجربہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کسی کو دی نہیں جاتی بلکہ اسے حاصل کیا جاتا ہے، اور دفاع کے لیے دوسروں پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔

دوسرا سبق: توانائی بطور ہتھیار

اس تجزیے میں کہا گیا کہ تیل اور گیس صرف وسائل نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار بھی بن سکتے ہیں۔ ان توانائی مراکز کو نشانہ بنانا صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کو ان وسائل کی ضرورت کہیں زیادہ ہے۔
لہٰذا توانائی کو کمزوری کے بجائے ایک طاقت اور بازدار قوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا سبق: غیر ملکی فوجی اڈوں کا خطرہ 

الشرق کے مطابق کسی بھی ملک میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی قومی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ جنگ کے وقت قربانی مقامی عوام دیتے ہیں، نہ کہ بیرونی افواج۔
یہ ایک واضح پیغام ہے کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کسی ملک کی سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتا بلکہ بعض اوقات خود خطرہ بن جاتا ہے۔

چوتھا سبق: بیرونی حمایت پر انحصار کرنے والی اپوزیشن کی ناکامی

اس تجزیے میں کہا گیا کہ جو اپوزیشن بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتی ہے، وہ بالآخر ناکام ہوتی ہے۔ بیرونی قوتیں اکثر اپنے مفادات کے لیے ایسے گروہوں کو استعمال کرتی ہیں اور بعد میں انہیں تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔
ایران کے معاملے میں بھی بیرونی وعدے عملی مدد میں تبدیل نہیں ہوئے۔

پانچواں سبق: جغرافیائی اہمیت اور عالمی توازن 

ایران کی جنگ نے اس بات کو واضح کیا کہ کسی ملک کی جغرافیائی حیثیت کتنی اہم ہوتی ہے۔ خطے میں عدم استحکام نہ صرف مقامی بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر ہوا کہ مغربی دنیا پہلے جیسی متحد نہیں رہی، اور نیٹو کے اندر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں، جبکہ روس اور چین جیسے ممالک عالمی توازن کو بدل رہے ہیں۔

خلاصہ

الشرق کے مطابق یہ جنگ صرف ایک عسکری تصادم نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک سبق ہے جس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ خود انحصاری، توانائی کا کنٹرول، جغرافیائی اہمیت اور عوامی استقامت کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہیں۔

مشہور خبریں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا

?️ 6 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے

اقوام متحدہ کا ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

?️ 15 دسمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کے نائب سکریٹری جنرل برائے سیاسی امور اور امن

صہیونی مظاہروں کی سونامی؛ نافرمانی کی ایک عظیم لہر کا اشارہ

?️ 21 اپریل 2025سچ خبریں: گزشتہ چند دنوں سے صہیونیوں میں احتجاجی درخواستوں کی ایک

جی ایس پی پلس کیخلاف بیان بازی خطرناک سازش ہے۔ شرجیل میمن

?️ 27 مارچ 2026کراچی (سچ خبریں) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی جی ایس

دریائے ستلج میں دو مقامات پر مسلسل ’اونچے‘ درجے کا سیلاب

?️ 26 اگست 2023لاہور: (سچ خبریں) دریائے ستلج میں اسلام اور گندھا سنگھ والا ہیڈورکس

ہمیں بطخوں کی طرح شکار کیا جاتا ہے، ہم محفوٖظ نہیں ہے: اسرائیلی اہلکار

?️ 31 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے آج سہ پہر ایک صہیونی آبادکار کی ہلاکت

تیل اور امریکہ کا عرب ممالک کی طرف جھکاؤ

?️ 24 مئی 2022سچ خبریں:سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت امریکہ کے عرب اتحادیوں

تل ابیب غزہ جنگ کے خاتمے کی ضمانت کیوں نہیں دینا چاہتا ؟

?️ 1 جون 2025سچ خبریں: المیادین کے ساتھ ایک انٹرویو میں فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے