?️
سچ خبریں: ایک عرب زبان کے میڈیا نے آبنائے ہرمز کے گرد حالیہ پیش رفتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس آبنائے میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک سیکیورٹی یا فوجی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے میں گہری تبدیلیوں اور اس دور کے بتدریج خاتمے کی علامت ہے جب امریکہ خود کو "دنیا کا پولیس” سمجھتا تھا۔
ایرانا کی اتوار کی رپورٹ کے مطابق، العهد نیوز ویب سائٹ نے اپنے نامہ نگار اور تجزیہ کار مختار حداد کے قلم کردہ ایک مضمون میں جس کا عنوان ہے "امریکا آبنائے ہرمز میں کیوں اکیلا رہ گیا؟” بین الاقوامی تعلقات کے بعض نظریات کا سہارا لیتے ہوئے حالیہ پیش رفتوں کو ایک وقتی بحران سے وسیع تر فریم ورک میں تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے اپنے مضمون کے آغاز میں بین الاقوامی تعلقات کے نظریے میں "ہیجیمونی” (بالادستی) کے تصور کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ تصور اس صورت حال کو کہلاتا ہے جس میں ایک غالب طاقت، فوجی، معاشی یا سیاسی ذرائع کے ذریعے، بین الاقوامی نظام کا انتظام اور رہنمائی اپنے ذمے لے لیتی ہے۔
مصنف کے مطابق، ریاستہائے متحدہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اور خاص طور پر سوویت یونین کے زوال کے بعد، عملی طور پر یہ کردار ادا کیا اور خود کو "دنیا کے پولیس” کی جگہ پر متعین کیا۔ ان کے خیال میں، واشنگٹن نے پچھلی دہائیوں کے دوران بین الاقوامی نظام کو اپنے مفادات اور ترجیحات کے مطابق منظم کرنے کی کوشش کی۔
حداد کا ماننا ہے کہ امریکی حکام کے حالیہ موقف، خاص طور پر امریکی وزیر جنگ کے بیانات اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کارروائیاں روکنے کے بارے میں جاری کردہ پیغامات، اس صورت حال میں تبدیلی کی علامت ہو سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں انہوں نے امریکی وزیر جنگ کے یورپی اتحادیوں سے مخاطب ہو کر کہے گئے بیانات کی طرف اشارہ کیا جس میں کہا گیا تھا: "شاید بہتر ہو کہ آپ کم بولیں اور کشتیوں پر سوار ہو جائیں” اور نیز زور دے کر کہا گیا تھا کہ اتحاد اور شراکت داری دو طرفہ راستہ ہے۔
مصنف کے خیال میں، اس طرح کی زبان داری محض ایک معمولی سیاسی موقف نہیں ہے، بلکہ یہ امریکہ کے روایتی اتحادوں اور عالمی سلامتی کے نظام کو دیکھنے کے انداز میں گہری تبدیلی کا عکاس ہے۔
اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ان پیش رفتوں کو "خطرے کے توازن” کے نظریہ کے فریم ورک میں تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ بین الاقوامی نظام میں ممالک اپنے تعلقات اور اتحادوں کو نہ صرف طاقت کی بنیاد پر، بلکہ خطرات اور مشترکہ مفادات کے ادراک کی بنیاد پر ترتیب دیتے ہیں۔
حداد نے ٹرمپ کے نقطہ نظر کو "جارحانہ حقیقت پسندی” کے نظریہ کے فریم ورک میں بھی جانچا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، بڑی طاقتیں کبھی اپنی طاقت کی مقدار سے مطمئن نہیں ہوتیں اور ہمیشہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور اپنے مفادات میں اضافے کی کوشش میں رہتی ہیں۔
ان کے مطابق، اس نقطہ نظر سے، پرانے اتحادوں کو برقرار رکھنا اب امریکہ کے لیے قطعی ترجیح نہیں رہا، اور واشنگٹن اب عالمی نظم کو برقرار رکھنے کے اخراجات کو اپنے اتحادیوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مصنف کا ماننا ہے کہ اس مرحلے پر یورپ کو امریکہ کا پیغام واضح ہے کہ عالمی سلامتی کی فراہمی میں یکطرفہ کردار ادا کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے، اور جو ممالک اسٹریٹجک راستوں کی سلامتی اور جیو پولیٹیکل مفادات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں اخراجات کا زیادہ حصہ ادا کرنا ہوگا۔
وہ اس نقطہ نظر کو یوں بیان کرتے ہیں: اگر آبنائے ہرمز کی سلامتی یورپ اور دیگر اتحادیوں کے لیے اہم ہے، تو انہیں یا تو زیادہ فوجی شراکت داری کرنی ہوگی یا امریکہ کو زیادہ معاشی اور سیاسی مراعات دینی ہوں گی۔
اس تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پیشرفتیں صرف نظریاتی سطح پر نہیں رکی ہیں بلکہ ان کے اثرات میدان میں بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ حداد کہتے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں فوجی تصادم کے مرحلے میں اپنی ابتدائی رپورٹوں سے مختلف صورت حال سے دوچار ہوا اور اسے وسیع پیمانے پر مزاحمت اور جوابات کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ لکھتے ہیں: جہاں ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی بحری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی باتیں کر رہے تھے، وہیں میدانی پیش رفتوں نے ایک مختلف داستان پیش کی، اور عملی طور پر امریکہ اپنی متوقع مشترکہ کارروائی اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہا، اور نہ یورپ اور نہ ہی امریکہ کے دیگر روایتی اتحادی اس طرح میدان میں اترنے کو تیار تھے جس طرح واشنگٹن کی توقع تھی۔
مصنف اس صورتحال کو گیم تھیوری میں "سگنلنگ کی ناکامی” کے تصور سے بیان کرتے ہیں۔ یہ تصور اس صورت حال کی طرف اشارہ کرتا ہے جب ایک بین الاقوامی کھلاڑی اپنی دھمکیوں یا پیغامات کو اس انداز میں منتقل کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ دوسرے انہیں قابلِ اعتبار اور قائل کنندہ سمجھیں۔
ان کے خیال میں، سفارتی راستے کو موقع دینے کے بہانے کارروائیوں کو روکنا، درحقیقت امریکہ کی "اسٹریٹجک تنہائی” کی علامت تھا۔ حداد کا ماننا ہے کہ حالیہ واقعات نے دکھا دیا ہے کہ پرانا نظم، جس میں امریکہ اکیلے دنیا کے پولیس کا کردار ادا کرتا تھا، عملی طور پر ختم ہو رہا ہے۔
وہ یہ بھی مانتے ہیں: یورپ نے دکھا دیا کہ وہ مغربی ایشیا کے علاقے میں وسیع تصادم میں پڑنے کو تیار نہیں ہے اور وہ امریکی دباؤ اور مطالبات کے فریم ورک میں کام کرنے کو تیار نہیں تھا۔ مصنف کے خیال میں، اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ واشنگٹن اپنے ایک اہم ترین اسٹریٹجک تنازع میں، بغیر کسی واضح کامیابی کے، پسپائی پر مجبور ہو گیا۔
اس مضمون کے آخر میں، مصنف نے حالیہ پیش رفتوں سے ایک وسیع تر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ نئے بین الاقوامی نظام میں ممالک کے لیے سب سے اہم سبق یہ ہے کہ اب پرانے نظم پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، اور ہر ملک کو خود اپنی پوزیشن اور مفادات کو برقرار رکھنے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔
ان کے خیال میں، موجودہ حالات میں، ممالک کی پوزیشن کا تعین کرنے والا بنیادی عنصر "طاقت” ہے، اور حکومتیں بین الاقوامی میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ناگزیر طور پر مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے پر مجبور ہیں۔
اس مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ پیش رفتوں کے بعد دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور طاقت کی مساوات ماضی کے مقابلے میں بدل گئی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں بعض کھلاڑی روایتی توازن کو چیلنج کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور عالمی تبدیلیوں میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
اختلاف کے باعث بعض نامزد امیدواروں سے سینیٹ ٹکٹ واپس لینے کا امکان
?️ 15 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم پر پی ٹی
فروری
جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ کیلئے جسٹس باقر نجفی اور جسٹس عقیل عباسی کے ناموں پر اتفاق
?️ 17 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے
اپریل
سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ تجارتی اجلاس اور 8 معاہدوں پر دستخط
?️ 20 مارچ 2023سچ خبریں: اور ترکی کے درمیان مشترکہ تجارتی اجلاس کے پہلے روز
مارچ
علی امین گنڈاپور کی جنید اکبر سے ٹسل تھی، علیمہ خان سے بھی پنگا تھا۔ شیر افضل مروت
?️ 8 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) رکنِ قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا
اکتوبر
بحرین کا فلسطینی بچوں کے قاتل کو خوش آمدید کہنا فلسطینی عوام کی پیٹھ میں خنجر مارنا ہے:فلسطینی مزاحمتی تحریک
?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:اسرائیلی وزیر جنگ کے بحرین کے اچانک دورے پر ردعمل ظاہر
فروری
سوڈان اور اسرائیلی کے درمیان تعلقات کا معاہدہ ایک عبرانی اتحاد ہے: یمنی عہدیدار
?️ 4 فروری 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے
فروری
یمن کی سعودی عرب کے تیل کے مراکز، بجلی اور ہوائی اڈوں پر حملے کی دھمکی
?️ 13 اگست 2026سچ خبریں:انصار اللہ کے رہنما محمد البخیتی نے خبردار کیا ہے کہ
اگست
اگر وحشی اسرائیل کو نہ روکا گیا تو خطہ اور دنیا شعلوں کی نذر ہو جائے گی:ترک صدر
?️ 20 جولائی 2025 سچ خبریں:ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کو دہشتگرد ریاست
جولائی