لبنان اور اسرائیل کے براہِ راست مذاکرات کی ناکامی کی ۷ بڑی وجوہات

لبنان

?️

سچ خبریں: لبنان کی حکومت نے گزشتہ ماہوں کے دوران اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صیونی حکومت ملک کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان کے اہم علاقوں پر قابض ہے، روزانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور حال ہی میں لبنان میں سینکڑوں افراد کو شہید کرکے خوفناک جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
الیمیڈین نیوز چینل کی ویب سائٹ کے مطابق، مذاکرات کے علمی اور نظریاتی مبانی کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ لبنانی فریق کے پاس مذاکراتی عمل میں کامیابی کے لیے ضروری بنیادی عناصر موجود نہیں ہیں۔ مزید برآں، اسرائیل کے سابقہ مذاکراتی تجربات کا تجزیہ بھی ثابت کرتا ہے کہ یہ حکومت کبھی بھی اپنے مذاکراتی وعدوں پر قائم نہیں رہی۔ اس طرح لبنان اُس ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جیسا کہ فتح تحریک نے اوسلو معاہدے میں دیکھا تھا۔
یہ مذاکرات اس حال میں کیے جا رہے ہیں جبکہ بظاہر لبنانی حکومت مختلف وجوہات کی بنا پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے ضروری اعتبار، قانونی حیثیت اور پیشہ ورانہ مہارت سے عاری ہے۔ اس کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
پہلی وجہ: جامع قومی اختیار کی عدم موجودگی
لبنان کے صدور اور وزرا نے اس وقت مذاکرات کی راہ اپنائی ہے جب نہ تو کوئی جامع اور متفقہ قومی اختیار موجود ہے، نہ فیصلہ سازی میں سیاسی اتحاد ہے، اور نہ ہی کم از کم لبنانی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ لبنان جیسے ملک میں داخلی ہم آہنگی کسی بھی سیاسی فیصلے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ پھر یہ اتنا اہم معاملہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے جبکہ لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد اسے ایک ذلت آمیز مراعات پر مبنی عمل سمجھتی ہے جو ان کی تاریخ اور ماضی و حال کی قربانیوں کا احترام نہیں کرتا؟
دوسری وجہ: مذاکراتی تجربے کی محدودیت
اسرائیلی اور امریکی ٹیموں کے مقابلے میں لبنانی حکومت کا مذاکراتی تجربہ بہت محدود ہے، جبکہ مخالف ٹیمیں زیادہ تجربہ کار اور منظم ہیں۔ یہ کمی لبنانی ٹیم کی طرف سے قانونی نکات کی کمزور تشکیل اور مبہم شقوں کو قبول کرنے میں واضح نظر آتی ہے، جن کی متعدد تشریحات ممکن ہیں۔ خاص طور پر واشنگٹن میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ جیسے کچھ اراکین میں اس حساس مشن کے لیے کم از کم ضروری صفات بھی موجود نہیں ہیں۔
تیسری وجہ: لبنان کی طاقت کے عناصر کو نظرانداز کرنا
لبنان کے مذاکرات کاروں اور فیصلہ سازوں نے میدانی اور سیاسی دباؤ کے ان ہتھیاروں کو چھوڑ دیا جو اس پیچیدہ اور مشکل عمل میں مذاکراتی صورتحال کو بہتر بنا سکتے تھے۔ لبنانی حکومت نے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کے لیے مزاحمت کے عنصر کو استعمال کرنے کی بجائے اسے سیاسی طور پر کونے میں دھکیلنے اور مجرم قرار دینے کا عمل شروع کیا، گویا وہ مذاکرات کی انتہا پر خود کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
چوتھی وجہ: علاقائی تبدیلیوں سے انکار
براہِ راست مذاکرات کے حامی لبنان اور پورے خطے میں طاقت کے حقیقی توازن کو نظرانداز کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ وہ ایسے برتاؤ کر رہے ہیں جیسے مزاحمت اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے سے قاصر ہو، اور وہ اسے حزب اللہ کی کمزوری یا حتیٰ کہ شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔
پانچویں وجہ: امریکہ کا غلط اندازہ
لبنان کی حکومت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کو ایک غیر جانبدار ثالث سمجھتی ہے، حالانکہ امریکہ کا کردار محض مذاکرات کے غیر جانبدارانہ انتظام سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ مذاکراتی عمل کو اس طرح چلاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے مفادات اور اس کی سلامتی کی ضروریات سے تجاوز نہ کرے۔
چھٹی وجہ: فائرنگ کے وقت مذاکرات کو قبول کرنا
لبنان اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے جسے اسرائیل نے مذاکرات کے دوران میدان جنگ پر مسلط کیا ہے۔ یہ قبضہ جاری رکھنے یا نئی جغرافیائی اور سیکیورٹی حقیقتیں مسلط کرنے کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال فائرنگ کے دوران مذاکرات کے اصول کو قبول کرنے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
ساتویں وجہ: متبادل کے عدم وجود کے تحت مذاکرات
لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیرِ اعظم نواف سلام ایسے حالات میں یہ مذاکرات کر رہے ہیں جہاں لبنان کے پاس کوئی مناسب متبادل نہیں ہے اور اسرائیل کو مکمل برتری حاصل ہے، جس نے مذاکرات کو واحد ممکنہ راستہ بنا دیا ہے۔
آخر میں، ایسا لگتا ہے کہ لبنانی حکام اوسلو معاہدے کے تجربے کو دہرا رہے ہیں جس کے فلسطین کے مسئلے پر تباہ کن نتائج مرتب ہوئے تھے۔

مشہور خبریں۔

مودی حکومت کیطرف سے کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری

?️ 20 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی

اولمرٹ کا جنگ کے نتائج کے بارے میں انتباہ

?️ 23 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی ریاست کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ، جو غزہ کی

خاشقجی کیس میں بن سلمان کو امریکی استثنیٰ

?️ 20 نومبر 2022سچ خبریں:امریکی محکمہ انصاف نے استنبول میں ریاض کے ناقد صحافی کے

بھائی کے خنجر سے گھر کے پچھواڑے سے بے دخلی؛ یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تنازعات

?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: اماراتی افواج کی یمن کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول

سعودی ولیعہد کا واشنگٹن دورہ: علامتی معاہدے، بھاری رقوم اور ٹرمپ کی مالی ترجیحات

?️ 20 نومبر 2025سچ خبریں:لبنانی روزنامہ الاخبار کے مطابق محمد بن سلمان کا دورۂ امریکہ

کیا اسرائیل اپنے قیدیوں تک پہنچ سکے گا ؟

?️ 9 جنوری 2025سچ خبریں: فلسطینی ذرائع نے العربی الجدید نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ

عمران خان کو تھکی ہوئی اپوزیشن ملی ہے: وزیر داخلہ

?️ 19 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر،وزیر داخلہ نے کہاکہ یہ عمران خان

سی پیک نے گلگت بلتستان کیلئے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، آصف علی زرداری

?️ 1 نومبر 2025گلگت بلتستان: (سچ خبریں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے