صہیونیوں کو عالمی سطح پر تنہائی کا خوف

صیہونی

?️

سچ خبریں:صیہونی ریاست کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات اور چیلنجوں نیز صیہونی حکومت کے ڈھانچے میں گہرے خلاء کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہا ہونے کے بارے میں اسرائیلیوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

کتاب "عارضی حکومت کا تصور اور خصوصی تحقیق” جسے الاتحاد مرکز برائے مطالعات و تحقیق نے تالیف اور شائع کیا ہے، میں صیہونی عارضی حکومت کے خاتمے کے سلسلہ میں خصوصی گفتگو کی گئی ہے۔ اس کتاب کے پہلے باب میں عارضی حکومت کے تصور اور اس کے سلسلہ میں مختلف بین الاقوامی اور صیہونی شخصیات کے نظریات ذکر کیا گیا ہے جبکہ دیگر ابواب میں صیہونی جاسوسی اور فوجی تنظیموں کے سکیورٹی اور تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لیا گیا ہے، اس کے بعد اسرائیل کو درپیش بحرانوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کی وجہ سے یہ ریاست تباہ ہوگی۔

صیہونی عبوری حکومت کے مطالعاتی مراکز کی تحقیق کے مطابق اس حکومت کے وجود کو لاحق خطرات کو اندرونی اور بیرونی دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
بیرونی خطرات
1۔ پہلا خطرہ: ایٹمی طاقت کا مالک ایران؛ صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کے مرکز کی طرف سے تیار کیے جانے والے اس حکومت کے 2022 کے سالانہ اسٹریٹجک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ ایران اسرائیل کے لیے بنیادی اور سب سے اہم خطرہ ہے اس لیے کہ ایران جوہری طاقت بننے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اس میدان میں ضروری صلاحیتوں کا حامل ہے، اس کے بعد ایران اب بھی مختلف علاقوں اور سرحدوں سے اسرائیل کو دھمکی دینے کے لیے فوجی آپشنز کو فعال کرنے کے لیے پرعزم ہے نیز خطے میں ایرانی اتحاد سے وابستہ گروپوں نے اسرائیل کو میزائلوں، ڈرونز سے گھیر لیا ہے۔

2۔ اسرائیل مخالف علاقائی اتحاد اور مزاحمتی میزائلوں کا مقابلہ کرنے میں تل ابیب کی ناکامی؛خطے میں صیہونی عبوری حکومت کے دشمنوں کا اتحاد اس حکومت کے وجود کے لیے خطرہ ہے، اس سلسلے میں صیہونی حکومت کے مطالعاتی مراکز مقبوضہ فلسطین کے شمالی محاذ میں مستقبل کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس خطرے کو شمالی علاقے میں ایک بڑے فوجی چیلنج کے طور پر اسرائیل کے خدشات میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلیوں کی تشویش کا تعلق مزاحمتی تحریک کی وسعت اور صیہونی عبوری حکومت کے ساتھ اس کی کشیدگی کی شدت سے ہے۔

3۔ بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں اسرائیل کی تنہائی؛ صہیونی مراکز کے مطالعے کے مطابق،صیہونیوں کا بائیکاٹ کرنے کی کالز اور مہمیں نیز عرب ممالک کو صیہونیوں کے جال میں پھنسانے کے خلاف فلسیطنیوں کے اقدامات اسرائیل کو ایک "جمہوری ریاست” کے تشخص سے محروم کر دیتے ہیں نیز تل ابیب کے مغربی اتحادیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے اسرائیل کی تنہائی کا امکان بڑھ جاتا ہے نیز۔ یہ صورتحال اسرائیل کے تئیں امریکی موقف میں وسیع تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے اور اس کی بین الاقوامی پوزیشن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اندرونی خطرات

1۔ پہلا خطرہ: فلسطین کے سوز زدہ علاقے کو صیہونی حکومت کے لیے ہمیشہ ایک خطرناک چیلنج سمجھا جاتا ہے، جو خود کو ایک ’جمہوری اور محفوظ یہودی ریاست‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

مشہور خبریں۔

فلسطینیوں کی شہریت کی منسوخی کا قانون پاس کرنے سے صورتحال بگڑنے کا خطرہ

?️ 16 فروری 2023خودساختہ تنظیم کی وزارت خارجہ نے صہیونی پارلیمنٹ کی طرف سے فلسطینی

متاثرین کی بحالی ترجیح، مخالفین تنقید کرتے ہیں وزیراعلی کام کیوں کررہی ہے۔ مریم نواز

?️ 15 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ سیلاب

یوکرین کا بحران سیاسی طور پر حل ہونا چاہیے:ایران

?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:ایرانی وزیر خارجہ نے روس یوکرین جنگ کے سلسلہ میں اپنے

حکومت سندھ کا وفاق سے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنےکا مطالبہ

?️ 19 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) حکومت سندھ نے وفاق سے ملکی سطح پر گندم

غزہ میں طبی شعبہ بدستور بحران کا شکار امدادی سامان کی شدید قلت برقرار

?️ 26 اکتوبر 2025غزہ میں طبی شعبہ بدستور بحران کا شکار امدادی سامان کی شدید

آسٹریائی اخبار کی امریکی میڈیا کے ساتھ ٹرمپ کی شام کی ضیافت کی مختلف روایت

?️ 27 اپریل 2026سچ خبریں: آسٹریائی اخبار "ڈیر سٹینڈرڈ” نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی

کیا شام عرب لیگ میں واپس آئے گا؟

?️ 10 اپریل 2023سچ خبریں:شام میں بدامنی پھیلنے کے بعد تیونس اور دیگر عرب ممالک

بائیڈن کے مشیر سعودی عرب کیا کرنے آئے ہیں؟

?️ 5 اکتوبر 2023سچ خبریں: بائیڈن کے اعلیٰ مشیروں نے خاموشی سے سعودی عرب کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے