غزہ میں طبی شعبہ بدستور بحران کا شکار امدادی سامان کی شدید قلت برقرار

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود، صحت و علاج کا شعبہ اب بھی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ محمد ابو عفش، ڈائریکٹر غزہ میڈیکل ریلیف آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ضروری طبی

?️

غزہ میں طبی شعبہ بدستور بحران کا شکار امدادی سامان کی شدید قلت برقرار
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود، صحت و علاج کا شعبہ اب بھی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ محمد ابو عفش، ڈائریکٹر غزہ میڈیکل ریلیف آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ضروری طبی سہولیات اور امدادی سامان کی کمی کے باعث اسپتالوں اور طبی مراکز کی کارکردگی بری طرح متاثر ہے۔
ابو عفش نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا:ہمیں امید تھی کہ جنگ بندی کے بعد بنیادی طبی ضروریات غزہ پہنچ جائیں گی، مگر بدقسمتی سے حالات اب بھی سنگین ہیں۔ طبی عملہ کم وسائل کے ساتھ دن رات کام کر رہا ہے اور اسپتالوں میں ضروری دوائیں اور آلات دستیاب نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے شہریوں کو فوری طور پر موبائل کلینکس اور فیلڈ اسپتالوں کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زخمیوں اور مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ابو عفش نے اس بات پر زور دیا کہہمیں بچوں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک واضح پالیسی کی ضرورت ہے۔”اس سے قبل، عدنان ابو حسنہ، ترجمان انروا نے شمالی غزہ کی سنگین صورتحال پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایریز اور زیکیم سرحدی گذرگاہوں کو بند رکھنے سے امدادی سرگرمیاں تقریباً ناممکن ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا جب تک شمالی گذرگاہیں دوبارہ نہیں کھلتیں، وہاں کے تقریباً 10 لاکھ فلسطینی بنیادی امداد سے محروم رہیں گے۔ موجودہ امداد انتہائی محدود ہے اور ضروری غذائی و طبی سامان شمال تک نہیں پہنچ پا رہا۔”
ابو حسنہ نے تمام پانچ زمینی گذرگاہوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف کرم ابو سالم پر انحصار کافی نہیں، کیونکہ اس سے امداد کی رفتار اور مقدار دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی افواج نے 7 اکتوبر 2023 سے، امریکہ اور یورپ کی حمایت سے، غزہ پر وسیع پیمانے پر حملے کیے۔ ان حملوں میں ہزاروں عمارتیں تباہ ہوئیں، غذائی و طبی رسد منقطع کر دی گئی اور لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو گئے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 2 لاکھ 38 ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ مزید برآں، 11 ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں اور بڑے پیمانے پر قحط کے باعث درجنوں بچوں نے جان گنوا دی ہے۔

مشہور خبریں۔

تحریک انصاف اور جے یو آئی کا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ جدوجہد پر اتفاق

?️ 6 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) تحریک انصاف اور جے یو آئی کا پارلیمنٹ

بچوں میں موٹاپے کی اہم وجہ سامنے آگئی

?️ 12 جون 2021سیؤل(سچ خبریں)جنوبی کورین ماہرین نے بچوں میں موٹاپے کی ایک اہم وجہ

غزہ کی نسل کشی صیہونی حکومت کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے: طالبان

?️ 28 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کی طرف سے رفح میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ

ٹرمپ یوکرین کی جنگ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کرنے کے خواہاں 

?️ 24 نومبر 2024سچ خبریں: خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نومنتخب امریکی صدر اپنے

یوکرین کی معیشت تباہی کے دہانے پر؛ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی وارننگ

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ روسی فوجی

پاکستان زراعت کے شعبے کی استعداد بڑھانے کے لئے چینی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے. شہبازشریف

?️ 7 جون 2024بیجنگ: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان زراعت کے شعبے کی استعداد

عبرانی میڈیا کا دعویٰ: گولانی کئی قاتلانہ حملوں میں بچ گیا

?️ 22 جولائی 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ نے دعویٰ کیا:

ٹرمپ کا بھاری درآمدی ٹیکسز کا اعلان: گاڑیوں پر 25% محصول عائد

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام غیر ملکی درآمدی گاڑیوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے