سعد الحریری فرانس ، امریکہ اور اسرائیل کے تباہ کن منظر نامے کی خدمت میں

اسرائیل

?️

سچ خبریں:لبنان میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کے لئے امریکہ ، اسرائیل اور فرانس کی جانب حکم جاری کر دیاگیا ہے ، جو کوئی اس کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے وہ لبنان ان تینوں ممالک کی نیت نیز لبنان اور خطے کے بارے میں ان کی اصل سازش کو نہیں سمجھتا ہے۔

ہم کیوں یقین کرتے ہیں کہ سعد حریری کی حکومت تشکیل نہ دینے کے سلسلہ میں منصوبہ بند معافی مانگنے سےلبنان کی مکمل تباہی اور اس کے نتیجہ میں خانہ جنگی کا راستہ ہموار ہوا ہے؟ یہ جنگ پچھلی تمام جنگوں سے کیسے مختلف ہوگی؟ کیا اس سے حزب اللہ اور اس کے میزائل ہتھیاروں کی تباہی ہوگی؟

یورپ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور عرب دنیا میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ گہری مشاورت کے بعد سعد حریری نے حکومت نہ بنانے کے لئے باضابطہ طور پر معافی مانگنے کا فیصلہ کیاجس کے بعد ممکنہ طور پر وہ مشیل عون اور ان کی اتحادی حزب اللہ کے ساتھ سیاسی اور ممکنہ طور پر سلامتی کے تصادم کا اعلان کرتے ہوئے موجودہ بحران کے لیے دونوں فریقوں کو ذمہ دار ٹھہراسکتے ہیںاور لبنان کے مستقبل میں اس کے ممکنہ نتائج کو بیان کر سکتے ہیں۔

تمام عذر اور جواز جیسے مشیل عون کا عیسائی وزراء کی تقرری وغیرہ پر اصرار کا اصلی مقصد حزب اللہ اور اس کی میزائل طاقت کو اسرائیل کے حق میں نشانہ بنانا ہے تاکہ اس غاصب حکومت کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے نیز مشترکہ سرحدیں کھینچنے کا منصوبہ پر عمل در آمد کر کےصیہونیوں کے ہاتھوں بحیرہ روم میں لبنان کے گیس اور تیل کے ذخائر میں زیادہ سے زیادہ لوٹا جاسکے،حریری کی معافی نے لبنان کو مکمل طور پر سیاسی ، معاشی اور معاشرتی خاتمے کے قریب پہنچا دیا ہے۔

واضح رہے کہ آنے والی جنگ ذرا مختلف ہوگی کیونکہ اس میں مذہبی (اسلامی – عیسائی) یا نظریاتی (بائیں بازویا دائیں بازو کی جماعتیں)یا نسلی (لبنانی فلسطینی) اور مذہبی (سنی شیعہ) اختلافات کی عکاسی نہیں کرےگی جبکہ لبنانی تنظیموں کے درمیان اس طرح کی زیادہ تر خصوصیات موجود ہیں، شاید حریری کی لبنانیوں کو حزب اللہ اورعو کے خلاف بھڑکانا اور انہیں ذمہ دار سمجھانا اس کا واضح ثبوت ہے۔

تاہم لبنان کے لیےصدر اور پارلیمانی دھڑوں کے مابین کابینہ تشکیل دینے کے لئے متبادل وزیر اعظم ڈھونڈنے کے لئے نتیجہ خیز مشاورت کے نتائج پر قیاس کرنا مشکل ہے کیوں کہ حریری نے اس کو تشکیل پانے یا نامزد کرنے سے روکنے کا وعدہ کر رکھاہے اور اگر ایسا ہوبھی جائےتو کامیاب نہیں رہے گا کیونکہ حسن دیاب کی موجودہ حکومت کی طرح اسے بھی مخالفت اور بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیے کہ لبنان میں خانہ جنگی کے شعلوں کو بڑھکانےکے لئے امریکہ ، اسرائیل اور فرانس منصوبہ بنا چکے ہیں جو کوئی اس کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے وہ لبنان کے لیے ان تینوں ممالک کی نیت نیز لبنان اور خطے کے بارے میں ان کی اصل سازش کو نہیں سمجھتا ہے۔

 

مشہور خبریں۔

امریکہ کی طرف سے ایک بار پھر متعدد ایرانی افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد

?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں:امریکی محکمہ خزانہ نے امریکی انتخابات میں مداخلت کا بہانہ بناتے

غزہ جنگ میں اسرائیل کو درپیش چیلنج

?️ 31 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیل ہم اخبار نے صیہونی حکومت کے ایک جنرل کے حوالے

صہیونی فوج کو 12000 فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا؛ صہیونی تجزیہ نگار کا اعتراف

?️ 21 جولائی 2026سچ خبریں:صہیونی تجزیہ نگار آلوف بن نے اعتراف کیا ہے کہ صہیونی

برطانوی وزیر اعظم کے ہاتھوں روسی صدر کی توہین؛پیوٹن کا شدید رد عمل

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:روسی صدر نے نیٹو اور گروپ آف سیون کے اجلاس کے

یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی تیاری

?️ 27 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات

?️ 9 جنوری 2023اسلام آباد;(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سعودی عرب کے

اسرائیلی پارلیمنٹ میں مغربی کنارے کے الحاق کے قانون کی منظوری کے خلاف مذمت کی لہر

?️ 24 جولائی 2025سچ خبریں: مغربی کنارے پر سرکاری خود مختاری کے استعمال کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے