?️
سچ خبریں: حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں اپنے ہی ارکان کی جانب سے غیر معمولی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پر آئی ایم ایف کے حکم پر ٹیکس سے بھرپور بجٹ پیش کرنے پر شدید تنقید کی۔ یہاں تک کہ حکومت کے ایک اہم اتحادی نے بجٹ پر جاری بحث کا بائیکاٹ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی مسلسل دوسرے بجٹ میں نظر انداز، حکومت سندھ نے کسی نئی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا
رپورٹ کے مطابق، بجٹ پر بحث کے دوسرے روز وزیر خزانہ سمیت دیگر وفاقی وزرا کی ایوان سے غیرحاضری پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے ایوان میں علامتی شرکت کے ذریعے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ پی پی اراکین نے اجلاس میں شرکت کی، لیکن بجٹ کی تیاری پر حکومت کے ساتھ مشاورت نہ ہونے پر بحث میں حصہ نہیں لیا۔
جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پانے کی خبروں کے باوجود پیپلز پارٹی کا بحث کا بائیکاٹ بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا۔
جمعہ کو ہونے والی بحث میں مسلم لیگ (ن) کے 5 ارکان نے حصہ لیا، لیکن کسی نے بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ بجٹ کی تیاری کے دوران وزیر خزانہ اور بیوروکریٹس سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔
مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے پر اپنی پارٹی کی تعریف کی، لیکن زیادہ تر نواز شریف کی قیادت میں حکومت کی کارکردگی پر بات کی۔
سنی اتحاد کونسل سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگاتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے چند منٹ کے لیے اجلاس میں شرکت کی، لیکن زیادہ تر وقت کے لیے حکومتی بینچز خالی رہیں، جس پر قانون سازوں نے تنقید کی۔
پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے ایوان میں وفاقی وزرا کی عدم موجودگی پر سنی اتحاد کونسل کے اسد قیصر کی بات کی تائید کی۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت سنی اتحاد کونسل کے متعدد ارکان نے کہا کہ وزیر خزانہ ایوان میں نہیں آرہے کیونکہ وہ منتخب نمائندوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزرا کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بحث میں صرف اپوزیشن کے ارکان حصہ لے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بجٹ کا دفاع کرنے والا حکومتی بینچوں پر کوئی نہیں ہے۔
قانون سازوں نے وزیر خزانہ پر بالواسطہ ٹیکس لگانے اور تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے کے علاوہ اسٹیشنری، پیک شدہ دودھ اور طبی آلات سمیت ہر چیز پر سیلز ٹیکس عائد کرنے پر تنقید کی۔
ایوان میں اکثریت نے وفاقی بجٹ کو آئی ایم ایف کا حکم نامہ قرار دیا اور کہا کہ یہ بجٹ صرف غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے اور مزید قرضے حاصل کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
تقریباً تمام قانون سازوں نے اپنی تقاریر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود اپنے حلقوں میں جاری لوڈشیڈنگ پر احتجاج کیا۔
حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے فنانس بل کو روایتی بجٹ قرار دیتے ہوئے اسے ملک کی بقا اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارے پارٹی رہنما خالد مقبول صدیقی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں، لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ کابینہ کے اجلاس میں ٹیکس کے ان اقدامات پر بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عوام بغاوت کے لیے تیار ہو رہے ہیں اور جلد ہی آزاد کشمیر کے عوام کی طرح سڑکوں پر ہوں گے، جنہوں نے اپنے طویل اور مسلسل احتجاج کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں ریلیف حاصل کیا۔
فاروق ستار نے زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے اور متوسط طبقے اور تنخواہ دار لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے 70 فیصد ریونیو اکٹھا کر رہی ہے۔ انہوں نے جنرل سیلز ٹیکس کو موجودہ 17 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کرنے کی بھی تجویز دی۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کی بجٹ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) پر شدید تنقید
ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 20 روپے اضافے کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں دونوں جماعتیں اسے بھتہ خوری کہتی تھیں۔


مشہور خبریں۔
صیہونی سپریم کورٹ بھی نیتن یاہو کے خلاف میدان میں
?️ 3 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی سپریم کورٹ عدالتی اصلاحات کے حوالے سے منظور شدہ
اگست
مغربی کنارے میں 10 دن کی وحشیانہ کارروائیاں
?️ 8 ستمبر 2024سچ خبریں: صہیونی قابض فوج نے 10 روزہ فوجی آپریشن کے بعد
ستمبر
حریت کانفرنس کی طرف سے شہدائے عالی کدل کو شاندار خراج عقیدت
?️ 19 نومبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
نومبر
موجودہ حالات میں جنگ کی تیاری ضروری ہے: شمالی کوریا
?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: کورین پیپلز آرمی کے بٹالین کمانڈروں اور سیاسی کمانڈروں کی
نومبر
اسرائیل کا ایک اور جھوٹ سامنے آیا ؟
?️ 3 نومبر 2023سچ خبریں:القسام بٹالینز کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ نے اعلان کیا ہے
نومبر
میانمار کی سابق رہنما کو جبری مشقت کی سزا
?️ 3 ستمبر 2022سچ خبریں:میانمار کی ایک عدالت نے اس ملک کی سابق اعلیٰ عہدیدار
ستمبر
مغربی ممالک روس کے ساتھ فوجی تصادم کے خواہاں نہیں
?️ 27 فروری 2024سچ خبریں:فرانس کے صدر نے ایک ملاقات میں اعلان کیا کہ مغربی
فروری
ملک کے 27 معروف یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم دے دیا گیا
?️ 8 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت کی جانب
جولائی