امریکی جنگ کے پاکستان پر اثرات؛ امیر جماعت اسلامی کی زبانی

امریکی جنگ کے پاکستان پر اثرات؛ امیر جماعت اسلامی کی زبانی

?️

سچ خبریں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 2001ء سے قبل پاکستان میں ناخوشگوار واقعات نہیں ہوتے تھے،امریکی وزارت خارجہ کے ایک فون پر جنرل مشرف نے تمام مطالبات مان لیے جس کے نتیجے میں ہماری معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

پشاور میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں، لیکن حکومت کو تعلیم، صحت اور سیکیورٹی کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا مضبوط پاکستانی معیشت کیلئے متحرک کردار ادا کرنے کا عزم

انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا رہا ہے اور سود اور قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، حالانکہ پڑھے لکھے لوگ نظام چلا رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 2001ء سے قبل پاکستان میں ناخوشگوار واقعات نہیں ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک فون پر جنرل مشرف نے تمام مطالبات مان لیے اور بدلے میں ڈالر ملنے کا وعدہ کیا، لیکن وہ ڈالر عوام تک نہیں پہنچے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ضمنی نقصان سے فاصلے بڑھتے ہیں اور خیبر پختونخوا کا بارڈر پہلے محفوظ تھا۔ امن عوام کی ضرورت ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

افغانستان ہمارا برادر ملک ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ قوم ایک اور آپریشن کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دوبارہ الیکشن سودے بازی کی نئی کوشش ہوگی، ملک کو جمہوری رائے سے چلانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ غلطیاں تسلیم کر کے آگے بڑھنے کے لیے ساتھ دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی آئی پی پیز نے ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کی اور اربوں روپے لے لیے۔ 2800 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کے نام پر لینا ظلم ہے۔

تنخواہ دار طبقے نے 375 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جبکہ ہزاروں ایکڑ زمین والوں نے صرف 4 سے 5 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں مگر انہیں سہولت بھی ملنی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فری یونٹ، فری بجلی ختم کرو تاکہ عوام کو یقین آئے کہ آپ سنجیدہ ہیں۔

ہم تاجر، علماء، اور طلبہ سے اتحاد کر رہے ہیں۔ حق دو تحریک کے تحت 26 جولائی کو اسلام آباد میں جمع ہوں گے۔

مزید پڑھیں: عالمی بینک کی 2 پاکستانی منصوبوں کی معاونت کیلئے فنڈز کی منظوری

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی اور بجلی کے ریٹ کم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

انہوں نے چین سے دوستی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا لیکن کہا کہ ہمیں بھکاری نہیں بننا چاہیے۔ آٹا، گھی، چاول، اور دالوں پر ٹیکس لگانا عوام کی خدمت نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی معیشت پر ۱۲ روزہ جنگ کے تباہ کن اثرات

?️ 21 جولائی 2025اسرائیلی معیشت پر ۱۲ روزہ جنگ کے تباہ کن اثرات ایران کی

ایرلینڈ میں صہیونی مصنوعات پر پابندی 

?️ 14 جولائی 2025 سچ خبریں:ایرلینڈ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی

فلسطین الجزائر کا سیاسی قبلہ

?️ 26 اگست 2021سچ خبریں:الجزائر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نےمسئلۂ فلسطین،

ٹرمپ نے عراق کے نامزد وزیر اعظم کو امریکہ کے دورے کی دی دعوت 

?️ 1 مئی 2026 سچ خبریں:عراق کے وزیراعظم مامور ڈاکٹر علی الزیدی نے اعلان کیا

قطر گیٹ اسکینڈل؛ کیا دوحہ کے ڈالرز نے صیہونی پالیسیوں کو خرید لیا؟  

?️ 6 اپریل 2025 سچ خبریں:قطر گیٹ کا معاملہ محض ایک مالی اسکینڈل سے آگے

ہم ناکامی سے ایک قدم دور ہیں: سابق صیہونی وزیر اعظم

?️ 9 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے اعتراف

اسرائیلی کنیسٹ ممبر: نیتن یاہو کا نیا شن بیٹ چیف مقرر کرنے کا ایک اور مقصد ہے

?️ 2 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی کنیسٹ کے ایک رکن نے انکشاف کیا ہے کہ

چیف جسٹس نے آرڈر جاری نہیں کیا تو صدر نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی، جسٹس جمال مندوخیل

?️ 29 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے