غزہ میں پاکستانی افواج بھیجنے کا معاملہ زیر غور، حتمی فیصلہ نہیں ہوا، وزیر دفاع

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غزہ میں افواجِ پاکستان کو بھیجنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنے کی تردید نہیں کی، پروگرام کے میزبان شاہ زیب خانزادہ نے وزیر دفاع سے پوچھا کہ بین الاقوامی میڈیا میں خبریں چل رہیں کہ پاکستانی فوج امن فورس کا حصہ بن کر غزہ جا رہی ہے، اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ میرے دل کے قریب ہے، ان لوگوں کے ساتھ محبت ہے، اگر اسلامی دنیا اس طرح کا کوئی فیصلہ کرتی ہے اور پاکستان اس میں شامل ہوتا ہے، تو یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہوگی کہ ہم اپنے بھائیوں کی حفاظت اور بہتری کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہترین موقع ہے جس کا پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

شاہ زیب خانزادہ نے وزیر دفاع سے پوچھا کہ کیا اس حوالے سے پارلیمنٹ اور اتحادیوں کا اعتماد میں لیا گیا؟ جس کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ یہ چیز ابھی پراسیس میں ہے، فائنل نہیں ہوئی، حکومت اس معاملے کو پراسیس سے گزار کر فیصلہ کرے گی، پارلیمنٹ، اتحادیوں اور اداروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

واضح رہے بھارتی نیوز آؤٹ لیٹ فرسٹ پوسٹ نے سی این این نیوز 18 کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ اعلیٰ خفیہ ذرائع کے مطابق پاکستان غزہ میں 20 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے، ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسرائیلی ایجنسی موساد اور امریکی سی آئی اے کے سینیئر حکام سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کا کردار مغربی ہدایات کے مطابق علاقے کو مستحکم کرنے پر مشتمل ہوگا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے مزید کہا گیا تھا کہ پاکستانی افواج، اسرائیل اور غزہ کی مسلح تنظیموں کے درمیان بفر فورس کے طور پر کام کریں گی، سیکیورٹی تحفظ فراہم کریں گی، جبکہ تعمیرِ نو اور ادارہ جاتی اصلاحات میں مدد فراہم کریں گی۔

مزید کہا گیا تھا کہ فوجی تعیناتی کے بدلے میں امریکا نے پاکستان کو معاشی مراعات دینے کا وعدہ کیا ہے، جن میں ورلڈ بینک قرضوں میں نرمی، ادائیگیوں کی مؤخر تاریخیں اور خلیجی ممالک کے ذریعے مالی معاونت شامل ہے۔

خبر سامنے آنے کے بعد سیاست دانوں اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر تشویش اور تنقید کا اظہار کیا تھا۔

ردِ عمل سامنے آنے کے بعد وزرات اطلاعات نے ایسی خبروں کی سختی سے تردید کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے درمیان کسی مبینہ معاہدے کے تحت غزہ میں امن فوج کے طور پر اپنے دستے بھیجنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

وزارت نے اس خبر کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ، بات چیت یا سمجھوتہ پاکستان کی قیادت، سی آئی اے یا موساد کے درمیان نہیں ہوا۔

بیان میں سی این این نیوز 18 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ادارہ ماضی میں بھی پاکستان مخالف غلط معلومات اور غیر مصدقہ ’انٹیلی جنس ذرائع‘ پر مبنی خبریں شائع کرنے کی تاریخ رکھتا ہے۔

وزارت اطلاعات نے پوری کہانی کو من گھڑت پروپیگنڈا قرار دیا جس کی کوئی حقیقی یا ادارہ جاتی بنیاد نہیں، بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے غزہ میں فوج بھیجنے کی کوئی تجویز پیش کی، نہ اس پر اتفاق کیا اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوئی۔

مشہور خبریں۔

دوحہ امن معاہدے کی روح پامال، افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن گیا

?️ 3 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) افغانستان ایک بار پھر عالمی و علاقائی دہشت

صہیونی فوج نے شیرین ابو عاقلہ کے قتل پر معافی مانگی

?️ 12 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ترجمان نے CNN کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا

جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو وراننگ

?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں:جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے شمالی کوریا کی وزارت دفاع

امریکہ کو نیتن یاہو کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ کیوں قبول نہیں ؟

?️ 25 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب

اپسٹین کیس میں نیتن یاہو کا نام بھی سامنے آ گیا

?️ 5 فروری 2026سچ خبریں:جفری اپسٹین کی فائلوں سے سامنے آنے والی ایک نئی ای

صہیونی حکومت کی ایران کے سامنے بے بسی؛تہران میں موجود المیادین کے رپورٹر کی زبانی

?️ 26 اکتوبر 2024سچ خبریں:تہران میں موجود المیادین کے رپورٹر نے رپورٹ دی ہے کہ

لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعظم کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لئے منظور

?️ 6 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں) ٹی وی پروگرام میں مبینہ طور پر عدلیہ کو تنقید

صیہونی جاسوس یونٹ 8200 کو غیرمعمولی بحران کا سامنا

?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی ریاست کے سابق فوجی افسران نے اعتراف کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے