5 ججز متفق تھے سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا، جسٹس جمال مندوخیل کے دوران سماعت ریمارکس

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس میں کہا ہے کہ 5 ججز متفق تھے سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی،وکیل فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کیخلاف پانچ رکنی بنچ کا ایک نہیں تین فیصلے ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلے لکھے۔ تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا۔ججز کے فیصلے یکساں اور وجوہات مختلف ہوں تو تمام وجوہات فیصلے کا حصہ تصور ہوتی ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تمام 5 ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عزیر بھنڈاری نے انٹراکورٹ اپیل کا دائرہ اختیار محدود ہونے کا موقف اپنایا۔ عزیر بھنڈاری کے مو¿قف سے اتفاق نہیں کرتا۔ عزیر بھنڈاری کا انحصار پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور شاہ کے نوٹ پر تھا۔جسٹس محمد علی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اپیل کا دائرہ محدود کر دیا تو ہماری کئی اپیلیں بھی خارج ہو جائیں گی۔ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ نظرثانی فیصلہ دینے والا جب کہ انٹرا کورٹ اپیل لارجر بنچ سنتا ہے۔ لارجر بنچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا اس لیے پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔ فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ اسی طرح دلائل دیتے رہے تو لگتا ہے آپ کو 3 ماہ تک سننا پڑے گا۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آئینی بینچ آرمی ایکٹ کی شقیں کالعدم قرار دیے بغیر بھی سویلین کا ٹرائل کالعدم کر سکتا ہے۔ سیکشن 94 کے تحت کمانڈنگ افسر کو ملزمان کی حوالگی کا صوابدیدی اختیار درست نہیں۔جسٹس نعیم نے وکیل سے سوال کیا کہ پہلے دن سے پوچھ رہا ہوں اے ٹی سی جج کا ملزم حوالے کرنے کا کوئی باضابطہ حکمنامہ ہے؟۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ حکم نامہ تو ہے لیکن اس میں وجوہات نہیں دی گئیں۔

مشہور خبریں۔

بشار الاسد کی حکومت کے زوال پر شام کے سابق صدارتی میڈیا آفس کے سربراہ کا متنازعہ بیان

?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں:شام کے سابق صدارتی میڈیا آفس کے سربراہ کامل صقر نے

فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے، غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے۔ شرجیل میمن

?️ 20 اگست 2025کراچی (سچ خبریں) رہنما ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے بیان

کھیلوں کی 97 بین الاقوامی تنظیموں نے روسی ایتھلیٹس کی منظوری دی

?️ 2 جولائی 2022سچ خبریں:  ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے لاء فیکلٹی کے سربراہ نے کہا

واٹس ایپ کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی، اشتہارات دکھانے کا اعلان

?️ 21 جون 2025سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنی تاریخ کی

یکم مارچ سے پٹرول مہنگا ہونے کا امکان

?️ 26 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں یکم مارچ سے پٹرول مہنگا

گوگل پر پرائیویسی کی خلاف ورزی کا الزام، عدالت نے 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا حکم دے دیا

?️ 4 ستمبر 2025سچ خبریں: گوگل پر پرائیویسی کی خلاف ورزی کے الزام میں عدالت

ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکی معیشت کے ساتھ کیا کیا؟:امریکی عوام 

?️ 29 اپریل 2025 سچ خبریں:تازہ ترین سی این این سروے کے مطابق 59 فیصد

لیبیا کے انتخابات میں خلیفہ حفتر اور قذافی صیہونی حکومت کے دو اہم آپشن

?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں:خلیفہ حفتر اور قذافی نے تل ابیب کے حکام کو صیہونی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے