5لاکھ روپے سے زائد کے ڈپازٹس غیرمحفوظ ہونے کی خبریں مسترد

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک نے پانچ لاکھ روپے سے زائد کے ڈپازٹس کے غیرمحفوظ ہونے کے حوالے سے خبروں کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ بینک ڈپازٹس بالکل محفوظ ہیں اور فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین کے سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے مالیات اور محاصل کے اجلاس میں دیے گئے بیان کی بنیاد پر ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں 5 لاکھ روپے سے زائد کے بینک ڈپازٹس غیر محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دوٹوک انداز میں واضح کیا جاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مضبوط ضوابطی اور نگرانی کے فریم ورک کے ماتحت پاکستان میں قائم مستحکم بینکاری نظام کے باعث ڈپازٹس محفوظ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بینکاری نظام میں باکفایت سرمایہ موجود ہے، یہ بے حد سیال اور منافع بخش ہے جس میں خالص غیر ادا شدہ قرضوں یعنی خراب قرضوں کی سطح کم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس سیکٹر میں کیلنڈر ایئر 23 کی پہلی ششماہی میں 284 ارب روپے کی بھرپور منافع کا اندراج کیا گیا ہے جو کیلنڈر سال 22 کی پہلی ششماہی سے تقریباً 125 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بلند آمدنی سے بینکوں کا سرمایہ بھی مضبوط ہوا اور شرح کفایت سرمایہ جون 2023 کے آخر تک بڑھ کر 17.8 فیصد ہو گیا جبکہ جون 2022 کے آخر میں یہ 16.1 تھی جو اسٹیٹ بینک کی کم از کم ضروری حد 11.5 اور بین الاقوامی معیار 10.5 سے خاصی زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ادائیگی قرض کی صلاحیت کے بفرز کی بہتری کی وجہ سے بینکاری شعبے کی شدید دھچکے برداشت کرنے کی اہلیت بھی مزید بہتر ہوگئی ہے اور بینکاری نظام کے استحکام کے علاوہ ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن نے تحفظ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہر ڈپازٹر کو 5 لاکھ روپے تک کا انشورنس کور فراہم کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ یہ عمل بہترین بین الاقوامی طور طریقوں اور عالمی رجحانات سے ہم آہنگ ہے، گوکہ اس کا امکان کم ہوتا ہے لیکن دنیا بھر میں بینکوں کی ناکامی کی صورت میں ڈپازٹرز کی رقوم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے نگرانی کی اتھارٹیز اور ڈپازٹ کو تحفظ دینے والی ایجنسیوں کی جانب سے ڈپازٹ کا تحفظ حفاظتی نظام کے کلیدی اجزا میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بینک ناکام ہوجائے تو ڈی پی سی کی جانب سے بیمہ کردہ رقم فوری طور پر ڈپازٹرز کو دستیاب ہوتی ہے، تاہم جب دشواری کا شکار بینک کا ایک ضابطہ کارانہ عمل کے ذریعے تصفیہ ہوتا ہے تو ڈپازٹس کی بقیہ رقوم بھی نکلوائی جاسکتی ہیں البتہ فی الوقت 94 فیصد ڈپازٹرز کو 2016 کے ڈپازٹ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ، روس اور چین ایک ناگزیر تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں:امریکی میگزین

?️ 29 اگست 2022سچ خبریں:جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے تجزیہ کار اور پروفیسر میتھیو گرونک نے

ہر 2 ماہ بعد وزارتوں کی کارکردگی جانچیں گے، اچھے نتائج نہ دینے پر کارروائی ہوگی۔ شہباز شریف

?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہر

چمن بارڈر کو آمد و رفت کے لئے کھول دیا گیا

?️ 3 نومبر 2021چمن (سچ خبریں) چمن چیمبر آف کامرس اور سول ملٹری کے نمائندوں

شام کے خلاف صیہونی حکومت کی سازش؛ فلسطینی مہاجرین کا بڑا بحران

?️ 8 اپریل 2025سچ خبریں:صہیونی ریاست کی شام کے خلاف جارحانہ اور قبضہ گیرانہ کارروائیوں

منظر عام پر آنے والی ویڈیو کا ایک حصہ درست ہے،اعظم سواتی

?️ 7 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی  کے سینیٹر اعظم سواتی نے

جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ احتساب عدالت میں طلب

?️ 9 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں)احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ

ہنٹر بائیڈن: نیتن یاہو جیل سے فرار ہونے کے لیے جنگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے

سیلاب کے پانی میں کمی، سندھ میں 98 فیصد رقبہ گندم کی فصل کی کاشت کیلئے تیار

?️ 31 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سندھ کے جن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے