47 فیصد ٹیکس عوامی مفاد پر خرچ ہوتے نظر نہیں آتے، سروے

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ایک عالمی سروے سے پتا چلتا ہے کہ ٹیکس دہندگان جو مخصوص خدمات کے بدلے ٹیکس ادا کرنے پر رضامند ہوتے ہیں، لیکن صرف ایک تہائی آبادی اپنے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو عوامی منصوبوں پر لگتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سروے میں حصہ لینے والے 52 فیصد افراد اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکس، لاگت کے بجائے کمیونٹی کے لیے ایک شراکت کے طور پر استعمال ہوتی ہے لیکن 25 فیصد اس بات سے متفق نہیں ہیں اور اس معاملے میں باقی جواب دہندگان غیر جانبدار رہے۔

تاہم صرف 33 فیصد اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ان کے ملک میں ٹیکس محصولات عوامی بھلائی کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں جب کہ سروے میں حصہ لینے والے 46 فیصد افراد اس سوال سے متفق نہیں تھے اور باقی غیر جانبدار رہے۔

اس کے علاوہ، سروے میں شامل 32 فیصد افراد اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ عوامی خدمات اور انفرااسٹرکچر پر استعمال ہوتی ہے، تاہم 50 فیصد افراد اس بات سے متفق نہیں تھے اور باقی غیر جانبدار رہے۔

ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (اے سی سی اے)، انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (آئی ایف اے سی)، انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (آئی ایف اے) اور آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کی جانب سے پہلی بار مشترکہ طور پر کی گئی تحقیق میں دنیا کے مختلف خطوں میں آبادی کے لحاظ سے کچھ بڑے ممالک کا سروے کیا گیا، جس میں لاطینی امریکا پر گہری توجہ مرکوز کی گئی۔

سروے میں مختلف ثقافتوں اور معیشتوں کا احاطہ کیا گیا۔ 2024 کے سروے میں شامل سوالات اور ممالک دونوں لحاظ سے یہ کام کے حوالے سے اب تک اہم توسیع کی نشاندہی کرتی ہے۔

لاطینی امریکا پر توجہ مرکوز کرنے سے خطے میں مالیاتی معاہدوں کے لیے کمزور حمایت کی نشاندہی ہوتی ہے، صرف 47 فیصد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ٹیکس ایک شراکت ہے جب کہ صرف 25 فیصد اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کی وجہ سے عوامی منصوبے اور بنیادی انفرااسٹرکچر بہتر ہوتا ہے۔

اے سی سی اے کی چیف ایگزیکٹو ہیلن برانڈ او بی ای کہتی ہیں کہ ’پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے ٹیکس کے نظام پر اعتماد بہت ضروری ہے، اور اس سروے کے نتائج ان چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں جو دنیا بھر میں بہت سی حکومتوں کو اس کی تعمیر میں درپیش ہیں‘۔

او ای سی ڈی سینٹر فار ٹیکس پالیسی اینڈ ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر منال کورون نے کہا کہ ہم اس اہم تحقیق پر اے سی سی اے اور آئی ایف اے سی میں شامل ہونے پر خوش ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے نتائج اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ مالیاتی معاہدے کی حمایت نظریاتی طور تو بہتر ہے لیکن عملی طور پر یہ بہت سے لوگوں تک نہیں پہنچ رہی، ہم ان نتائج کو اس بات کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں ٹیکس کے نظریہ اور عمل دونوں میں اعتماد کو کیسے بحال کیا جائے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے سلسلہ میں صیہونیوں کی احمقانہ پالیسی

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ نے غزہ کے حوالے سے تل ابیب کی

ناصر باغ لاہور کی شناخت ہے ، اسے کیوں چنا گیا ، اسے چھیڑنے سے پہلے دس بار سوچنا چاہئے تھا‘لاہور ہائیکورٹ

?️ 19 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کے حوالے سے درخواستوں

خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کو حقوق دیں گے۔ فیصل کریم کنڈی

?️ 23 جنوری 2026پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ

جاپان کی خاتون وزیرِاعظم، خواتین سیاست دانوں کے زوال کے سال میں ایک نمایاں استثنی

?️ 14 دسمبر 2025 جاپان کی خاتون وزیرِاعظم، خواتین سیاست دانوں کے زوال کے سال

ابومازن کی غزہ کے خلاف سازش

?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے اپنی ویب سائٹ پر ایک خصوصی

امریکی یمن سے خوفزدہ؛ وجہ؟

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: امریکی اہلکار نے المانیتور سے بات چیت میں اس بات

بائیڈن کے الفاظ متنازعہ بنے

?️ 8 جنوری 2023سچ خبریں:   امریکی صدر جو بائیڈن جو اپنی زبانی گفتار کے لیے

غزہ کے خلاف صیہونیوں کی تازہ ترین جارحیت

?️ 2 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونیوں نے غزہ کے شمالی علاقوں پر توپ خانے اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے