قاضی فائز عیسٰی کا 28 صفحوں کا اختلافی نوٹ میری شہرت داغدار کی گئی

قاضی فائز عیسی

?️

اسلام آباد {سچ خبریں}  قاضی فائز عیسیٰ ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کے کیس کے حوالے سے کا 28 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا۔ اس اختلافی نوٹ میں قاضی فائز عیسی نے کیس کے فیصلے میں 20 اعتراضات اٹھا دیے۔
اختلافی نوٹ میں قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ’جج کسی غیر قانونی کام کا نوٹس لے سکتا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے میری شہرت کو داغدار کیا۔‘
’اٹارنی جنرل سمیت کسی فریق نے میری ذات پر اعتراض نہیں کیا، چیف جسٹس کی جانب سے مجھے جانب دار کہنا افسوسناک ہے۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم کے بیان پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا، بظاہر وزیراعظم کا بیان غیر آئینی تھا۔‘
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے مطابق ’غیر متوقع طور پر کیس کو ختم کر دیا گیا اور ایک جج کو آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے روکا گیا۔‘
’دو رکنی بینچ نے عوامی مفاد یقینی بنانا چاہا مگر اسے روک دیا گیا اور چیف جسٹس نے نیا بینچ تشکیل دے دیا۔‘
ان کے مطابق ’میں نے چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط لکھا کہ ایک جج کا حلف اسے اپنی صلاحیتوں اور صداقت سے فیصلے کرنے کا پابند کرتا ہے۔‘
’میرے لیے عدالتی فیصلہ تکلیف دہ تھا، اگر اختلافی نوٹ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس کیس کو بدعنوانیوں کو روکنے کی کوشش کے طور پر لیا گیا، پھر ایک جج کی سرزنش اور روک تھام کے ساتھ رشوت ختم ہوئی۔‘
’میں نے استعفیٰ پیش کرنے پر غور کیا، پھر مجھے یاد آیا کہ یہ کسی جج اور اس کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں نہیں۔‘
جسٹس فائز عیسیٰ کے مطابق ’اس سے کہیں زیادہ اہم چیز آئین، لوگوں کے حقوق ہیں، کیس کے جاری کیے گئے فیصلے میں غیر قانونی کام کیے گئے۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم کے بیان پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا، بظاہر ان کا بیان غیر آئینی تھا‘ (فوٹو: روئٹرز)
’کیس سننے والے دو رکنی بینچ کو بتائے بغیر چیف جسٹس نے نیا بینچ تشکیل دے دیا، کیس سننے والے جج جسٹس مقبول باقر کو نئے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ساتھی ججز سے مشاورت کے بغیر مجھے وزیراعظم سے متعلق مقدمات سننے سے روک دیا گیا، مجھے بھیجے بغیر بینچ میں شامل جونیئر جج کو فیصلے کی کاپی بھیج دی گئی۔‘
 ’مجھے بتائے بغیر کیس کا فیصلہ ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا، فیصلے پر ایک جج کے دستخط نہیں اس لیے کیس ختم نہیں ہوا۔‘
فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ ’بینچ میں شامل جج کے دستخط کے بغیر فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں، ایک جج کو کام سے روکنے سے متعلق فیصلے  کا پیراگراف 6 غیر آئینی ہے۔‘
’کیس کے فیصلے کا پیراگراف 6 اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، فیصلے کا پیراگراف 6 عدلیہ کو نیچا دکھانے کے مترادف اور جج کے حلف نامے کے برخلاف ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کھلی عدالت میں این اے 65 میں پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے جاری فنڈز کی دستاویزت پیش کی گئیں، دستاویزات کو چیک کیے بغیر معاملہ ختم کر دیا گیا۔‘
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’کیس سننے والے دو رکنی بینچ کو بتائے بغیر چیف جسٹس نے نیا بینچ تشکیل دے دیا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
’وزیراعظم کے خلاف مقدمہ نہ سننے کا مطلب ہے جج صرف نجی کیسز سن سکتا ہے، جانب داری کا الزام عمران خان خود لگا سکتے تھے اٹارنی جنرل ان کے ذاتی وکیل نہیں۔‘
ان کے مطابق ’آئین کسی جج کو دوسرے جج کے دل میں جھانک کر جانب داری کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتا، وزیراعظم کے صرف آئینی اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔‘
’آرٹیکل 248 وزیراعظم کو عہدے کے غلط استعمال یا غیر قانونی کام پر استثنیٰ نہیں دیتا، سینیٹ الیکشنز سے قبل وزیراعظم نے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا کہا۔‘
فائز عیسیٰ کے اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ووٹوں کی خرید و فروخت کا کہہ رہی ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ تین ججز بھی بینچ میں شامل تھے۔‘
’پانچ رکنی بینچ کی تشکیل اور جسٹس مقبول باقر کو شامل نہ کرنے پر اعتراض کیا تھا، ریکارڈ کے مطابق چیف جسٹس کے زبانی حکم پر پانچ رکنی لارجر بینچ بنایا گیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کرپٹ پریکٹس کے خلاف کیس شروع ہوا، کرپٹ پریکٹس پر شروع ہونے والا مقدمہ ایک جج کی تضحیک اور پابندی پر ختم ہوا۔‘

مشہور خبریں۔

واشنگٹن پوسٹ: قطر پر اسرائیل کے حملے نے امریکی حمایت پر عربوں کا اعتماد متزلزل کردیا

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ

مصر کی سرحد پر فوجی سرگرمیوں سے صہیونی خوفزدہ 

?️ 18 فروری 2026مصر کی سرحد پر فوجی سرگرمیوں سے صہیونی خوفزدہ صہیونی ذرائع کے

اسحاق ڈار سے آسٹریلوی ہم منصب کا رابطہ، پاک بھارت کشیدگی اور سیز فائر بارے تبادلہ خیال

?️ 12 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے آسٹریلوی

ہم نے پٹرول کی قیمت کو بڑھایا اور کئی مشکل اقدام اٹھائے لیکن آئی ایم ایف پھر بھی نہیں مان رہا۔رانا ثنااللہ

?️ 10 جولائی 2022فیصل آباد: (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ

کیا سعودی اور صیہونی ایک بار پھر قریب ہو رہے ہیں؟بائیڈن کیا کہتے ہیں؟

?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں: امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ تل ابیب کے ساتھ

صیہونی غزہ میں انسانی امداد کیوں نہیں آنے دے رہے ہیں؟

?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں: ایک انتہا پسند صہیونی جماعت کے سربراہ نے غزہ کے

مصر کے چرچ میں خوفناک آتشزدگی؛41 افراد ہلاک

?️ 15 اگست 2022سچ خبریں:مصری سکیورٹی ذرائع نے اس ملک کے ایک چرچ میں آگ

انسانی حقوق کے معاملے میں امریکہ کا دوہرا معیار

?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:مبصرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امریکہ انسانی حقوق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے