?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اپوزیشن میں ہوں اور حکومت میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،27ویں آئینی ترمیم نہیں آسکے گی، بھرپور مزاحمت کریں گے۔
میڈیا کے مطابق چنیوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اچھا وقت گزارا، وہ غیر متنازع چیف جسٹس کے طور پر عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں، ہم انہیں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور نئے چیف جسٹس کو خوش آمدید اور مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قوم کو انصاف دلوانے میں ان کی مدد فرمائے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ اب پارلیمان کا ایک کردار سامنے آگیا ہے تو عدلیہ پر اٹھنے والے سوالات کا راستہ بند ہوجائےگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے وسائل پیدا کرنے کی ضرورت ہے، وسائل بڑھیں گے تو مسائل کم ہوں گے، ملک میں معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایس سی او کانفرنس کے موقع پر ہم نے فریقین سے اپیل کی احتجاج کریں نہ آئینی ترمیم کا مسئلہ چھیڑیں تاکہ قوم ایک یکجہتی دکھاسکے اور کانفرنس کے شرکا کے سامنے تنازعات کے بجائے یکجہتی کی خبر جائے اور ان کا اعتماد بحال ہو۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم نہیں آسکے گی، بھرپور مزاحمت کریں گے، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ سود کے خاتمے کا فیصلہ عدالتی معاملہ ہے، شریعت کورٹ نے سود کے خاتمے کیلیے 31 دسمبر 2027 تک کا وقت دیا تھا، پہلے شریعت کورٹ کا فیصلہ ایک درخواست سے اڑ جاتا تھا لیکن اب سپریم کورٹ میں سنا جائے گا، اگر سپریم کورٹ ایک سال تک فیصلہ نہ دے سکی تو شریعت کورٹ کا فیصلہ خود بخود موثر ہوجائے گا۔
انہوں نے کہاکہ حکومتیں احتجاج اور مظاہرے نہیں کیا کرتیں اور نہ احتجاج اور مظاہروں میں مداخلت کرتی ہیں، پھر یہ کہنا کہ میں وفاق پر چڑھائی کروں گا، میں پنجاب پر چڑھائی کروں گا، یہ تصور خود ملک کو تقسیم کرنے کے در پے ہے، ایک صوبے کو وفاق کے مقابلے پر لانا یا صوبے کو صوبے کے مقابلے میں لانا غیر سیاسی سوچ کا مظہر ہے، یہ لوگ سیاسی نہیں ہیں اس لیے ایسی باتیں کرجاتے ہیں، ہم نے تو 15 ملین مارچ کیے لیکن ایک پتہ بھی نہیں ٹوٹا، ہمارے مظاہروں میں تو ٹریفک بھی نہیں رکا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن غلط ہوئے ہیں اور دوبارہ ہونے چاہئیں، اب دیکھیں بات کب تک چلتی ہے، ہم تو اپنے نظریے پر قائم ہیں۔
26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو مسودہ فائنل ہوا اس سے کیا کامیابی ملی خود اندازہ لگالیں، 26ویں آئینی ترمیم کی 56 شقیں تھیں، اصل ڈرافٹ کچھ اور تھا، جو فائنل ہوا اس میں فرق ہے۔
مولانافضل الرحمٰن نے کہا کہ جلسے اور جلوس پر تشدد اور سیاسی کارکنان کی گرفتاری کے قائل نہیں، آئینی بحران کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، انہوں نے کہاکہ ہم اصولی طور پر کسی سیاستدان کے خلاف مقدمات کے بھی قائل نہیں۔


مشہور خبریں۔
حکومتِ سندھ کراچی کو پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ شہر بنانے کیلئے پُرعزم ہے۔ شرجیل میمن
?️ 23 دسمبر 2025کراچی (سچ خبریں) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے
دسمبر
بحر اوقیانوس: ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان خلیج واضح ہو رہی ہے
?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: دی اٹلانٹک میگزین نے رپورٹ کیا ہے کہ صیہونی حکومت
مئی
بھارت اور پاکستان کے درمیان براہِ راست مذاکرات ضروری ہیں:روس
?️ 4 جون 2025سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پاکستانی وزیر اعظم کے معاون
جون
قومی اسمبلی اجلاس: عطاتارڑ اور پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک کے درمیان ہاتھا پائی
?️ 5 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نشریات
نومبر
فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر معاشی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، وزیراعظم
?️ 11 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے وزارتوں کی
جولائی
صنفی امتیاز میں اضافہ، وفاقی حکومت کا صوبائی ٹاسک فورس فعال بنانے کا حکم
?️ 29 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں صنفی امتیاز کی شرح میں مزید
مئی
قیام امن کیلئے افغانستان کے ساتھ بامعنیٰ مذاکرات کیے جائیں، حافظ نعیم الرحمٰن
?️ 18 نومبر 2024باجوڑ: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا
نومبر
یمن کے خلاف امریکی بحری اتحاد کی ناکامی کی وجہ
?️ 24 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی سائٹ دی وار زون نے جو عسکری امور کے میدان
دسمبر