190 ملین پاؤنڈز کیس: ملک ریاض کی منجمد اثاثے بحال کرنے کی درخواست پر سماعت ملتوی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کیس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی درخواست پر سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔

ملک ریاض اور علی ریاض کے وکیل فاروق ایچ نائیک احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروا دیا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہیڈ کوارٹر سے مجھے صرف جواب جمع کروانے کی ہدایت تھی، میں اس کیس میں دلائل نہیں دے سکتا اس کیس میں دوسری ٹیم نے دلائل دینے ہیں میرا اختیار نہیں ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جس نے دلائل دینے تھے، ان کو آج عدالت پیش ہونا چاہیے تھا۔

احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ 16 اپریل کو دلائل ہوں گے اور فیصلہ بھی اسی دن ہوگا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 19 مارچ کو 190 ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملے پر نیب سے رپورٹ طلب کرلی تھی۔

دورانِ سماعت فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ منجمند اثاثوں میں اسکول بھی شامل ہیں جو ملک ریاض وغیرہ کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔

جج نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا تھا کہ اس معاملے میں آپ کیا کہیں گے؟ جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جو ٹیم 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی پیروی کر رہی ہے وہ آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کردے گی۔

واضح رہے کہ یکم دسمبر 2023 کو نیب کی جانب سے ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس کے بعد 4 دسمبر کو احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈز کا القادر ٹرسٹ ریفرنس سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض، وزیر اعظم کے سابق معاونین خصوصی مرزا شہزاد اکبر اور زلفی بخاری اور دیگر تین افراد کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔

7 دسمبر 2023 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ملزمان ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ذولفی بخاری، فرحت شہزادی اور ضیا المصطفی نسیم کو عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔

8 دسمبر کو ملزمان ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، مرزا شہزاد اکبر، زلفی بخاری، فرحت شہزادی اور ضیا المصطفیٰ نسیم کو عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے اشتہاری قرار دیے جانے کے بعد ان کے اشتہار جاری کردیے تھے۔

6 جنوری کو احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کے القادر ٹرسٹ ریفرنس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سمیت ریفرنس کے 6 شریک ملزمان کو اشتہاری اور مفرور مجرم قرار دے دیا تھا۔

8 جنوری کو عدالت نے 190ملین پاؤنڈز ریفرنس میں اشتہاری 6 ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے تھے، اور نیب نے 6 اشتہاری ملزمان کے اثاثوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کرادی تھیں، عدالت نے ملزمان کے ملکیتی اثاثے منجمند کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔

20 جنوری کو القادر ٹرسٹ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے حکم نامے کے تحت ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے کی تمام جائیدادیں، گاڑیاں اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دئیے گئے تھے۔

حکمنامے میں درج تمام جائیدادیں، گاڑیاں اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے تھے، ملک ریاض کی منجمد گاڑیوں میں لینڈ کروزر، بی ایم ڈبلیو شامل ہیں۔

مشہور خبریں۔

عرب ممالک ترکی میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کر رہے ؟

?️ 30 ستمبر 2025سچ خبریں:ترکی کی عرب ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششیں

پاکستان چینی باشندوں کو بہترین سیکیورٹی کی فراہمی کیلئے پُرعزم ہے، دفتر خارجہ

?️ 5 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں

افغانستان میں مسلسل دو دھماکے، متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️ 15 مارچ 2021کابل (سچ خبریں)  ایک طرف جہاں امریکہ اور طالبان کے مابین امن

آئندہ 2 سے 4 روز میں ٹکٹوں کا فیصلہ ہوجائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی

?️ 28 دسمبر 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا

ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کا دورہ ترکی

?️ 4 جنوری 2024سچ خبریں:ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی ایک اعلی سطحی سیاسی اور

اسلام آباد میں سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر 25 مقامات پر پولیس چوکیاں قائم

?️ 27 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد پولیس نے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات

غزہ میں 6 اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی دریافت

?️ 29 اگست 2024سچ خبریں: عبرانی زبان بولنے والے ذرائع نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج

وفاقی حکومت کا سیلاب زدہ علاقوں میں اگست کے وصول کردہ بل واپس کرنے کا اعلان

?️ 14 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے