?️
(سچ خبریں)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہماری جماعت کا اپنا وجود، اپنا تشخص، اپنا مؤقف ہے اور ہم اب بھی ان (حکومت) سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں فوری طور پر الیکشن چاہئیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ چلا گیا پھر بھی قوم کو وہ امانت واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس کے لیے ہم نے جدوجہد کی ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی نظام میں خامیاں ہیں، اس میں دوبارہ دھاندلی کے امکانات ہیں تو وقتی طور پر انہی اسمبلیوں کا فائدہ اٹھا کر انتخابی اصلاحات کرلیں تا کہ اس گند کا صفایا ہوسکے کہ ہم گدلے پانی سے تو نکلے لیکن دوبارہ گدلے پانی میں نہ اتریں بلکہ شفاف پانی میں اتریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حد تک ہم اپنے مؤقف پر اسی طرح قائم ہیں، اقتدار کو طول دینا اور غیر ضروری طول دینا یہ شاید جے یو آئی ف کا مؤقف نہ ہو، اس پر ہم اپنی رائے رکھیں گے بھی اور ان کے سامنے ہماری رائے بالکل واضح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو نئی حکومت بنی ہے وہ زیادہ سے زیادہ ایک سال کی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ جب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس آئی ہے اب جلسے میں امریکا مخالف باتیں اور خط کا نام نہیں لیتا، ایمان تو اتنا سا ہے ان کا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان جو سفید کاغذ لہراتا ہے یہ اس کاغذ کا رنگ ہی نہیں ہے جو سفیر بھیجا کرتے ہیں، اس کے الفاظ بھی تبدیل کیے ہیں، خوامخواہ اسے ہوا بنانے کی کوشش کی۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ یہ چیزیں راز کی بھی ہوتی ہیں، حلف اٹھایا ہے کہ میں حکومتی راز باہر نہیں نکالوں گا لیکن پھر نکالے بھی اور جھوٹ بول کر نکالے تو اس قسم کے بے احتیاط لوگ ریاست کے مفاد اور ضروریات کو نہیں دیکھتے۔
خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 11 اپریل کو اپنے منصب کا حلف اٹھایا تھا لیکن اتحادی جماعتوں کی جانب سے حکومت کا حصہ بننے سے گریز کے باعث اب تک وفاقی کابینہ کا اعلان نہیں ہوسکا۔
حکومتی ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو رہے، تاہم انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ حکومتی اتحادی رہیں گے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے صدر کے عہدے کا مطالبہ کیا تھا اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور آزاد رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو ایک ایک وزارت دینے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے آصف علی زرداری سے ناراضی کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ ان جماعتوں یا افراد کو دو وزارتیں کیوں دی گئیں جنہوں نے جے یو آئی (ف) کے خلاف الیکشن لڑا تھا اور وہ آئندہ انتخابات میں بھی ان کی پارٹی کو نقصان پہنچائیں گے۔
تاہم آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ وہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے کیونکہ وہ اس اتحاد میں ایک ’ضامن‘ تھے جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف بنایا گیا تھا جس نے کامیابی سے عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے سابق وزیراعظم عمران خان کو عہدے سے ہٹا دیا۔


مشہور خبریں۔
ایرانی سائنسداں کے قتل کے بارے میں برطانوی اخبار کا انکشاف
?️ 11 فروری 2021سچ خبریں:ایک برطانوی ہفتہ وارجریدے نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں خفیہ
فروری
امریکہ سے ہندوستان کا بڑھتا ہوا فاصلہ
?️ 8 ستمبر 2025سچ خبریں: نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ یہ تصور رکھ سکتا
ستمبر
عصر حاضر کے انسانی مصائب میں سب سے بڑا کردار مغربی تہذیب کا ہے:شیخ الازہر
?️ 2 جون 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار سے ملاقات میں شیخ الازہر
جون
اپوزیشن جماعتیں انتشار پھیلا کر ذاتی ایجنڈے کی تکمیل چاہتی ہیں: بزدار
?️ 27 جون 2021لاہور ( سچ خبریں) پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا کہنا
جون
ہندوستان اور پاکستان تنازعے کی باریک لکیر— محدود جنگ یا مکمل جنگ؟
?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: سب سے پہلے یہ اہم سوال اور درحقیقت تشویش سامنے
مئی
نوجوانی سے جوانی تک صیہونی جیلوں میں رہنے والی فلسطینی لڑکی کی آپ بیتی
?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں: 24 سالہ فلسطینی لڑکی مرا باکر نے جھوٹے الزامات کے
دسمبر
ترکی میں 6 فروری کو آنے والے زلزلے کے بعد 13 ہزار آفٹر شاکس
?️ 5 مارچ 2023سچ خبریں:ترکی کے ہنگامی اور غیر متوقع واقعات کے محکمے نے اس
مارچ
متحدہ عرب امارات یمن میں اپنے سیاسی عزائم کو دولت اور عزائم کے لیے وقف کر رہا ہے
?️ 4 ستمبر 2021سچ خبریں:متحدہ عرب امارات نے یمن میں سیاسی اور دولت کا تنازعہ
ستمبر