کابل ائیرپورٹ کے قریب دھماکے پر وزیر داخلہ کا بیان سامنے آگیا

شیخ رشید

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ پاکستان شیخ رشید احمد نے کابل ائیرپورٹ کے قریب ہونے والے دو دھماکوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ کابل ائیرپورٹ کے قریب دھماکے کس نے کیے، لیکن ممکن ہے کہ یہ دھماکے داعش نے کیے ہوں۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ داعش اور کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان میں نورستان کی پہاڑیوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ وہاں بیٹھ کر یہ دونوں تنظیمیں افغانستان میں بد امنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان سے بات کی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو اب کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان میں استعمال کرنے میں مشکل ہو گی۔ بھارت کافی عرصے سے کالعدم ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے واضح اعلان کیا ہے کہ 31اگست کے بعد غیر ملکیوں کو افغانستان میں رہنے کی بالکل بھی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور اتحادی 10ستمبر تک توسیع کے خواہاں تھے۔

انہوں نے چین کی پاکستان سے ناراضگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تمام خبریں بے بنیاد ہیں، چین ہم سے ناراض نہیں ہے۔ واضح ہے کہ امریکا اور برطانیہ کے کابل کے ہوائی اڈاے کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کی وارننگ کے دو دن کے اندر ہونے والے دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد 30سے تجاوزکر گئی ہے ادھرامریکی وزارتِ دفاع کے ترجمان جان کیربی نے دھماکے میں امریکی فوجی اور سویلین شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی .انہوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے دروازے کے علاوہ قریب واقع ہوٹل کے قریب بھی دھماکہ ہوا ہے جہاں امریکی اور برطانوی اہلکار اور سویلین شہری مقیم ہیں ادھر برطانیہ کی امورِ خارجہ اور قومی سلامتی کی حکمت عملی پر کمیٹیوں کی رکن ایلیشیا کیئرنز نے کا ہے کہ بیرن ہوٹل کے قریب ہونے والے دھماکے میں بھی کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں اس ہول میں برطانوی حکام افغانستان سے انخلا کے قابل برطانوی اور افغان شہریوں کی جانچ پڑتال کا عمل ہو رہاتھا انہوں نے بھی ہوٹل میں ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی .

کابل میں موجود برطانوی نشریاتی ادارے کے نمائندے نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر دھماکے کے مقام کی جو ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں ان میں لاشوں کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں اس لیے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ درست ہے فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے مطابق افغانستان کی صورتحال بہت بگڑ رہی ہے انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اس طرف جا رہی ہے کہ جہاں سے پھر ہم بھی اسے کنٹرول نہیں کر سکیں گے فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے اردگرد صورتحال بہت خطرناک ہے .برطانیہ کی وزارت داخلہ نے کہاکہ دھماکے کی اطلاع کے بعد وجوہات کے تعین کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ہم ہنگامی طور پر کابل میں کیا ہوا اور انخلا کی کوششوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے اس کا تعین کر رہے ہیں . برطانوی وزارت داخلہ نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح اپنے عہدیداروں برطانیہ اور افغانستان کے شہریوں کی سلامتی ہے ہم اپنے امریکی اور نیٹو اتحادیوں سے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ واقعے پر فوری امدادی کام کیا جائے .

مشہور خبریں۔

اہل خانہ کے انتقال کے بعد گھر اور گاڑیاں گئیں توایک خاندان نے گھر میں پناہ دی، فلم اسٹار لیلیٰ

?️ 5 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) ماضی کی مقبول اور گلیمرس فلمی ہیروئن لیلیٰ نے

اسرائیل کا شام کے اہم علاقے میں ریڈار نظام نصب کرنے کا منصوبہ

?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: مطلع ذرائع نے بتایا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے گزشتہ

نیوز ویک: امریکہ کے پاس یورپ سے انخلاء کا کوئی روڈ میپ نہیں ہے

?️ 6 مئی 2025سچ خبریں : امریکی ہفت روزہ نیوز ویک نے لکھا ہے: واشنگٹن

ٹرمپ کا ایشیائی مشن؛ امن قائم کرنا، دولت کمانا یا سیاسی مہم جوئی؟

?️ 27 اکتوبر 2025سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کی جزوی بندش کے باوجود مشرقی ایشا

پیوٹن برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان پہنچے

?️ 11 ستمبر 2026سچ خبریں: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن دو روزہ دورے پر ہندوستان

ہسپانوی میڈیا: ٹرمپ آبنائے ہرمز میں کیوں ڈوب گئے؟

?️ 31 مئی 2026سچ خبریں: ایک ہسپانوی میڈیا نے ایک تنقیدی مضمون میں کہا کہ

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 17 ارب 89 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں

?️ 20 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے جاری

سری لنکا کے مستعفی صدر کی وطن واپسی

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:سری لنکا کے ایک سینئر سکیورٹی عہدہ دار نے جولائی میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے