?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تو خود کہا کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر بات کریں، سیاسی مذاکرات کا معاملہ 2014 سے بند گلی ہیں، مذاکرات کیلئے ڈیڈلاک کو ختم کرنا چاہیئے، بانی پی ٹی آئی چاہتے کہ پارلیمنٹ ، ٹاک شوز سے انقلاب آجائے، دنیا میں کبھی ایسے انقلاب نہیں آیا۔
انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف جوڈیشری سائیڈ پر گفتگو ہو، ججز کو نہیں ان کے فیصلوں کو بولنا چاہیے، لیکن دوسری طرف پارلیمنٹ میں تقاریر ہوں، وزیراعظم اس حوالے سے فکرمند ہیں، جوڈیشری کے ساتھ حکومت کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا، ہم کیوں ان کے ساتھ مقابلہ کریں، ججز کا اور ان کے فیصلوں کا احترام ہونا چاہیئے، حکومت 6 ججز کے خط میں رکاوٹ ہے اور نہ سپریم کورٹ کے نوٹس میں حائل میں ہے، سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی اس کے مطابق حکومت عملدرآمد کرائے گی۔
عدلیہ کے معاملات پر مسلم لیگ ن اور وزیراعظم بالکل عدم دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے، جو بھی پس پردہ معاملہ ہو اس کو پبلک نہیں ہونا چاہیے۔ 6 ججز کے خط میں آج یا مستقبل کا ذکر نہیں بلکہ ماضی کی بات ہے، میرا خیال ہے کہ 6 ججز کے خط پر مستقبل کا کوئی لائحہ عمل بن جائے تاکہ کوئی ادارہ دوسرے میں مداخلت نہ کرے،اس سے پہلے عدلیہ بھی دوسرے اداروں یا ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں بڑی مداخلت کرتی رہی ہے، یہ بھی سب کے سامنے ہے۔
موجودہ صورتحال میں جس طرح معاملات چل رہے ہیں یہ صورتحال چلنی نہیں چاہیئے۔ موجودہ صورتحال میں بڑا کردار بانی پی ٹی آئی کا ہے کہ سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کو تیار نہیں ہے، اگر وہ تیار ہوتے تو 2018 میں بھی کوئی حل نکل سکتا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے ادارے کے ترجمان ہیں، انہوں نے واضح کہا کہ ہمارے ساتھ کیوں بات کرنی ہے؟ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو آپس میں بیٹھ کر بات کرنی چاہئے۔
وہ خود کہتے ہیں کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر بات کریں۔ سیاسی مذاکرات کا معاملہ 2014سے بند گلی ہیں، 2014 سے عمران خان کو سیاستدان اہمیت ملی ہے، ان کو معلوم ہوا کہ ان کی ایک سے زیادہ سیٹیں ہیں، تب سے وہ کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کسی سے بات نہیں کروں گا۔عمران خان چاہتے کہ پارلیمنٹ ، ٹاک شوز یا پریس کانفرنس سے انقلاب آجائے، دنیا میں کبھی ایسے انقلاب نہیں آیا، انقلاب لانا ہے تو پارلیمنٹ سے باہر آئیں اور 20 سال جدوجہد کریں، اس کے برعکس جمہوری طریقے میں بیٹھ کر بات کی جاتی ہے۔ پاکستان کی بہتری کیلئے ہمیں مذاکرات کیلئے ڈیڈلاک کو ختم کرنا چاہیئے۔


مشہور خبریں۔
کیا عمران خان رہا ہونے والے ہیں؟
?️ 20 جون 2024سچ خبریں: شیخ رشید نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی
جون
کوپ-27 کے ’لاس اینڈ ڈیمیج‘ فنڈ پر عملی اقدامات ضروری ہیں، وزیراعظم
?️ 2 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ کانفرنس میں ترقی
دسمبر
فواد چوہدری کا کالعدم تنظیم کےاراکین کی مزید گرفتاریوں کا عندیہ
?️ 29 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کالعدم تنظیم
اکتوبر
محتدہ عرب امارات کی یوکرین بحران کو کم کرنے کی کوشش
?️ 10 اگست 2023سچ خبریں: جدہ اجلاس کے ذریعے یوکرین کے بحران کو حل کرنے
اگست
ہواوے کی اسمارٹ واچ خریداری کیلئے پیش کر دی گئی
?️ 6 مئی 2021بیجنگ( سچ خبریں) ہواوے کی اسماٹ واچ ایک ایسی واچ ہے جسے
مئی
آر ایس ایس کا نظریہ بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے
?️ 26 فروری 2023سرینگر: ( سچ خبریں) غیر قانونی
فروری
صیہونی دھمکیوں پر ایران کا رد عمل
?️ 20 دسمبر 2021سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران نے خبر دار کیا ہے کہ اگر غیر
دسمبر
لاہور ہائیکورٹ کا سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تمام اسکولوں کو پک اینڈ ڈراپ دینےکا حکم
?️ 22 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تمام
نومبر