?️
لاہور(سچ خبریں) ہفتے کو سیشن کورٹ میں پیشی سے قبل پی ٹی آئی کے دو صوبائی وزرا سمیت دیگر ایم این ایز اور ایم پی ایز نے جہانگیر ترین کے عشائیہ میں شرکت کی تھی جس کے پی ٹی آئی کے کچھ سینئر رہنماوں نے جہانگیر ترین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وزیر اعظم سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھڑے پارٹی کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے باضابطہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کو درخواست پیش کی ہے کہ ’جہانگیر ترین کو نشانہ نہ بنانے‘ سے متعلق ایک نکاتی ایجنڈے پر ان سے ملاقات کرلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا واحد ایجنڈا اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جہانگیر ترین کو ہدف نہ بنایا جائے انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین نے خود متعدد مرتبہ بیان دیا کہ وہ کسی بھی تفتیش سے خوفزدہ نہیں ہیں لیکن انوسٹی گیشن ٹیم جانبدار رہے اور بیک ڈور سے ہدایت پر عمل پیرا نہ ہو۔
پی ٹی آئی کے 31 ایم این ایز اور ایم پی ایز نے وزیر اعظم کو اجلاس کے لیے ارسال کی گئی درخواست پر دستخط کردیے ہیں اور صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان احمد نے اس کی تصدیق کی ہے۔
پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کبھی بھی کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے انہوں نے مزید کہا کہ قبل ازیں پی ٹی آئی کے متعدد ایم پی ایز نے عثمان بزدار کی زیر قیادت حکومت پنجاب کے خلاف اپنے تحفظات کے اظہار کے لیے وزیر اعظم سے ملاقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیر اعظم نے انہیں موقع نہیں دیا تھا بلکہ دسمبر 2019 میں وزیر اعلیٰ کے سیکریٹریٹ میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ان کی سرزنش کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم جہانگیر ترین کے خلاف درج مقدمات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا نہیں ہے جو ان پر پارٹی مخالف ہونے کا الزام لگے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین، وزیراعظم کے اچھے دوست ہیں جنہوں نے ہر آزمائش میں عمران خان کی مدد کی تھی انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ان کے لیے کوئی دباؤ یا کوئی سخت تبصرہ نہیں ہے۔
جہانگیر ترین کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اگلی سماعت کی تاریخ میں پورا ایک ہفتہ ہے۔
جہانگیر ترین کے ساتھ رابطے میں رہنے والے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حکومتی کارکردگی پہلے ہی شکست سے دوچار ہے اور اگلے انتخابات کے دوران داخلی سطح پر جھگڑا پارٹی کے مسقتبل کے لیے خطرناک ہے۔
وزیراعلیٰ کے مشیر عبدالحی دستی نے کہا کہ اہم عہدوں پر فائز غیر منتخب لوگ پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وزیر اعظم کو اس صورتحال کا احساس کرنا چاہیے۔
دوسری جانب گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور نہ ہی پی ٹی آئی کی حکومت جہانگیر ترین کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ’دو نہیں ایک پاکستان‘ کا وعدہ پورا کررہی ہے جہاں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
جرمن فوج جنگ میں دو دن رہتی سے زیادہ نہیں رہ سکتی
?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں:جوہان وڈپول نے خبردار کیا کہ برلن سے کیف تک اسلحہ
نومبر
سندھ طاس معاہدے کی معطلی، پاکستان کی بھارت کیخلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی شروع کرنے کی تیاری
?️ 30 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی
اپریل
ایران اردن کا نجات دہندہ
?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں:سیاسی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اس بات پر
جولائی
مریم نواز کا رحیم یار خان میں سیلاب سے متاثرہ علاقے کا دورہ، متاثرین کیلئے 10 ،10 لاکھ کا اعلان
?️ 14 ستمبر 2025رحیم یار خان (سچ خبریں) مریم نوازشریف نے رحیم یار خان میں
ستمبر
عمران خان کی نااہلی پر احتجاج، سینیٹر فیصل جاوید سمیت 7 پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ
?️ 22 اکتوبر 2022اسلام آباد 🙁سچ خبریں) اسلام آباد کی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف
اکتوبر
ایران کے ساتھ معاہدہ ہماری ترجیح ہے: ٹرمپ
?️ 4 جون 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ
جون
ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں 101 ارب روپے شارٹ فال کا سامنا
?️ 1 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن کا شارٹ
نومبر
صیہونی حکومت کی یمن کو روکنے کی نئی کوشش
?️ 18 مارچ 2025 سچ خبریں:انصار اللہ کے رہبر عبدالملک الحوثی کی جانب سے اسرائیلی
مارچ