پی اے سی کی مختلف وزارتوں میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے 58 ارب روپے کی اقتصادی گرانٹس کے ختم ہونے پر بحث کی اور اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا اور مختلف وزارتوں میں اسی طرح کی مالی بے ضابطگیوں کو نوٹ کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ ہر سال 31 مئی تک فنڈز سرنڈر کیے جاتے ہیں۔ تاہم پی اے سی کے چیئرمین جنید اکبر نے تجویز پیش کی کہ فنڈز اس سے پہلے سرنڈر کیے جانے چاہئیں۔

کمیٹی کے رکن ثنااللہ خان مستی خیل نے مالیاتی انتظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت سے زیادہ فنڈز مانگنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تقرریاں اکثر میرٹ کے بجائے جانبداری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔

چیئرمین جنید اکبر خان نے پی اے سی میں تین نئی ذیلی کمیٹیاں بنانے کا اعلان کیا۔ پہلی ذیلی کمیٹی کی صدارت طارق فضل چوہدری کریں گے اور ثنااللہ خان مستی خیل، رانا قاسم نون اور حنا ربانی کھر اس کی رکن ہوں گی۔

دوسری ذیلی کمیٹی کی صدارت سید نوید قمر کریں گے جس کے ارکان شبلی فراز، شزرہ منصب اور معین عامر پیرزادہ ہوں گے۔ تیسری ذیلی کمیٹی کی صدارت ملک عامر ڈوگر کریں گے جس کے ارکان شازیہ مری، ریاض فتیانہ اور افنان اللہ خان ہوں گے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے فنانس ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات، خاص طور پر گرانٹس کے لیپس ہونے اور ضمنی گرانٹس کی مختص کرنے سے متعلق اعتراضات کا جائزہ لیا، جو مبینہ طور پر ابتدائی بجٹ سے دگنے سے زیادہ تھے۔

ریاض فتیانہ نے سوال کیا کہ کیا صوبائی واجبات پر آڈٹ اعتراضات اٹھائے گئے؟

کمیٹی نے ضمنی گرانٹس کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا اور مزید سخت طریقہ کار تجویز کیا۔ ریاض فتیانہ نے تجویز پیش کی کہ اگر ایک فیصد سے زیادہ فنڈز سرنڈر ہوگئے یا ضائع ہوگئے تو متعلقہ سیکریٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

پی اے سی نے مالی سال 23-2022 کے دوران باضابطہ پالیسی کی منظوری کے بغیر ملازمین کو اعزازیہ کی ادائیگیوں میں 2.4 ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات کا بھی جائزہ لیا۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ ادائیگی نقد میں کی گئی۔

سیکریٹری خزانہ نے ادائیگیوں کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسی طرح کے اعزازیہ مختلف وزارتوں میں دیے گئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی پالیسی وضع کر لی گئی ہے جسے منظوری کے لیے کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے ساتھ تصادم بہت قریب ہے: صہیونی میڈیا

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:رپورٹر تل لیو رام نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے

2 ججز بینچ سے علیحدہ، 7 رکنی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کردیا

?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں

ایس سی او اجلاس کی میزبانی کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، وزیر اعظم

?️ 16 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) شنگھائی تعاون تنظیم کے آج ہونے والے 23

ہم نے حماس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے:انتہاپسند صیہونی وزیر کا اعتراف   

?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:صیہونی ریاست کے انتہا پسند اور مستعفی وزیر نے اعتراف

فلسطینی نسل کشی کے حوالے سے عالمی برادری کی ذمہ داریاں

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں:ایک بیان میں، عراقی وزیر اعظم کے دفتر نے اعلان کیا

سپریم کورٹ نے اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکال دیا

?️ 4 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاق دارالحکومت میں عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر

حزب اللہ کے کمانڈر علی کرکی کو صیہونی کئی سال سے کیوں تلاش کر رہے تھے؟

?️ 30 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے کمانڈر علی کرکی کی شہادت کے بعد

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

?️ 2 اپریل 2024پشاور: (سچ خبریں) سینیٹ کی 30 خالی نشستوں پر پولنگ کا عمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے