پنجاب میں عوامی شکایات نظر انداز بیوروکریٹس کو حکومت کا انتباہ

وزیر اعظم عمران خان

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے صوبہ پنجاب میں عوامی شکایت کو نظر انداز کرنے یا ان پر کارروائی میں تاخیر یا ان پر کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر بیوروکریٹس کے افسران حکومت کے نشانے پر ہیں اور حکومت کی جانب سے انباہی خطوط اور نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔

دفتر وزیراعظم کے مطابق پاکستان سٹیزن پورٹل پر عوامی شکایات کی طرف غیر تسلی بخش ردعمل یا کارروائی نہ کرنے پر مذکورہ افسران کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز اور انتباہی خطوط جاری کیے گئے۔

ایک سرکاریہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پنجاب کے اطلاعات، زراعت، ایکسائز اور آبپاشی کے سیکریٹریز سے ان کی کارکردگی بہتر بنانے کا کہا گیا ہے، مزید یہ کہ کابینہ کے اجلاس میں کچھ وفاقی وزرا کی جانب سے نشاندہی پر وزیراعظم کی جانب سے سرکاری افسران کی نااہلی کا نوٹس لیا گیا جس کے بعد کارروائی کا آغاز ہوا۔

اسی اثنا میں پنجاب کے چیف سیکریٹری جواد رفیق نے ایک ہزار 586 افسران کے ڈیش بورڈز کی جانچ پڑتال مکمل کی اور وزیراعظم کے ڈیلوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 263 افسران کو انتباہی خطوط، 7 کو اظہار وجوہ کے نوٹسز اور 833 افسران کو مستقبل میں احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی گئی جبکہ 111 افسران سے وضاحت طلب کی گئی۔

مزید برآں لاہور، گجرات اور شیخوپورہ سمیت 20 ڈپٹی کمشنرز کو خطوط لکھے گئے جبکہ رائیونڈ، جھنگ، بورےوالا، صادق آباد، ننکانہ صاحب اور پنڈی غیب سمیت 43 اسسٹنٹ کمشنرز کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے گیے۔

افسران کو ان کی کارکردگی بہتر بنانے کا کہتے ہوئے دفتر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انتباہی خطوط جاری کرنے کا مقصد انہیں خبردار کرنا تھا۔

دفتر وزیراعظم نے کہا کہ ’وزیراعظم کے وژن کے مطابق لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں‘۔

پی ایم ڈی یو کے مطابق دفتر وزیراعظم اور آرگنائزیشنز کی سطح پر نامزد فوکل پرسنز کے لیے 50 سے زائد بریفنگ سیشنز منعقد کیے گئے، اس کے علاوہ ’شکایات اور تجاویز سے نمٹنے کے لیے صارفین کی گائیڈلائنز مینول‘ اچھی طرح سے تیارہ کردہ مسودہ اور متعدد مشورے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئے۔

تاہم ابتدائی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ مینول میں درج ہدایات کے مطابق نہ تو شکایات سے نمٹنا گیا اور نہ ہی مناسب سطح پر کوئی فیصلہ لیا گیا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ شہریوں کی شکایت پر ردعمل کا میعار ظاہر کرتا ہے کہ نظام کو ماتحتوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا گیا، جس میں اکثر فیصلے انہیں کی جانب سے لیے گئے۔

اس میں نشاندہی کی گئی کہ بہت سے حل شدہ شکایات میں خط/نوٹیفکیشن/تصویر کی کمی تھی جبکہ کچھ غلط درخواستوں پر چھوڑ دی گئیں، مزید یہ کہ بہت سی کا غیرمجاز سطح پر فیصلہ کیا گیا اور شکایت کنندہ کو صرف جواب دینے میں غیرضروری وقت ضائع کیا گیا۔

پی ایم ڈی یو نے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرل پولیس سے کہا تھا کہ 20 ویں تک یا اس سے اوپر کے افسر کی سربراہی میں ایک مخصوص کمیٹی کی تشکیل کے ذریعے ٹارگڈڈ افسران کے ڈیش بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، کمیٹی کو کہا گیا تھا کہ وہ مذکورہ افسران کے ڈیش بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیں، خامیوں اور اچھی اور بری کارکردگی کے حامل افسران کی نشاندہی کریں۔

مشہور خبریں۔

صیہونی فوجی حکام کی ایران کے خلاف جنگی دھمکیاں

?️ 8 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونی فوج کے چیف آف اسٹاف اور وزیر جنگ نے

حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مضبوط ہو رہی ہے:صدر مملکت

?️ 13 مارچ 2021کراچی (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ

سلامتی کونسل کو اب مسئلہ  فلسطین کے حوالے سے فیصلہ لینا پڑے گا:وزیر خارجہ

?️ 25 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

الاقصیٰ طوفان کے بعد حماس کے اثر و رسوخ میں اضافہ

?️ 22 دسمبر 2023سچ خبریں:سی ان ان نے خبر دی ہے کہ امریکی انٹیلی جنس

سپریم کورٹ فیصلوں میں آزادہے: چیف جسٹس پاکستان

?️ 20 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہےکہ ’کبھی

صیہونی حکومت کے جرائم میں امریکہ برابر کا شریک

?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ الدرج کے

چیئرمین نیب جسٹس( ر) جاوید اقبال کا نیب لاہور بیورو کا دورہ

?️ 10 مئی 2022لاہور(سچ خبریں)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس( ر) جاوید اقبال نے منگل

فلسطینی پناہ گزینوں کے ٹینٹوں پر صیہونی بمباری پر امریکہ کا ردعمل!!

?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایک دن کی تاخیر کے بعد آج صبح امریکی سلامتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے