?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے پاور ڈویژن کو گریڈ 16 سے گریڈ 22 تک کے سرکاری افسران کے لیے مفت بجلی کی سہولت بند کرنے کی ہدایت کردی۔
اس اقدام سے قومی خزانے کو سالانہ 9 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے وزارت توانائی (پاور ڈویژن) اور اس سے منسلک اداروں کی آڈٹ رپورٹ 22-2021 کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم پی اے سی کے اس فیصلے کی حمایت کے لیے وزیراعظم کو بھی خط لکھیں گے جس سے خزانے کو سالانہ 9 ارب روپے سے زیادہ کی بچت ہوگی۔
نور عالم خان نے کہا کہ ’ان افراد کے شاہانہ انداز سے زندگی گزارنے کے دن اب گئے، اگر پارلیمنٹیرین اپنی جیب سے بجلی کے بل ادا کرتے ہیں تو ججوں اور جرنیلوں کے لیے بھی مفت بجلی کی سہولت بند ہونی چاہیے‘۔
یہ ہدایت وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کے سیکریٹری راشد محمود لنگڑیال کے اس انکشاف کے بعد سامنے آئی کہ رواں مالی سال کے جون تک بجلی کے نقصانات 5 کھرب 90 ارب روپے سے زیادہ ہوں گے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ لائن لاسز، بجلی کی چوری اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں ناکامی، توانائی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات میں سے کچھ وجوہات ہیں۔
پاور ڈویژن کو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے نور عالم خان نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض کا ایک بڑا حصہ توانائی کے شعبے کو دیا گیا۔
چیئرمین پی اے ایس کا کہنا تھا کہ ’ہم قرضوں کی رقم توانائی کے شعبے میں ڈالتے رہتے ہیں، جو کہ ایک گڑبڑ ہے، ابہم نے پاور ڈویژن سے لائن لاسز کو کنٹرول کرنے کے لیے کہا ہے‘۔
انہوں نے راشد محمود لنگڑیال کو مبینہ بدعنوان اہلکاروں کے خلاف انکوائری کرنے کے لیے ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) کا اجلاس منعقد کرنے اور پی اے سی کے کیسز کو قومی احتساب بیورو (نیب) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔
پی اے سی نے وفاقی سیکریٹری کو کمیٹی کے دوبارہ اجلاس تک انکوائری مکمل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دے دیا۔ سوال کے جواب میں وفاقی سیکریٹری نے پاور ڈویژن میں اقربا پروری کو بے ضابطگیوں کی وجہ قرار دیا۔
آڈٹ پیراز میں نمایاں ہونے والی کچھ بڑی تضادات میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) میں 23 ارب روپے کی بولی کی خرابی کی وجہ سے ٹھیکوں کا بے قاعدہ ایوارڈ، لیسکو، پیسکو، میں 2 ارب 81 کروڑ روپے کی بجلی کی چوری، کیسکو اور سیپکو، ریونیو افسران کی جانب سے بجلی کے بلوں کی غلط رپورٹنگ سے ایک ارب 20 کروڑ روپے اور ایک ارب روپے سے زائد کے الیکٹریکل آلات کی غیر ضروری خریداری کی وجہ سے فنڈز میں رکاوٹ سے ہونے والے نقصانات شامل ہیں۔
کمیٹی نے خصوصی اقتصادی زون (ایس ای سیز) میں دھابیجی پراجیکٹ شروع کرنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں 95 کروڑ 80 لاکھ روپے کا فنڈ ضائع ہوا اور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرراشد محمود کو انکوائری کرنے کی ہدایت کی کہ بھاری رقم کے ضائع ہونے کی وجوہات کا پتا لگا کر پی اے سی کو رپورٹ کریں۔


مشہور خبریں۔
1948 کے بعد سے پہلی بار بنی براک ایرانی میزائلوں کی زد میں
?️ 18 جون 2025 سچ خبریں:صہیونی خاخاموں کے تمام دعوؤں کے باوجود 1948 کے بعد
جون
ٹرمپ 24 فیصد منفی مقبولیت کے ساتھ تاریخ کے نامقبول ترین صدر
?️ 29 مئی 2026 سچ خبریں:دی اکنامسٹ میگزین اور یوگوو ادارے کے مشترکہ سروے کے
مئی
سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کا بل منظور
?️ 12 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ میں پی ٹی آئی سینیٹرز کے احتجاج
دسمبر
لبنان کا اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل میں نئی شکایت درج کرانے کا فیصلہ
?️ 5 فروری 2026سچ خبریں:چنے جنوبی سرحدی دیہات کی زرعی زمینوں پر زہریلے مادے چھڑکنے
فروری
نئے برطانوی وزیر خارجہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا
?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: برطانوی وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات ہونے کے بعد ڈیوڈ
جولائی
جرمن لوکوموٹیو یونین کی طویل ترین ہڑتال کا آغاز
?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں:جرمن ٹرین ڈرائیور یونین کی جانب سے اب تک کی سب
جنوری
ایران کے پاسچر انسٹی ٹیوٹ کی تباہی علاقائی صحت کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے: بقائی
?️ 22 مئی 2026 سچ خبریں: اسماعیل بقائی، ترجمان وزارت امور خارجہ ایران، نے امریکہ
مئی
سعودی تکنیکی ٹیم کی تہران آمد
?️ 9 اپریل 2023سچ خبریں:سعودی ٹیکنیکل ٹیم تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشہد میں اس
اپریل