?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک افغان سرحد کی بندش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت متعدد اہم صنعتیں بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 11 اکتوبر کو سرحد بند ہونے سے دونوں ممالک کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، مختلف کاروباری افراد اس صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو پاکستان کی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا۔
کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بارڈر بند ہونے سے افغانستان سے پاکستان میں آنے والی اسمگل شدہ چیزوں میں بھی کمی ہو گی۔
سیمنٹ اور کوئلہ
ایک سیمنٹ کمپنی کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان سے کوئلے کی درآمد اور افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد دونوں رک گئی ہیں، اس وجہ سے مقامی کوئلہ مہنگا ہو کر 30 سے 32 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 42 سے 45 ہزار روپے فی ٹن ہو گیا ہے، افغان کوئلہ بھی پہلے 30 سے 38 ہزار روپے فی ٹن میں مل رہا تھا، لیکن اب بالکل دستیاب نہیں۔
جنوبی پاکستان کے کارخانے پہلے ہی باہر سے کوئلہ خرید کر استعمال کر رہے تھے، لیکن شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں کا زیادہ تر انحصار افغان کوئلے پر تھا، اب وہ بھی مجبوری میں جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور موزمبیق سے کوئلہ منگوانے لگے ہیں۔
سیمنٹ کی صنعت کو کوئلہ بہت زیادہ مقدار میں چاہیے ہوتا ہے، تقریباً 40 لاکھ ٹن سالانہ۔ کارخانوں نے ایران کے راستے سیمنٹ برآمد کرنے یا کوئلہ منگوانے کے خیال کو مسترد کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سسٹم موجود نہیں اور اتنی بڑی مقدار میں کوئلہ اس راستے سے لانا بھی ممکن نہیں، افغانستان پاکستان کی مجموعی سیمنٹ برآمدات کا تقریباً 7 فیصد حصہ خریدتا ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ڈی جی خان سیمنٹ نے بتایا کہ اس وقت درآمدی کوئلہ 90 سے 100 ڈالر فی ٹن کے درمیان مل رہا ہے اور بارڈر بند ہونے کے باعث کمپنی اسی درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی رہے گی، کیونکہ افغان کوئلہ استعمال نہیں ہو رہا، کچھ سیمنٹ کمپنیاں آر بی 2 نامی درمیانی کوالٹی کا کوئلہ بھی درآمد کر رہی ہیں، جو قیمت کے لحاظ سے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔
انسائٹ ریسرچ کے مطابق سیمنٹ کی وہ کمپنیاں جن کی زیادہ برآمدات افغانستان جاتی تھیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں چیراٹ سیمنٹ، فوجی سیمنٹ اور میپل لیف شامل ہیں، ان کی افغانستان کو برآمدات بالترتیب 9.8 فیصد، 5.8 فیصد اور 3.1 فیصد آمدنی پر مشتمل تھیں۔
ادویات
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو کل 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر صرف ادویات پر مشتمل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی چینلز کے ذریعے ادویات کی برآمد، قانونی چینلز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ افغان خریدار وہیں آ کر ادویات خرید کر لے جاتے ہیں۔
برآمد کنندگان اپنی یونٹس میں تیار شدہ ادویات کے اسٹاک کے جمع ہونے پر پریشان ہیں، جو بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں، اگر صورتحال برقرار رہی تو ادویات کو مقامی مارکیٹ میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن افغانستان کے لیے تیار کی گئی بہت سی ادویات پاکستان میں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سیریل پاکستان نے بتایا کہ اگر بارڈر پورے سال بند رہے تو اس کی افغانستان کو برآمدات پر 2 ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔
انسائٹ ریسرچ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد بار بارڈر بندش کے باوجود، صورتحال اس وقت سنگین ہو چکی ہے کیونکہ افغانستان نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر 3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے، پانچ بڑی فارما کمپنیوں کی افغانستان کو برآمدات ان کی مجموعی آمدنی کا 1.9 فیصد سے 8.1 فیصد تک بنتی ہیں، جب کہ چند کمپنیوں کی ایکسپوژر 1 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک ہے۔
پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر قاضی زاہد حسین کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے تقریباً 700 سے 750 کنٹینرز چمن پر اور 350 سے 400 کنٹینرز طورخم بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں۔
اسی طرح 9 ہزار سے زیادہ کنٹینرز مختلف پاکستانی بندرگاہوں پر کلیئر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ان میں سے 500 سے زائد کنٹینرز آرمیینیا، آذربائیجان اور قازقستان جیسے CIS ممالک بھیجے جانے تھے، جو اب تاخیر کا شکار ہیں۔
سبزیاں اور پھل
آل پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ پاکستان سیزن کے دوران افغانستان کو کیلا، آلو، کینو اور آم برآمد کرتا ہے، جب کہ سی آئی ایس ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی افغان روٹس استعمال ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق افغانستان اور سی آئی ایس ممالک کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سالانہ 15 کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، ساتھ ہی پاکستان افغانستان سے ٹماٹر، پیاز، انار، انگور اور خوبانیاں بھی درآمد کرتا ہے۔
دو طرفہ تجارت رکنے کے بعد برآمدکنندگان کو خراب ہونے والے پھل اور سبزیاں مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچنے یا خراب ہونے کی صورت میں ضائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا، ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے وزارت قومی غذائی تحفظ میں اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا۔
تاہم، برآمدکنندگان کو ایران روٹ استعمال کرنے کے لیے بینکوں سے مالیاتی اسناد درکار ہیں، جو فی الحال جاری نہیں ہو رہیں۔
پی اے جے سی سی آئی کے صدر جنید مکڈا نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 19 نومبر کو ایران اور CIS ممالک کے لیے ایران کے راستے برآمدات میں اسناد کی شرط ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
انہوں نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد پاکستانی ڈرائیور افغانستان میں ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، کئی گاڑیاں حملوں کا نشانہ بھی بنی ہیں، جب کہ ڈرائیور خوراک، پیسے اور رہائش کی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
کراچی ویلفیئر فروٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبد القدیم آغا نے بتایا کہ اب افغانستان کی بجائے زیادہ تر انار ایران سے آ رہے ہیں، جس کی قیمت 2 ہزار سے 2 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار سے 4 ہزار 500 روپے فی 10 کلو کارٹن ہو گئی ہے، کوئٹہ اور بلوچستان سے سپلائی تقریباً بند ہے۔
ایرانی سیب اور انگور بھی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جن کی قیمت 2 ہزار سے 3 ہزار روپے فی 10 کلو کارٹن ہے، روزانہ 15 سے 20 کنٹینرز ایرانی پھلوں کے آ رہے ہیں۔
گھی، کوکنگ آئل، آٹا
پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ تجارت بند ہونے سے پہلے باقاعدہ چینلز کے ذریعے 6 ہزار سے 8 ہزار ٹن گھی ماہانہ افغانستان برآمد کیا جا رہا تھا، جب کہ کوکنگ آئل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے سابق چیئرمین عامر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 سالوں میں پاکستان سے افغانستان بہت ہی کم مقدار میں آٹا جا رہا تھا، پاکستان افغانستان کو گندم برآمد نہیں کرتا، افغانستان اپنی گندم کا زیادہ تر حصہ روس، ترکمانستان اور قازقستان سے خریدتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت میں ہم افغانستان کی مارکیٹ بھی کھو چکے ہیں اور زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی انتباہی پروگرام کی تکنیکی ناکامی / ہزاروں صیہونیوں کو انتباہی پیغامات موصول ہوئے
?️ 26 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ نے "سنگین وارننگ” پروگرام کی تکنیکی
جون
غزہ کی آگ میں جل رہے صیہونی ٹینک
?️ 15 نومبر 2023سچ خبریں: القسام بٹالین کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے آڈیو پیغام
نومبر
سویڈن کی جانب سے ترکی دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے الزامات کی تردید
?️ 26 مئی 2022سچ خبریں: سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن نے بدھ کے روز
مئی
کیا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر ہر سیاسی جماعت ناکام ہے؟ شاہد خاقان عباسی کی زبانی
?️ 7 جولائی 2024سچ خبریں: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فارم
جولائی
سعودی عرب کا منسوغ نہیں ہوا:بائیڈن
?️ 7 جون 2022سچ خبریں:امریکی صدر نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ وہ ممکنہ طور
جون
پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافے کا رجحان جاری، ڈالر مزید ایک روپے 8 پیسے سستا
?️ 11 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) روپے کی قدر میں اضافے کا رجحان جاری ہے،
اکتوبر
صیہونیوں میں یمن کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت کیوں نہیں ؟
?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: عرب دنیا کے ممتاز تجزیہ نگار نے صہیونی دشمن کے
مئی
آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو مسترد کردیا
?️ 17 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر آصف علی زرداری نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل
مئی