?️
تین طرفہ مہلک رقابت،واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو کے درمیان ایٹمی دوڑ کا نیا دور
اگر ایٹمی طاقتوں کے درمیان تجربات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گی ایسا دور جس میں عدم اعتماد، خوف اور ہتھیاروں کی دوڑ غالب ہوگی، اور ممالک اپنی سلامتی کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کو واحد راستہ سمجھیں گے۔ اس سے عالمی توازن مزید کمزور اور انسانیت کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سوویت یونین کے زوال کے بعد یہ گمان پیدا ہوا تھا کہ ایٹمی رقابت کا دور ختم ہو گیا ہے، مگر آج حالات تیزی سے پلٹ رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حیران کن فیصلے نے، جس کے تحت انہوں نے تین دہائیوں بعد دوبارہ ایٹمی تجربات شروع کرنے کی ہدایت دی، بین الاقوامی سطح پر ایک نئی اور خطرناک ہتھیاروں کی دوڑ کا آغاز کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے وزارتِ دفاع کو ہدایت دی کہ “امریکہ دیگر طاقتوں کے برابر رہنے کے لیے فوری طور پر تیاری کرے۔ انہوں نے کہا میں نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں امریکہ کے ایٹمی ذخیرے کی مکمل نوسازی کی، اگرچہ مجھے ان ہتھیاروں سے نفرت ہے، مگر کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
امریکہ کا آخری ایٹمی تجربہ ستمبر 1992 میں نیواڈا میں ہوا تھا، جس نے کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے تجربات کا اختتام کیا۔ تاہم اب ٹرمپ کے نئے حکم نے اس تسلسل کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اعلان کیا کہ ماسکو نے ایک جدید ایٹمی آبدوز اژدر پوسائیڈن کامیابی سے آزما لیا ہے۔ یہ خودکار ہتھیار بیک وقت سمندری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی نظام نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب، نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین بھی ممکنہ طور پر زیرِ زمین ایٹمی تجربات کی تیاری کر رہا ہے تاکہ دنیا کو واضح پیغام دے کہ اگر دیگر ممالک تجربات دوبارہ شروع کریں گے تو چین بھی پیچھے نہیں رہے گا۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بیجنگ اور ماسکو دونوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ چین نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایٹمی تجربات پر عالمی پابندی کا احترام کرے اور عالمی عدمِ پھیلاؤ کے نظام کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔
روس کی پارلیمانی کمیٹی برائے بین الاقوامی امور کے سربراہ لئونید سلوتسکی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کیے تو یہ “خطرناک زنجیری ردِعمل” پیدا کرے گا جو عالمی سلامتی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے۔
سابق امریکی وزیرِ توانائی ارنست مونیز کے مطابق، حتیٰ کہ ایک نمائشی ایٹمی تجربہ کرنے کے لیے بھی کم از کم ایک سال کی تیاری درکار ہوگی۔ماہرِ ایٹمی سلامتی کوری ہنڈر اسٹائن نے کہا کہ اس کے لیے نئی کھدائی اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوگی جس پر تقریباً 100 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ماہر پال ڈکمن کے مطابق، امریکہ کو ایسے تجربات کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت تلاش کرنے میں بھی مشکلات پیش آئیں گی۔
کارنیگی انسٹیٹیوٹ کے ماہر آنکِت پانڈا نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرتا ہے تو روس اور چین بھی اسی راستے پر چل پڑیں گے، اور اس طرح ایٹمی عدمِ پھیلاؤ کا پورا نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔
ٹرمپ کے فیصلے نے دنیا کو ایک نئی سرد جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں طاقت کی بنیاد اب اقتصادی یا سیاسی نہیں بلکہ ایٹمی برتری پر ہوگی۔ واشنگٹن روس اور چین کو نہ صرف جغرافیائی حریف بلکہ اپنی عالمی قیادت کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔
روس اور چین تیزی سے اپنی ایٹمی اور ہائپر سونک صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں، جب کہ اسلحہ کنٹرول کے عالمی معاہدے جیسے “نیو اسٹارٹ” بھی تناؤ کے باعث خطرے میں ہیں۔
تحقیقی ادارہ SIPRI کے مطابق، اس وقت امریکہ کے پاس 5177، روس کے پاس 5459 اور چین کے پاس تقریباً 500 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں جو 2035 تک 1500 تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کو کئی بار تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
روس کے قومی سلامتی کے سیکرٹری سرگئی شویگو نے واضح کیا کہ ماسکو کے ایٹمی ٹیسٹ مراکز ہمیشہ تیار ہیں، جب کہ دیمتری پسکوف نے کہا: “اگر کوئی طاقت پابندی توڑتی ہے تو روس بھی ایسا کرے گا۔”
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مغربی رہنما نے روس کو جوہری ہتھیاروں استعمال کرنے سے خبردار کیا
?️ 22 ستمبر 2022سچ خبریں: مغربی ممالک کے رہنماؤں نے بدھ کے روز روسی
ستمبر
ایران سے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے: واشنگٹن پوسٹ
?️ 28 جون 2025سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ نے فرید زکریا کے قلم سے ایک رپورٹ
جون
خانیوال سانحہ: وزیر اعظم کی ذمہ داروں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت
?️ 13 فروری 2022لاہور(سچ خبریں) صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال سانحہ میں مشتعل ہجوم کے
فروری
اقوام متحدہ کی طالبان کے وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان کی اجازت
?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ نے اجازت دی ہے کہ طالبان کے ایلچی آئندہ
مئی
انتخابات حق خود ارادیت کا ہرگز متبادل نہیں، کشمیری تحریک آزادی کیخلاف بھارتی سازشوں سے ہوشیار رہیں، حریت کانفرنس
?️ 13 ستمبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
ستمبر
قاہرہ نے تل ابیب سے مصری فوجیوں کی اجتماعی قبر کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کیا
?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں: مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اسرائیلی وزیر اعظم یائر
جولائی
تل ابیب کا بن گورین ہوائی اڈہ بند
?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں جاری کشیدگی کے باعث بن گورین ایئرپورٹ
نومبر
عاصم منیر پہلے فیلڈ مارشل ہیں جنہیں وائٹ ہاوس میں بلایا گیا۔ فیصل کریم کنڈی
?️ 19 جون 2025پشاور (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا
جون