امریکی وزیرِ جنگ کا عراق کو انتباہ کا اصلی ہدف حزب اللہ لبنان

امریکی وزیر جنگ

?️

امریکی وزیرِ جنگ کا عراق کو انتباہ کا اصلی ہدف حزب اللہ لبنان
 الجزیرہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ جنگ پیت ہگسٹ نے اپنے عراقی ہم منصب ثابت العباسی کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ عراق کی مسلح تنظیمیں امریکہ کی کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں مداخلت نہ کریں۔ رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کی اس ممکنہ کارروائی کا اصل ہدف حزب اللہ لبنان ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، اس گفتگو نے عراق میں سیاسی اور عوامی سطح پر کافی بحث و تکرار پیدا کر دی ہے۔عراقی وزیراعظم کے مشیر عائد الهلالی نے کہا کہ یہ پیغام کوئی براہِ راست دھمکی نہیں بلکہ ایک سخت سیاسی انتباہ ہے، جس کا مقصد عراق کے اندرونی استحکام کو برقرار رکھنا اور انتخاباتی عمل کے قریب کسی سیکیورٹی بحران سے بچنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بغداد اس وقت نہایت حساس مرحلے میں ہے، جہاں سیاسی و سیکیورٹی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ عراقی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرے، لیکن ساتھ ہی اپنی داخلی خودمختاری اور توازن کو بھی برقرار رکھے۔
الہلالی کے مطابق، امریکہ براہِ راست جنگ نہیں چاہتا بلکہ غیر مستقیم دباؤ کے ذریعے عراق کے اندر سرگرم گروہوں کے سیاسی کردار کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ جنگ کے بیانات اعلانِ جنگ نہیں بلکہ عراق میں امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہیں۔
عراقی سیاسی تجزیہ کار حیدر البرزنجی نے کہا کہ وزیرِ دفاع عراق کے بیانات حیران کن ہیں۔ یہ افسوسناک ہے کہ ایک آزاد ملک کے وزیرِ دفاع یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ امریکہ انہیں ہدایت دے رہا ہے کہ عراقی گروہ امریکی آپریشنز میں مداخلت نہ کریں — حالانکہ یہ گروہ خود عراق کے شہری اور ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کی خود پسندی اور بالادستی کی واضح مثال ہے۔ وہ عراق کو اب بھی ایک تابع ملک سمجھتے ہیں۔ امریکہ اس طرح بات کرتا ہے جیسے اجازت لینے کے بجائے صرف اطلاع دے رہا ہو  گویا عراق کی فضائی خودمختاری اور آزادی اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
البرزنجی نے مزید کہا کہ وزیرِ دفاع عراق کو چاہیے تھا کہ وہ امریکی وزیرِ جنگ کو صاف الفاظ میں جواب دیتے کہ عراق ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، جب تک عراق اپنا جدید فضائی دفاعی نظام اور ریڈار نیٹ ورک قائم نہیں کرتا، اس کی خودمختاری ادھوری رہے گی۔
الجزیرہ کے مطابق، تہران میں سیاسی ماہرین اس امریکی انتباہ کو دراصل ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے لیے ایک غیر مستقیم پیغام سمجھتے ہیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اکتوبر 2023 کے بعد سے محورِ مقاومت کے گروہوں پر مسلسل حملے جاری ہیں۔
اگرچہ یہ پیغام بظاہر عراقی گروہوں کے لیے ہے، لیکن بعض ایرانی مبصرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی ممکنہ کارروائی کا اصلی ہدف حزب اللہ لبنان ہو سکتا ہے  وہی تنظیم جس کی عسکری طاقت امریکہ اور اسرائیل دونوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے۔
کرد نژاد تجزیہ کار صلاح الدین خدیو کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ سال کی جنگ اور اس کے بعد ہونے والے حملے حزب اللہ کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور نہیں کر سکے۔ اسی لیے اب ایک نئی سطح پر فوجی دباؤ اور ممکنہ کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ امریکی یا اسرائیلی کارروائی کا دائرہ شاید ایران یا یمن تک نہ پھیلے، لیکن عراق اور شام میں موجود ایران کے حامی گروہوں کے سبب خطرہ موجود ہے کہ یہ کشیدگی ان ممالک کے اندر تک پھیل سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

فلسطینی مجاہدین کے ہاتھوں صیہونی جاسوس ڈرون کا انجام

?️ 10 اپریل 2021سچ خبریں:فلسطینی میڈیا نے فلسطینی مزاحمتی فورسز کی فائرنگ کے بعد اسرائیلی

اسرائیل اور داعش کا مشترکہ ہدف شام کے بحران کو طول دینا ہے: بسام الصباح

?️ 29 اپریل 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے بسام صباغ نے اعلان کیا

عراقی انٹیلی جنس چیف کے شام کے دورے کے پس پردہ پیغامات

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں: شام کے خود ساختہ حکمران ابو محمد الجولانی سے عراق

سعودی حکومت کو امریکی انٹیلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ کم کرنے کی منظوری

?️ 24 ستمبر 2021سچ خبریں: ال مانیٹر ویب سائٹ کے مطابق امریکی پارلمنٹ نمائندوں نے

ایران کے خلاف عرب نیٹو کی تشکیل مضحکہ خیز

?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:عراق کے ایک فوجی ماہر نے ایران کے خلاف صیہونی حکومت

حزب اللہ کے کمانڈر علی کرکی کو صیہونی کئی سال سے کیوں تلاش کر رہے تھے؟

?️ 30 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے کمانڈر علی کرکی کی شہادت کے بعد

کویت حیدرآباد میں کورونا وائرس کے علاج کے لئے ہسپتال قائم کرے گا:وزیر اعلی سندھ

?️ 6 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ

اٹلی کے صدر نے مشرق وسطیٰ میں ‘جنگی صورتِ حال کے خاتمے’ کا مطالبہ کر دیا

?️ 14 مئی 2026سچ خبریں: اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا نے صہیونی حکومت کے صدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے