?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان اور ترکمانستان نے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے مشترکہ عملدرآمد منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔
سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ترکمانستان کے وفد نے وزیر توانائی و آبی وسائل دلیر جمعہ کی قیادت میں اسلام آباد میں شرکت کی۔
وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک اور ترکمانستان کے وزیر مملکت اور ترکمان گیس کے چیئرمین مسکات بابائیف نے معاہدے پر دستخط کیے۔
توقع ہے کہ ایک ہزار 800 کلومیٹر طویل اس پائپ لائن سے ہر سال 33 بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس ترکمانستان کے گالکینیش، دنیا کی دوسری سب سے بڑی گیس فیلڈ، سے بھارتی شہر فاضلکا تک لے جائے گی، اس دوران یہ افغانستان میں ہرات اور قندھار جبکہ پاکستان میں کوئٹہ اور ملتان سے گزرے گی۔
اس منصوبے کے دو مراحل ہیں: ایک آزادانہ بہاؤ کا مرحلہ جس کی تخمینہ لاگت 5 سے 6 ارب ڈالر ہے اور دوسرا کم از کم ایک ارب 90 کروڑ ڈالر سے کمپریسر اسٹیشنوں کی تنصیب ہے۔
معاہدے پر دستخط کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز نے تاپی کو پورے خطے کی ترقی کے لیے ایک انتہائی اہم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کو ٹھوس یقین دہانیوں اور باہمی طور پر طے شدہ شرائط و ضوابط کے ساتھ قدرتی گیس کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے توانائی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس چیلنج سے فوری کارروائی کے ذریعے نمٹنا ہوگا‘۔
وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ تاپی منصوبہ علاقائی تعاون، ترقی اور خوشحالی کے دور کا باعث بنے گا، انہوں نے پاکستانی ٹیم سے کہا کہ وہ اس کی منصوبہ بندی اور اس کے بعد اس پر عملدرآمد کو تیز کرے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان دونوں برادر ممالک ہیں اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی صورتحال کے پیش نظر توانائی ایک حقیقی چیلنج بن چکی ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے توانائی کے آپشن تلاش کرنے کے لیے تیز رفتار اقدامات کی ضرورت ہے’۔
وزیراعظم نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ تاپی منصوبے کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کو تیز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے اور مزید کہا کہ پاکستان اور ترکمانستان مختلف شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے اور اپنے تعاون کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
بعد ازاں ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم شہباز نے تاپی کے مشترکہ نفاذ کے منصوبے کو ’منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک قدم بڑھانا‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اہم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اس منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدرآمد کیا جائے، عالمی سطح پر ایندھن کی مہنگی قیمتوں اور گیس کی قلت کے پیش نظر ہم توانائی کی تمام اقسام کو پائیدار بنیادوں پر حاصل کرنے کے لیے ایک جامع قومی توانائی کے تحفظ کے منصوبے کے تحت تمام آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاپی منصوبے کی تکمیل ’بڑھے ہوئے اقتصادی تعاون کے لحاظ سے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی۔‘
پاکستان کا درآمدی ایندھن پر انحصار وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں مقامی گیس کے وسائل میں سالانہ نو فیصد تک کی کمی آئی ہے جبکہ ایل این جی کا حصہ بڑھ گیا ہے۔
قطر نے پاکستانی ایل این جی مارکیٹ پر غلبہ کر لیا ہے اور آنے والے نجی شعبے کے ایل این جی ٹرمینل کے ساتھ جوائنٹ وینچر پارٹنرشپ کے ذریعے اپنا حصہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں، پاکستان کو ایل این جی کی درآمد پر زیادہ انحصار کی وجہ سے گیس کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ آگے بڑھتے ہوئے ملک گیس کی درآمد کے ذرائع کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔


مشہور خبریں۔
دی گارڈین نے رپورٹ کیا؛ بن سلمان ٹرمپ کی واپسی پر جوا کھیل رہے ہیں
?️ 25 اپریل 2022سچ خبریں: گارڈین کی ورلڈ سروس کے چیف ایڈیٹر جولین برجر نے امریکہ
اپریل
سیالکوٹ واقعہ اسلامی روایات کے منافی تھا: طاہر اشرفی
?️ 3 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہر محمود اشرفی
جنوری
ایرانی طلبا یونین کا حجاب کے حق میں بولنے والی بھارتی طالبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی
?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:ایرانی طلبا کی کئی بڑی یونینوں نے حجاب کے اپنے بنیادی
فروری
مکمل جنگ بندی سے قبل قیدیوں کے تبادلےکا کوئی امکان نہیں: اسامہ حمدان
?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں:فلسطینی تحریک حماس کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے گزشتہ شب
دسمبر
جنرل قاسم سلیمانی نے مزاحمتی محاذ کو کیسے عالمی سطح پر ایک مؤثر تحریک میں بدلا؟
?️ 29 دسمبر 2024سچ خبریں:جنرل قاسم سلیمانی نے اپنی فکری بالیدگی، میدانی موجودگی اور جہادی
دسمبر
طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کردیا
?️ 7 جون 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین شدید
جون
برطانیہ میں اقتصادی بحران نے اہم شخصیات کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا
?️ 29 نومبر 2025برطانیہ میں اقتصادی بحران نے اہم شخصیات کو ملک چھوڑنے پر مجبور
نومبر
ترکی کے کان کنوں کی موت کا عالمی ریکارڈ
?️ 18 اکتوبر 2022سچ خبریں:عالمی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ترکی کان کنی کے حادثات میں
اکتوبر