پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے ایف آئی اے کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے سلسلے میں پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق ایسی ہی ایک اور درخواست میں پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے متوقع اعلان سے قبل ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کو پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف کارروائی سے روکا جائے۔

دونوں درخواستیں پاکستان تحریک انصاف  کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے دائر کیں جنہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پی ٹی آئی قیادت کی گرفتاری سے روکا جائے۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل ایف آئی اے نے مبینہ عدم تعاون پر ممنوعہ فنڈنگ کیس میں نامزد پارٹی ارکان کی گرفتاری کے لیے لاہور اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے تھے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی نے سمندر پار پاکستانیوں سے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے ’نامنظور ڈاٹ کام‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ قائم کی تھی، عطیہ دہندہ ویب سائٹ پر جا کر عطیات کی ادائیگی کے لیے اپنی تفصیلات فراہم کر سکتا ہے جہاں ادائیگی کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹ یا پے پال استعمال کیا جا سکتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی تعمیل کے لیے ان عطیات کی تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ موجودہ مخلوط حکومت سیاسی میدان میں پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے اور اس نے عوام اور خاص طور پر برطانیہ، امریکا اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں کو پی ٹی آئی کے لیے عطیہ دینے سے روکنے کے لیے ایک غیر قانونی اسکیم اپنائی ہے۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت پارٹی کو مالی لحاظ سےکمزور کرنا چاہتی ہے، عطیات روکنے کا مقصد پی ٹی آئی کو سیاسی سرگرمیوں اور آئین میں درج اپنے بنیادی حقوق کو استعمال کرنے کے لیے مالی لحاظ سے قاصر کرنا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس غیر قانونی مقصد کے لیے ایف آئی اے نے ایک انکوائری شروع کی جس سے درخواست گزارناواقف ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ یہ انکوائری مذکورہ ویب سائٹ کے کام سے متعلق تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ یہ طے ہے کہ ایسی کسی بھی انکوائری کی صورت میں پہلے درخواست گزار فریق کو نوٹس بھیجنا لازم ہے تاکہ پارٹی کو اپنے کیس کی وضاحت کرنے اور اس سلسلے میں ایف آئی اے کے سوالات کے جوابات دینے کا موقع دیا جا سکے، تاہم ایسا کسی نوٹس یا پی ٹی آئی کو مطلع کیے بغیر 19 ستمبر 2022 کو سینیٹر سیف اللہ نیازی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ایف آئی اے نے نوٹسز جاری کیے اور چوہدری محمد اقبال کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا جن کی کمپنی ویب سائٹ کی دیکھ بھال کے لیے تکنیکی مدد فراہم کرتی ہے۔

درخواست میں تحریک انصاف  نے اپنے مالیاتی معاملات کے حوالے سے جاری انکوائری کو الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

دوسری درخواست میں پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی کہ متوقع لانگ مارچ سے قبل ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کو پی ٹی آئی رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف کارروائی سے روکا جائے۔

درخواست میں حکمراں اتحاد پر عمران خان کے خلاف مہم شروع کرنے اور لانگ مارچ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور بڑے پیمانے پر پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اگر حکومت کسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے تو اس عمل کو اعلیٰ عدالتوں کے حکم نامے کے مطابق ہونا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

حکومت نے چیئرمین سینیٹ کا امیدوار کے نام کا اعلان کر دیا

?️ 4 مارچ 2021 اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو

سعودی عرب نےکیا 13 یمنی قیدیوں کو رہا

?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:یمنی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ

ٹرمپ کے غیر مستحکم رویے پر ہیریس کی تنقید

?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایک بیان میں، کملا ہیرس کی مہم نے بلومبرگ نیٹ

غزہ جنگ کا کیا ہوگا؟

?️ 10 اکتوبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کا حیران کن اور

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کا اہم پارٹنر ہے: لاوروف

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کے روز کہا کہ

مغرب قرآن جلانے کی حمایت کیوں کرتا ہے؟

?️ 21 اگست 2023سچ خبریں:سویڈش حکومت نے اسلامی مقدس مقامات کے خلاف ایک اور مجرمانہ

واللا: اسرائیل اندر سے ٹوٹ رہا ہے

?️ 4 نومبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کی نیوز سائٹ والا نے اطلاع دی ہے

غزہ کے خلاف نسل کشی میں سمجھوتہ کرنے والوں کا اہم کردار / ایک نئے "عرب نقبہ” کے بارے میں انتباہ

?️ 20 جولائی 2025سچ خبریں: عربی زبان کے ایک مصنف نے اپنے ایک مضمون میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے