وزیرخارجہ بلاول بھٹو کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، سعودی عرب سے تعلقات کا خیرمقدم

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیرخارجہ بلاول بھٹور زرداری نے ایرانی ہم منصب امیر عبداللہیان کو ٹیلی فونک رابطے میں عیدالفطر کی مبارک باد دیتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’میرے برادر ایران کے وزیرخارجہ امیر عبداللہیان کی جانب سے فون آیا، جس پر خوشی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’برادر ملک ایران کے عوام کو عیدالفطر کے بابرکت موقع پر مبارک باد دی ’۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رابطے کے دوران ’ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کی بحالی پر اظہار اطمینان کیا جو خطے کے امن اور خوش حالی کا باعث ہوں گے‘۔

سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی ایک مثبت پیش رفت ہے اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہونے والے تعلقات کا خیرمقدم کرتا ہے۔

اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے ٹیلی فون پر عید کی مبارک باد کا تبادلہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ مارچ میں سعودی عرب اور ایران نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی ختم کرتے ہوئے تعلقات بحال کرنے اور سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کرلیا تھا۔

سعودی عرب، ایران اور چین کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ تہران اور ریاض نے اتفاق کرلیا ہے کہ آپس میں سفارتی تعلقات اور اپنے سفارت خانے اور مشنز دو مہینوں سے پہلے بحال کردیں گے۔

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ’ارنا‘ نے بتایا تھا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے حالیہ دورے کے بعد سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کے سیکریٹری نے چین کا دورہ کیا تاکہ چین اور سعودی عرب کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے سعودی وفد کے ساتھ وسیع مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان کئی دنوں کے وسیع مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات کی بحالی کا معاہدہ طے کرلیا۔

بعد ازاں سعودی فرماں روان شاہ سلمان نے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو ریاض آنے کی دعوت دی تھی جس پر ایران کے صدرنے بھی معاہدہ آگے بڑھانے کے پیش نظر سعودی فرمانروا کی طرف سے دورے کی دعوت کا خیرمقدم کیا تھا۔

جس کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے شاہ سلمان کو تہران کے دورے کی دعوت دی تھی۔

اسی طرح ایران سے تعلقات کی بحالی کے بعد سعودی عرب ایک عرصے سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کی تنہائی کو ختم کرنے کے لیے عرب ممالک کے علاقائی اجلاس کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

یہ سیاسی پیش رفت اور دونوں ممالک کا قریب آناناقابل یقین محسوس ہوتا تھا لیکن چین کی ثالثی کی وجہ سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان برسوں بعد تعلقات بحال ہو گئے جبکہ اس سے قبل دونوں ممالک مشرقی وسطیٰ میں ایک دوسرے کے خلاف تنازعات کی معاونت کرتے تھے جس کی وجہ سے خطے میں سیکیورٹی، اقتصادی اور تعاون میں خلل موجود رہا۔

سعودی عرب کی جانب سے 2016 میں شیعہ عالم نمر النمر کو پھانسی دینے کے بعد ایران میں سعودی سفارتی مشن پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہوگئے تھے۔

مشہور خبریں۔

روسی سابق اولمپک چیمپئن امریکی بلیک لسٹ میں شامل

?️ 3 اگست 2022سچ خبریں:امریکہ نے روس کے زیر کنٹرول علاقوں کے متعدد افراد، تاجروں

امریکہ فوری طور پر تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرے: چین

?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں: یو ایس ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے اعلان کیا کہ

کیا امارات یمن میں سوڈان کی طرح کاروائی کرنے جا رہا ہے؟

?️ 29 نومبر 2025 کیا امارات یمن میں سوڈان کی طرح کاروائی کرنے جا رہا

ہمسایہ ممالک سے سبزیوں کی درآمد کے بعد قیمتوں میں کمی

?️ 12 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران سے سبزیوں

اسرائیل اندر سے ٹوٹ رہا ہے :عبرانی میڈیا

?️ 20 مئی 2024سچ خبریں: معاریو اخبار کےمطابق اسرائیل کی موجودہ صورتحال پہلے سے زیادہ تباہ

غزہ کی جنگ کو وسعت دینے سے اسرائیل پر 15 ارب شیکل کا اضافی بوجھ

?️ 7 مئی 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخباراتی ذرائع کے مطابق، غزہ پٹی میں جنگ کو

پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی اگر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو حکومت تیار ہے، وزیراعظم

?️ 23 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پی ٹی

امریکہ انسانیت کا گٹر بنتا جا رہا ہے؛ ٹرمپ کے ہاتھوں ایک بار پھر تارکین وطن کی توہین

?️ 20 ستمبر 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں اپنی صدارت کے دوران امیگریشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے