(ن) لیگ کا قیادت کےخلاف مقدمات کی سماعت سے 2 ججز کی دستبرداری کیلئے سپریم کورٹ جانے کا اعلان

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم پارٹی قیادت کے خلاف مقدمات کی سماعت سے دو ججز کو دستبردار کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے سپریم کورٹ کے ججز کا نام لے کر کہا کہ ان کا رویہ مسلم لیگ (ن) کے لئے متعصبانہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک جج نوازشریف کےخلاف مقدمے میں نگران جج رہے، ان سے انصاف کی توقع نہیں، ایک دوسرے جج کی آڈیو لیک کا ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آچکاہے، ان کی غیرجانبداری پر سوال اٹھ چکاہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں جج نواز شریف، شہباز شریف سے متعلق درجنوں مقدمات میں مخالفانہ فیصلے دے چکےہیں، پاناما، پارٹی لیڈرشپ، پاک پتن الاٹمنٹ کیس، رمضان شوگر ملز کے مقدمات فہرست میں شامل ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ قانونی، عدالتی روایت ہےکہ متنازع جج متعلقہ مقدمے کی سماعت سے خود کو رضاکارانہ طور پر الگ (ریکیوز) کر لیتے ہیں، متاثرہ فریق کی درخواست پر بھی متنازعہ جج بینچ سے الگ کر دئیے جانے کی روایت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم دونوں ججوں کو نوازشریف اور پارٹی کے دیگر راہنماؤں کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بینچوں سے الگ ہونے کا کہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی قانونی ٹیم کی جانب سے دونوں ججوں سے کہا جائے گا کہ وہ پارٹی کے خلاف مقدمات نہ سنیں۔

یہ پیشرفت گزشتہ روز ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد سامنے آئی ہے جس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومت کے قانونی ماہرین سے تفصیلی مشاورت کی۔

پارٹی کے ایک اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جرات مندانہ اقدام کا فائدہ اس صورت میں ہوگا جب دونوں جج مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات سے خود کو الگ کر لیں، خاص طور پر اس صورت میں نواز شریف کی لندن سے واپسی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اندرونی ذرائع نے کہا کہ نواز شریف وطن واپسی سے قبل العزیزیہ کرپشن کیس (جس میں وہ سات سال قید کاٹ رہے تھے) میں ریلیف چاہتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو عمران خان کی پی ٹی آئی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے نواز شریف کی وطن واپسی کی اشد ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پہلے ہی عوامی جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں سپریم کورٹ کے ججوں کے حوالے بات کرنی شروع کردی ہے۔

مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے حال ہی میں عدلیہ میں احتساب کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’پاکستان کو ایماندار ججوں کی ضرورت ہے، ملک کو ان لوگوں کی ضرورت نہیں ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے حمایتی ہے۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ مبینہ آڈیو لیک میں جن ججز کا نام آیا ہے، ان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی اخلاقی جرات ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے عدلیہ کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔

مشہور خبریں۔

فلیگ مارچ سے صیہونی حکومت خوفزدہ  کیوں ہیں؟

?️ 19 مئی 2023سچ خبریں:حالیہ دنوں میں غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی پانچ روزہ

گیلنٹ کے بعد نیتن یاہو کو بھی ہٹا دینا چاہیے: لائبرمین

?️ 6 نومبر 2024سچ خبریں: قابض حکومت کے سابق وزیر جنگ ایویگڈور لائبرمین نے اس

اسرائیل نامی ناجائز، غاصب اور دہشت گرد وائرس کا عنقریب خاتمہ ہونے والا ہے

?️ 17 مئی 2021(سچ خبریں)  اسرائیل جو ایک غاصب اور دہشت گرد ریاست ہے اس

ہیروشیما اور باخموت کی تباہی کا ذمہ دار امریکہ ہے: ماسکو

?️ 22 مئی 2023سچ خبریں:روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق اس سینئر روسی سفارت

بارود کا پھٹنا افغان بچوں کو نقصان پہنچانے کا سب سے بڑا سبب ہے

?️ 21 نومبر 2025سچ خبریں: سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان اب

امریکہ میں فلسطین کے حامیوں نے کرسمس کی تقریبات میں خلل ڈالا

?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں:نیو یارک شہر میں فلسطین کے حامیوں کی جانب سے زبردست

جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہماری فوج میں 6 گنا اضافہ ہوا:یوکرینی صدر

?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:یوکرین کے صدر نے اعلان کیا کہ روس کے ساتھ جنگ

عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج ہونے کا امکان

?️ 2 جون 2022اسلام آباد (سچ خبریں) چئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف دفعہ 124 اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے