?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں نیب قوانین میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ ترامیم کیس کے ذریعے نیب قانون پر ’ریڈلائن‘ مقرر کی جائے گی۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ کا خیر مقدم کیا، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نئے اٹارنی جنرل کے آنے سے حکومت کی ٹیم اور بھی مضبوط ہو گئی ہے، نئے اٹارنی جنرل کی تقرری خوش آئند ہے۔
دوران سماعت سپریم کورٹ نے ایک بار پھر نیب ترامیم سے ختم ہونے یا متعلقہ فورم پر منتقل ہونے والے کیسز کی تفصیلات کیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم سے کتنے کیسز کا فیصلہ ہوا اور کتنے واپس ہوئے تفصیلات جمع کرائیں، اس تاثر میں کتنی سچائی ہے کہ نیب ترامیم سے کوئی کیسز ختم یا غیر موثر ہوئے؟
اسپیشل نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب ترامیم سے کوئی نیب کیس ختم نہیں ہوا، نیب نے کسی کیس میں پراسیکیوشن ختم نہیں کی،
کچھ نیب کیسز ترامیم کے بعد صرف متعلقہ فورمز پر منتقل ہوئے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیب ترامیم کے بعد جن کیسز کا میرٹ پر فیصلہ ہوا ان کی بھی تفصیل جمع کرائیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ بھی بتائیں کہ نیب ترامیم سے کن کن نیب کیسز کو فائدہ پہنچا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سے کم کی کرپشن کے کیسز خود بخود نیب ترامیم سے غیر موثر ہو گئے، نیب نے 500 ملین روپے سے کم کرپشن کے مقدمے ٹرانسفر کر دیے ہیں۔
وفقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے علم میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ نیب نے پلی بارگین سے اکھٹے ہونے والے پیسے کا کیا کیا؟ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے پلی بارگین کی رقم کا حساب چئیرمین نیب سے مانگا۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ چئیرمین نیب نے پبلک اکاونٹس کمیٹی کو پلی بارگین کی رقم سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا، اس موقع پر عدالت عظمیٰ نے نیب کو پلی بارگین کی رقم سے متعلق تفصیل بھی رپورٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت درخواست گزار سے یہ بھی پوچھے کہ ان کے دور میں کتنے نیب کیسز ختم ہوئے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے پیدا کردہ تنازعات حل کرے، پارلیمنٹ اپنے تنازعات خود حل کرے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان بننے سے اب تک انسداد کرپشن کا قانون موجود رہا ہے، عمران خان کو شاید نیب ترامیم سے اصل قانون کے تقاضے بدل جانے پر تشویش ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت خود سے بنیادی حقوق کی تشریح کر سکتی ہے؟ جس پر وکیل مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ عدالت تب ہی مداخلت کر سکتی ہے جب حکومت کی کوئی شاخ اپنی حدود سے تجاوز کرے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے نیب ترامیم سے متعلق معاملہ پارلیمنٹ پر عوامی اعتماد کا ہے، اگر عدالت پر یہ ثابت ہوا کہ عوامی اعتماد ٹوٹا ہے تو کسی بھی زاویے سے نیب ترامیم پر فیصلہ کریں گے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر عدالت کسی قانونی خلاف ورزی پر مداخلت نہیں کرتی تو یہ عوام کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہو گی، اس کیس کے ذریعے نیب قانون پر ریڈلائن مقرر کی جائے گی۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت 8 فروری دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردی۔


مشہور خبریں۔
وکلا تیاری کر کے عدالت آئیں اور التوا مانگنے سے گریز کریں: عمرعطا بندیال
?️ 2 فروری 2022 اسلام آباد (سچ خبریں) نو منتخب چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر
فروری
بھارتی میڈیا کی نظر میں شہید رہبر کی تشییع جنازہ میں سب سے اثر انداز منظر
?️ 5 جولائی 2026سچ خبریں:بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شہید
جولائی
ٹرمپ کا گرین لینڈ پر قبضے کے مؤقف پر اصرار
?️ 20 جنوری 2026سچ خبریں:گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کے خلاف مخالفتوں میں
جنوری
ایران کو غلہ فروخت کرنے کی امریکی خواہش؛ ٹرمپ کے دعوے اور زمینی حقائق
?️ 29 جون 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو بڑے پیمانے
جون
سیلاب متاثرین کیلئے بینظیرانکم سپورٹ کے 10ہزار سے کچھ نہیں بنے گا، مریم نواز
?️ 25 ستمبر 2025ڈی جی خان: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بلاول بھٹو
ستمبر
امریکہ نے اسرائیلی حکومت کو ڈیڈ لائن دے دی
?️ 28 فروری 2024سچ خبریں:امریکی خبر رساں ویب سائٹ Axios نے بتایا کہ واشنگٹن نے
فروری
کینیڈا کے انضمام سے لے کر سرحدوں کے توسیع تک؛ٹرمپ کا امریکی سلطنت بنانے کا خواب
?️ 2 اپریل 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 میں وائٹ ہاؤس واپسی
اپریل
السنوار کے قتل کے بعد عبرانی میڈیا کا تجزیہ
?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار کالکالسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق
اکتوبر