نگران حکومتِ پنجاب کا عورت مارچ کے شرکا کو سیکیورٹی دینے کا فیصلہ

?️

لاہور: (سچ خبریں) نگراں وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے وعدہ کیا ہے کہ نگران حکومت عورت مارچ کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی، مارچ کے منتظمین کے تمام تحفظات دور کر دیے گئے ہیں۔

عورت مارچ آرگنائزنگ کمیٹی نے گزشتہ ماہ ضلعی انتظامیہ سے 8 مارچ کو ناصر باغ لاہور میں ایک ریلی نکالنے کے لیے این او سی کی درخواست کی تھی۔

تاہم ڈپٹی کمشنر لاہور رافعہ حیدر نے سیکیورٹی خدشات، خواتین کے حقوق سے متعلق ’متنازع‘ پلے کارڈز اور بینرز اور جماعت اسلامی کے ’حیا مارچ‘ کے اراکین سے تصادم کے خدشات کے پیشِ نظر عورت مارچ کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

بعد ازاں عورت مارچ کے منتظمین نے گزشتہ شب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی جس میں کہا گیا کہ ڈی سی لاہور کا عورت مارچ پر پابندی کا فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کی تحفظ کی بات ہوتی ہے، لہٰذا عدالت عورت مارچ پر پابندی سے متعلق ڈی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

لاہور ہائی کورٹ نے درخواست کل 6 مارچ بروز پیر کو سماعت کے لیے مقرر کردی، درخواست پر سماعت جسٹس مزمل اختر شبیر کریں گے۔

اس حوالے سے آج جاری کردہ ایک بیان میں عامر میر نے کہا کہ حکومت نے عورت مارچ کے مظاہرین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مارچ کے شرکا کو مکمل پولیس سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت مظاہرین کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی، ہماری حکومت تمام افراد کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔

نگراں وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ مظاہرین کی جانب سے پیش کیے گئے تمام تحفظات کو دور کر دیا جائے گا، ہمیں امید ہے کہ عورت مارچ پرامن طریقے سے منعقد ہوگا۔

قبل ازیں سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ کے انعقاد کی درخواست کو مسترد کرنے پر ڈپٹی کمشنر کی مذمت کی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک عوامی ریلی نکالنے کے لیے عورت مارچ کے منتظمین کی جانب سے اجازت کی درخواست کو مسترد کرنے پر لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی شدید مذمت کی تھی۔

کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عورت مارچ کے منتظمین کے پُرامن ریلی کے حق کو ’متنازع‘ پلے کارڈز اور عوامی اور مذہبی تنظیموں کے ’سخت تحفظات‘ کے باعث سیکیورٹی رسک کے نام پر ہر بار چیلنج کیا جاتا ہے، یہ ایک کمزور دلیل ہے‘۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے مطالبہ کیا تھا کہ نگران حکومت پنجاب عورت مارچ کے پرامن انعقاد کی آزادی کے حق کی پاسداری کرے اور مارچ کرنے والوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔

مشہور خبریں۔

سرد جنگ کے دور کی سوچ کو دوبارہ پروان چڑھنے نہیں دیں گے:چینی وزارت خارجہ

?️ 31 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر چینی وزارت خارجہ کی

ہم بحیرہ احمر کو اسرائیلی جھیل نہیں بننے دیں گے: صنعاء

?️ 19 جولائی 2022سچ خبریں:    یمن کی قومی سالویشن گورنمنٹ کے وزیر اعظم عبدالعزیز

بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی فرانسیسی کیتھولک چرچ کی تاریخ / پچھلے 70 سالوں میں ہر 2 گھنٹے میں بچوں سے زیادتی

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں: مشرقی دنیا کی خدمت – فرانس میں ایک حالیہ رپورٹ

ہم یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں: کیف

?️ 29 ستمبر 2023سچ خبریں:یورپی یونین میں یوکرین کی رکنیت کے مشکل عمل اور وسیع

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

?️ 19 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی انٹرا

خیبرپختونخوا: مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا کیس، اسپیکر کو ممبران سے حلف لینے کا حکم

?️ 27 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری

امریکہ کو OPEC+ کے متبادل ذرائع کی تلاش

?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:ریاستہائے متحدہ کے صدر نے اعلان کیا کہ ان کا ملک

وزیر خارجہ، مفتی منیب کا معاہدے کی تفصیل بتانے سے انکار

?️ 31 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور مفتی منیب الرحمٰن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے