?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے نویں سہ ماہی جائزے کے لیے باضابطہ مذاکرات تاخیر کا شکار ہیں کیونکہ حکام نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی وجہ سے متعدد اہداف میں نرمی کی درخواست کی ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کا مطالبہ ہے کہ ٹیکس-جی ڈی پی تناسب کم از کم 11 فیصد ہونا چاہیے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عاشہ غوث پاشا نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا کہ صورت حال مختلف ہے لیکن ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں اور مزید اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کر رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اکتوبر کے آخری ہفتے میں طے تھے، بعد ازاں بات چیت 3 نومبر کو ہونا تھی لیکن دونوں طرف سے تخمینوں کے درمیان فرق کی وجہ سے مذاکرات تاخیر کا شکار ہیں۔
سینئر حکومتی عہدیداروں نے بتایا کہ پہلی سہ ماہی (جولائی۔ستمبر) کی کارکردگی کے اعداد وشمار فراہم کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ باضابطہ طور پرمذاکرات نومبر کے آخری ہفتے میں ہونے کی توقع ہے لیکن اب تک تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔
حکام نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سہ ماہی اجلاس میں روایتی طور پر گزشتہ کارکردگی اور مستقبل کے اشاریے، جو کہ سیلاب کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں، سمیت مجموعی معاشی فریم ورک کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعداد کے حوالے سے ریونیو کی کارکردگی بہتر ہے لیکن جہاں تک جی ڈی پی تناسب کی بات ہے تو ہم 11 فیصد کے ہدف سے پیچھے ہیں۔
پاکستان ہدف سے تقریبا 0.8 فیصد پیچھے ہے کیونکہ جی ڈی پی کی ری بیسنگ کی وجہ سے معیشت کا حجم بڑھ گیا ہے، دوسری طرف ابتدائی تین ماہ میں اخراجات ہدف سے ہوئے، اسی طرح ریونیو اکٹھا کرنے کا رجحان تنزلی کا شکار ہے کیونکہ درآمدات میں کمی ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کارکردگی کرائیٹیریا میں رعایت کے لیے درخواست کی ہے لیکن اس پر دونوں طرف سے اسٹاف لیول کی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے ورچوئل اجلاس بھی اسی ہفتے ہونے کی توقع ہے، آئی ایم ایف مشن اپنے مؤقف پر قائم ہے اور پاکستان اپنا کیس ایگزیکٹیو بورڈ کے سامنے رکھے گا۔
قبل ازیں، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) عاصم احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا تھا کہ مقامی ٹیکسز کے حوالے سے کارکردگی بہتر رہی لیکن درآمدات کم ہونے سے کم درآمدی ریونیو اکٹھا ہوا۔
کمیٹی کے چیئرمین قیصر احمد شیخ نے آئی ایم ایف کی جانب سے اضافی ریونیو اقدامات اور معاشی سست روی کی وجہ سے ٹیکس پیئر پر مزید دباؤ سے متعلق سوال کے جواب میں ایف بی آر کے چیئرمین نے آئی ایم ایف کے مطالبے کی تصدیق نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی توجہ انتظامی اقدامات جیسے اسمگلنگ اور انڈر ویلیوایشن کی طرف ہے تاکہ ریونیو اہداف میں کسی کمی کو پورا کیا جاسکے اور مزید کوئی ٹیکس عائد نہ کرنا پڑے۔


مشہور خبریں۔
جے یو آئی (شیرانی) باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کی زیر قیادت اپوزیشن اتحاد کا حصہ بن گیا
?️ 6 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے شیرانی گروپ نے پاکستان
جون
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار
?️ 23 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں
اکتوبر
برطانیہ ہمیشہ موقع پرست رہا ہے: فرانس
?️ 19 ستمبر 2021سچ خبریں:فرانسیسی وزیر خارجہ نے اپنی ایک ٹیلی ویژن تقریر میں آسٹریلیا
ستمبر
امریکی سیکریٹری دفاع بھارت دورے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوریت کی پامالی پر گفتگو کریں
?️ 19 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن بھارت کا دورہ کررہے
مارچ
امریکی اتحاد کا عراق اور شام میں ہزاروں عام شہریوں کے قتل کا اعتراف
?️ 8 اگست 2021سچ خبریں:ایک امریکی ویب سائٹ نے اعتراف کیا ہے کہ عراق اور
اگست
امریکہ چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں ایماندار نہیں: چینی میڈیا
?️ 6 فروری 2023سچ خبریں:انتھونی بلنکن نے جمعے کے روز اپنا چین کا دورہ ملتوی
فروری
صہیونی افسر پر فلسطینی قیدی کی لاتوں اور گھونسوں کی برسات
?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے ایک فلم شائع کی ہے جس میں ایک
فروری
روسی فوج کی یوکرائن کی طرف پیش قدمی کا مضحکہ خیز الزام
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:روس کے اعلیٰ سفارت کاروں نے امریکی میڈیا کے اس دعوے
فروری