مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اگلے عام انتخابات کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی حکومت (پی ڈی ایم) کے درمیان مذکرات کے امکانات کو مسترد کردیا۔

 پشاور میں پارٹی اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’پاکستان ڈیموکریٹک حکومت (پی ڈی ایم) عمران خان سے کسی قیمت پر بات نہیں کرے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان کا لانگ مارچ ’فَرلانگ مارچ‘ تھا اس لیے اسلام آباد کی جانب آنے والے مارچ کا رُخ راولپنڈی کی جانب موڑ دیا گیا، پی ڈی ایم نے پاکستان تحریک انصاف کے اگلے انتخابات کے الٹی میٹم کو سنجیدہ سے نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر حکومت اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے دعوت دیتی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی حکومت کو مذاکرات کا کہہ رہی ہے۔ جے یو آئی (ف) کےسربراہ نے کہا کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے، ہم ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم ایک قومی حکومت ہے جو ملک کو عمران خان کی وجہ سے آنے والے بحران سے نکالنے کا کام کررہی ہے۔ فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت وفاقی حکومت دوست ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے جسے تحریک انصاف نے کافی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو قومی خزانے میں صرف 2 ارب 5 کروڑ ڈالر تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی چار سالہ کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان کو سنگین مسائل بالخصوص معاشی مسائل کا سامنا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 9 سال کے طویل عرصے سے حکمرانی کرنے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے کو دیوالیہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے اختتام پر صوبے کا کُل قرضہ 70 ارب روپے اور عوامی نیشنل پارٹی کے اقتدار کے بعد 110 ارب روپے تھا لیکن پی ٹی آئی کی 9 سالہ دور حکومت کے دوران یہ قرضہ 1 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ جب سیاسی جماعتیں طویل عرصے تک حکمرانی کرتی ہیں تو وہ اصلاحات متعارف کرتی ہیں لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اس کے برعکس کام کیا ہے اور صوبے کو اس حد تک دیوالیہ کردیا ہے کہ ملازمین کو تنخواہیں دینے تک کے پیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہماری جماعت خیبرپختونخوا کا مستقبل ہے اور اپنی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو ہدایت صوبے کے عوام کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان کو سال 2022 کے دوران مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں کو برداشت یا اس میں ملوث رہنے والے ممالک کی فہرست میں برقرار رکھنے کے امریکی فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایسے فیصلے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے افغانستان پر دو دہائیوں تک جنگ مسلط کی اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ امریکا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت میں موجود مسلمانوں اور دلت سمیت اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر خاموش ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان سپریم ہے اور اسے کوئی بھی قانون بنانے کا اختیار ہے لہٰذا امریکا سمیت کسی بھی ملک کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔

مشہور خبریں۔

مزاحمتی تحریک کے اتحاد نے تل ابیب کو کیسے نقصان پہنچایا؟

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: طوفان الاقصی آپریشن کے بعد مزاحمتی تحریک کے اتحاد پر

مزاحمت کے خلاف مکمل فتح ناممکن ہے: تل ابیب

?️ 30 نومبر 2025سچ خبریں:  صیونیستی ریاست کے اندرونی سیکورٹی اسٹڈیز سینٹر، جو تل ابیب یونیورسٹی

کیا امریکہ میں مسلح تشدد کم ہو رہا ہے؟

?️ 15 جنوری 2022سچ خبریں:   دو امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے حال ہی میں اپنی

آئندہ 6 ماہ یوکرین کے لیے انتہائی اہم ہوں گے: سی آئی اے چیف

?️ 4 فروری 2023سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز نے کہا کہ انٹیلی جنس

اٹلی میں پائلٹس اور فلائٹ عملے کی ہڑتال

?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں:   اطالوی ایئر لائنز کے کیبن کریو اور پائلٹس کی اتوار

ہندوستان کا مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے گفت و شنید اور سفارت کاری پر زور

?️ 5 مئی 2026سچ خبریں: ہندوستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں مغربی ایشیا

نیتن یاہو پر وائٹ ہاؤس کا کنٹرول: امریکی اہلکار

?️ 27 جولائی 2025وال اسٹریٹ جرنل نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے رپورٹ کیا

نیویارک ٹائمز: معروف فلسطینی صحافی شیرین ابو عقلہ کو اسرائیلی گولی مارنا جان بوجھ کر کیا گیا تھا

?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں: نیویارک ٹائمز نے 2022 میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے