موجوزہ آئینی ترامیم: کوششوں کے بعد اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن

?️

کراچی: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے موجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے کہا ہے کہ بڑی کوششوں کے بعد اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور ہمارے مسودے میں ہم آہنگی ہے۔

ٹنڈو الہ یار میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کل کراچی میں بلاول بھٹو اور لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کروں گا، مزید کہا کہ ترمیم پر اتفاق رائے نہ ہوا تو اسے مسترد کر دیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ترمیم پر اتفاق رائے نہ ہوا تو اس کو مسترد کردیں گے، گفتگو اور مذاکرات کے نتیجے میں کافی ہم آہنگی پیدا ہوچکی ہے، مزید کہنا تھا کہ حکومتی مسودے کو مسترد کر دیا تھا، امید ہے کہ ہمارے مطالبات منظور ہوجائیں گے۔

امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ جو چیزیں وقت کی ضرورت ہیں، ہم انہیں ترجیح دیں گے، ہم نے عوام اور ملک کے مفاد میں سب کچھ کرنا ہے، کہیں بھی انتہا پسندی نہیں ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو مجوزہ آئینی ترامیم پر مشاورت کے لیے قائم پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے ترامیم سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لیے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

ذیلی کمیٹی میں پی ٹی آئی کے 2 ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے، کمیٹی 2 روز میں سفارشات مرتب کرکے خصوصی کمیٹی کو دے گی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ خصوصی کمیٹی نے اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے، ذیلی کمیٹی میں کامران مرتضیٰ اور پی ٹی آئی کے 2ارکان شامل ہیں۔

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ساری جماعتوں کے مسودوں میں کوئی اصولی اختلاف نہیں ہے، ذیلی کمیٹی دو دنوں میں سفارشات خصوصی کمیٹی کو دے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایک ماہ سے اس مسئلے پر عوام میں بحث چل رہی ہے، اس میں کون سی غیرآئینی چیز ہے؟ اپوزیشن کے دوستوں سے کہوں گا اپنی تجاویز بھی دیں، صرف تنقید سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت گزشتہ ماہ سے ایک اہم آئینی ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے، 16 ستمبر کو آئین میں 26ویں ترمیم کے حوالے سے اتفاق رائے نہ ہونے اور حکومت کو درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا تھا۔

کئی دن کی کوششوں کے باوجود بھی آئینی پیکج پر اپوزیشن بالخصوص مولانا فضل الرحمٰن کو منانے میں ناکامی کے بعد ترمیم کی منظوری غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی لبنان میں کتنے لوگوں کو مارنا چاہتے تھے؟ حزب اللہ کا اعلان

?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے نائب سکریٹری جنرل نے کہا کہ اسرائیل

الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا

?️ 4 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن

مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے تاہم پاکستان کا شمار اب بھی دنیا کے سستے ترین ممالک کی فہرست میں:عمران خان

?️ 7 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی ایک عالمی

صیہونی میڈیا کو بھی اپنی غیر قانونی ریاست کی تباہی کا یقین

?️ 25 جون 2023سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے مقبوضہ علاقوں کے موجودہ حالات کو پیچیدہ ایام

صیہونی حکام کی زبانی جنگ کا سلسلہ جاری

?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:قابض حکومت کے عہدیداروں کے درمیان لفظی جنگ اور شدید اختلافات

پاور سیکٹر کے قرضوں کو کم کرنے کیلئے 4.5 ارب ڈالر کے قرض معاہدے پر دستخط

?️ 21 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اپنے توانائی کے شعبے میں بڑھتے

7 اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے میں کتنے فلسطینی شہید ہوئے ہیں؟

?️ 9 مارچ 2024سچ خبریں: فلسطینی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی فوج نے

آپ ولی عہد سے ملنے آرہے ہیں!؛ بائیڈن کے ریمارکس پر عربی ردعمل

?️ 20 جون 2022سچ خبریں:امریکی صدر کے حالیہ ریمارکس جس میں انہوں نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے