مسلم لیگ (ق) پی ٹی آئی اور ‘طاقت کے مراکز’ کے درمیان دوریاں مٹانے کے لیے کوشاں

?️

لاہور: (سچ خبریں) پنجاب میں 17 جولائی کو 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ق) اپنے ‘اچھے تعلقات’ کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور ملک کے طاقتور کرداروں کے درمیان اختلافات ختم کرانے کی کوشش کر رہی ہے.

مسلم لیگ (ق) کی قیادت سمجتھی ہے کہ ضمنی انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتنا نہ صرف پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ فتح قبل از وقت عام انتخابات کی راہ بھی ہموار کرے گی۔

باوثوق ذرائع نےمیڈیا کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے پرویز الٰہی کے کیمپ میں موجود مسلم لیگ (ق) کے اہم رہنما فریقین کے درمیان پیچ اپ کے لیے کوششیں کر رہی ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز کے مقابلے میں وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کے لیے ضمنی انتخابات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

پارٹی کے سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ ہم ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی جیت کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، اسی سلسلے میں گجرات سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ق) کے کچھ کارکن پارٹی کی سینئر قیادت کی ہدایت کے مطابق لاہور اور پنجاب کے دیگر حصوں میں پی ٹی آئی کے لیے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ “پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی فتح کو یقینی بنانے کے لیے کچھ دیگر چینلز اور ذرائع کو استعمال کرنے کی بھی کوششیں جاری ہیں کیونکہ یہ ضمنی انتخابات ہمارے اور عمران خان دونوں کے لیے ڈواور ڈائی، کرو یا مرو جیسی اہمیت کے حامل ہیں۔

سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق، جنہوں نے حالیہ دنوں میں عمران خان، چوہدری پرویز الٰہی، فواد چوہدری اور شیخ رشید کے ساتھ خصوصی ملاقات بھی کی تھی، پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ عمران خان اور پاور کوریڈورز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے رہنما نے انکشاف کیا کہ اب اس سلسلے میں نئی کوششیں شروع کی گئی ہیں، عمران خان کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تقاریر اور گفتگو کے ددوران آرمی چیف کا بالواسطہ حوالہ دینے سے بھی گریز کریں۔

چوہدری پرویز الٰہی، جنہوں نے اس سے قبل 2002-07 کی جنرل مشرف حکومت میں بطور وزیراعلیٰ صوبہ پنجاب حکومت کی تھی، وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

نتن یاہو کس طرح صہیونی حکومت کو یرغمال بنا رہا ہے؟

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں:بنیامین نتن یاہو کی حالیہ تین کلیدی تقرریاں صہیونی حکومت کے

17 جولائی سے پہلے پی ٹی آئی کو لاہور ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا

?️ 16 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو بڑی کامیابی مل گئی۔پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر

ایران کے خلاف مہم جوئی پرا مریکی لاگت

?️ 3 جون 2026سچ خبریں:نئی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ امریکی عسکری اور آپریشنل

نگران حکومت کی عدم دلچسپی، نجکاری میں التوا، پی آئی اے کے انتظامی امور دباؤ کا شکار

?️ 25 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران حکومت کی عدم دلچسپی اور نجکاری میں

غزہ کے لاکھوں بچوں کی جان خطرے میں یونیسف کی رپورٹ

?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: یونیسف نے اعلان کیا کہ غزہ کے طبی شعبے کی

کیا عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتے ہیں؟

?️ 11 اکتوبر 2024سچ خبریں: خلیج فارس کے عرب ممالک کے تین باشعور حکام نے

اسرائیل کے اندرونی اختلافات مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ

?️ 14 دسمبر 2025 اسرائیل کے اندرونی اختلافات مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ ایک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے