?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں زیر سماعت مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی پر درخواستوں سماعت کے دوران سنی اتحاد کے وکیل فیصل صدیقی نے آئینی بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے متفرق درخواست دائر کرنے کے لیے وقت مانگ لیا، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ تیسری سماعت پر ہی کیوں آپ کو بینچ پر اعتراض کرنے کا خیال آیا؟ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ متفرق درخواست پہلے کیوں دائر نہیں کی؟
ڈان نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔
آئینی بینچ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شاہد بلال، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ہے۔
دوران سماعت سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی عدالت میں پیش ہوئے اور جواب جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیا، فیصل صدیقی نے موقف اخیتار کیا کہ آئینی بینچ پر بھی اعتراض ہے، اس پر بھی درخواست دائر کرنی ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ تیسری سماعت پر ہی کیوں آپ کو بینچ پر اعتراض کرنے کا خیال آیا؟ فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ پہلی سماعت پر نوٹسز ہوئے، دوسری سماعت پر جنگ لگ گئی، آج تیسری سماعت ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا آپ کو علم تھا کیس چل رہا ہے، پہلے کیوں متفرق درخواست نہیں دائر کی؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ ہمیں باضابطہ تو نوٹس ملا ہی نہیں، ہمیں ٹی وی سے عدالتی کارروائی کا علم ہوا، ہم عدالتی کارروائی کو نظرانداز نہیں کر سکتے تھے، ویسے بھی یہ سزا موت کا کیس نہیں ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اگر نوٹس نہیں ملا تو نہ آتے، عدالت میں کھڑے ہوکر سیاسی باتیں نہ کریں، یہ 11 رکنی آئینی بینچ ہے، سلاٹ نکال کر کیس فکس کرنا پڑتا ہے، ججز نے اور کیسز سننے ہوتے ہیں۔
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ میرے خیال میں سب کو سنوائی کا مناسب موقع ملنا چاہیے، اگر متفرق درخواست دائر کرنے کے لیے وقت دیا جائے تو فرق نہیں پڑے گا۔
جسٹس جمال مندو خیل نے فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ آپ آج ہی اعتراض والی درخواست ساتھ لیکر کیوں نہیں آئے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ ہم کل تک کا وقت دے دیتے ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ آپ کے لیے تو ایک گھنٹہ بھی کافی ہے۔
فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ مجھے متفرق درخواست دائر کرنے کے لیے دو دن کا وقت دیں، پہلے میری بینچ پر اعتراض والی درخواست کو سن لیا جائے، پھر اگر درخواست خارج کرنی ہوئی تو بیشک مسکراتے ہوئے خارج کر دیجیے گا۔
ن لیگ کے وکیل حارث عظمت نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے کیس میں اضافی گزارشات جمع کرائی ہیں، اس کیس میں نجی فریقین کی طرف سے مخدوم علی خان وکیل ہیں، اگر مناسب ہو تو مخدوم علی خان کو بطور سینئر وکیل پہلے سن لیں۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ درخواست گزار آپس میں طے کر لیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کہ سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی۔


مشہور خبریں۔
کیا بائیڈن دوبارہ صدر بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
?️ 4 اگست 2023سچ خبریں:جیسا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نئے الزامات
اگست
جنوبی لبنان پر صیہونی حکومت کے مسلسل حملوں کے مقاصد کیا ہیں؟
?️ 2 فروری 2026سچ خبریں: صہیونی ریاست کی فوج نے حال ہی میں ایک بیان
فروری
زاخارووا کا مونیخ کانفرنس میں یوکرین کی دہشت گردی پر بحث کا مطالبہ
?️ 14 فروری 2026 سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے
فروری
متحدہ عرب امارات کے کرائے کے فوجیوں کا ہدرموت میں خود کو دوبارہ قائم کرنے کے بارے میں مبہم بیان
?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں: جنوبی عبوری کونسل نے حضرموت میں اپنے عناصر کو دوبارہ
امریکہ اور برطانیہ فلسطینی قوم کے المیے کا باعث ہیں:فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ
?️ 17 مئی 2023سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی نسل
مئی
وینزویلا نے روس، چین اور ایران سے فوجی مدد مانگ لی:امریکی میڈیا کا دعوٰی
?️ 1 نومبر 2025 وینزویلا نے روس، چین اور ایران سے فوجی مدد مانگ لی:امریکی میڈیا
نومبر
پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اس لیے وہ آئینی طور پر وزیراعلیٰ نہیں رہے، وزیرداخلہ
?️ 22 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ
دسمبر
ٹک ٹاک نے تخلیق کاروں کے لیے نئے فیچرز متعارف کرادیے
?️ 23 ستمبر 2025سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اپنے تخلیق
ستمبر