ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا:وزیر خارجہ

?️

اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دیگر ممالک خصوصاً بھارت اور امریکہ کے ساتھ تجارت اور روابط کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں وزیر خارجہ کا دفتر سنبھالنے کے بعد سے اپنی پہلی اہم خارجہ پالیسی تقریر میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے اہم تعلقات پر بات کی اور ماضی کی خارجہ پالیسی کے نوعیت پر سوال اٹھایا۔

حکومتی مالی اعانت سے چلنے والے تھنک ٹینک، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مخلوط حکومت کو ایک بین الاقوامی طور پر تنہائی کا شکار اور بین الاقوامی سطح پر روابط سے منقطع ملک ملا۔

انہوں نے بھارت اور امریکا کی ایسے ممالک کے طور پر نشنادہی کی جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مسائل کا شکار رہے ہیں۔

اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات رواں سال کے شروع میں اس وقت مزید متاثر ہوئے جب سابق حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے امریکا پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ اس کی حکومت کو برطرف کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کام کررہا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف ہونے کے بعد ایک جارحانہ مہم چلائی اور ’غیر ملکی طاقتوں کے غلاموں‘ سے آزادی کا مطالبہ کیا، عمران خان کے اس بیانیے سے ملک میں امریکا کی مخالفت میں اضافہ ہوا۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بلاول بھٹو زرداری سے رابطہ کیا اور انہیں فوڈ سیکیورٹی کانفرنس میں مدعو کیا جہاں دونوں کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔

البتہ’حکومت کی تبدیلی‘ کے الزامات دو طرفہ تعلقات پر طویل مدتی اثرات مرتب کررہے ہیں۔

بھارتی حکمران جماعت کی جانب سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کم کردیے تھے۔

جس کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پیش آئے واقعات اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندو بالادستی کے اقدامات نے دوبارہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں رکاوٹیں قائم کردی ہیں۔

اسلام آباد کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ سفارتی تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے لیکن یہ بھارت پر ہے کہ وہ ایسا کرنے کے لیے سازگار ماحول قائم کرے۔

اپنی تقریر میں وزیر خارجہ نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات پر زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقتصادی سفارت کاری اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں پر توجہ دی جائے۔

وزیر خارجہ کی دلیل یہ تھی کہ جنگ اور تنازعات کی ایک طویل تاریخ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات اور اس کے مسلم مخالف ایجنڈے کے باوجود رابطے منقطع رہنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

مسئلہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مسائل پاکستان کے بیانیے کی بنیاد ہیں اور حکومت ان معاملات کو انتہائی سنجیدہ اور جارحانہ انداز میں اٹھا رہی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا بھارت کے ساتھ رابطے منقطع کرنے سے ملک کو کوئی فائدہ پہنچا، کیا ہم نے اپنے مقاصد حاصل کرلیے چاہے وہ کشمیر کا مسئلہ ہو، بڑھتا ہوا اسلامو فوبیا ہو یا بھارت میں حکومت کی ہندوتوا بالادستی ہو، کیا اس سے ہمارا مقصد پورا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ ہم نے عملی طور پر بھارت کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر پاکستان نے ماضی میں بھارت کے ساتھ اقتصادی روابط قائم کیے ہوتے تو وہ دہلی کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوتا اور دونوں ممالک کو انتہائی پوزیشن پر آنے سے بھی روکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جہاں تک چین کا تعلق ہے، حکومت اقتصادی تعلقات کے لیے پرعزم ہے۔

تاہم، انہوں نے بظاہر امریکا اور چین کے مقابلے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بڑی طاقت کے مقابلے کا شکار ہونے سے خبردار کیا۔

مشہور خبریں۔

24 گھنٹے میں 24 صیہونی مخالف کاروائیاں

?️ 9 جون 2023سچ خبریں:فلسطین میں شماریاتی مرکز نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ

نیتن یاہو کی سمجھوتہ کرنے والوں کو ڈانٹا۔ عرب زمینوں کو نگلنے کا منصوبہ

?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: نام نہاد "گریٹر اسرائیل” منصوبے کے بارے میں نیتن یاہو

لاہور کا جلسہ آر یا پار ہے، روکا گیا تو جیلیں بھر دیں گے، عمران خان

?️ 20 ستمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم

وزیرخارجہ کی ایران، ترکیہ کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

?️ 17 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے ایرانی ہم منصب حسین امیر

نیتن یاہو اور صیہونی حکومت کے لیے ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی کے اخراجات

?️ 26 دسمبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ انتظامیہ نے ضرورت پڑنے پر صہیونی حکام کو کام

صورتحال گورنر راج لگانے کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے

?️ 9 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے چند لوگ

اسرائیل جنوب لبنان پر حملے سے بیروت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتا ہے

?️ 21 فروری 2026اسرائیل جنوب لبنان پر حملے سے بیروت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ

بھارتی فوجیوں نے گزشتہ ماہ فروری میں 5کشمیریوں کو شہید کیا

?️ 1 مارچ 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے