?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی نے افواج پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ’سرٹیفائیڈ دہشت گرد‘ قرار دے دیا اور متنبہ کیا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں کیونکہ اُن کی سیاست لاشوں پر پروان چڑھ رہی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ و رہنما پیپلز پارٹی حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارت نے عقل سے عاری قدم اٹھایا جبکہ پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا لیکن ہمارے صبر کو کمزوری سمجھا گیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صلاحیتوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا لیکن افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں ثابت کردیا۔
سابق وزیر خارجہ نے بھارت کو خبردار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر سرحد پار حملوں کو جواز بنانا خطرناک نظیر بنے گا، اگر ایسی دلیل کو قبول کیا گیا تو پاکستان بھی بھارت میں کارروائیوں کا جواز دے سکتا ہے جہاں ہمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت حاصل ہیں۔
انہوں نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس حملے کو جواز بنا کر پاکستان پر حملوں کا آغاز کیا، اگر پاکستان میں دہشت گردی کا واقعہ ہوجائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟، حنا ربانی کھر نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو جعفر ایکسپریس حملے جیسے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملنے پر جوابی کارروائی میں پاکستان بھی بھارت پر حملہ کرسکتا ہے۔
حنار بانی کھر نے بھارت کو دہشت گردی کو ہتھیار بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑانے پر تنقید کی اور کہا کہ ’کیا آپ سب اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے پیرا میٹر کے پابند نہیں رہے؟‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا اب ہم آرٹیکل 25 کا حصہ نہیں رہے جو کہ تمام ملکوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو برقرار رکھنے کا پابند کرتا ہے؟‘
مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے یکطرفہ اعلانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر خارجہ نے پوچھا کہ کیا دنیا سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس طرح کے دعووں کے بعد نریندر مودی کو ’خراج تحسین پیش کرے‘۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی بیانیہ دنیا کو نظر آنا شروع ہوگیا ہے اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مسئلہ کشمیر کو متنازع تسلیم کرلیا ہے۔
حنا ربانی کھر نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے دوران قومی اتحاد کی بھی تعریف کی، ساتھ ہی بھارت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف ’ہائی ٹیک کھلونے‘ خریدتے ہی نہیں بلکہ انہیں استعمال کرنے کے لیے تربیت بھی دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پچھلے 15 سالوں سے سفارتی طور پر خود کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، بھارتی حکومت کی یہ حکمت عملی ناکام ہوگئی، اس نے دنیا کے سامنے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوگیا، بھارت اگر دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے میں سنجیدہ ہے تو اُسے مذاکرات سے دور نہیں بھاگنا چاہیے۔
2 بلز کی منظوری
بعد ازاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں اکثریت کی حمایت سے دو نجی بلز بھی منظور ہوئے جس میں سے ایک انٹرنیشنل ایگزامینیشن بورڈ بل 2024 اور گھرکی انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 شامل تھے۔
متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے دونوں بلوں کا پہلے جائزہ لیا گیا تھا اور بعد میں ان کی منظوری دی گئی۔


مشہور خبریں۔
تونس کی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار کرنے کے بارے میں اہم بل پیش کردیا گیا
?️ 8 جون 2021تونس (سچ خبریں) تونس کی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار
جون
کیا آج بھی دنیا کو خوارج کا خطرہ ہے؟ اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب کی زبانی
?️ 11 اگست 2024سچ خبریں: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے
اگست
الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل کرنا ہو گا، سپریم کورٹ کے ججوں کی دوسری وضاحت
?️ 18 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن کی جانب سے مخصوص نشستوں کا
اکتوبر
وزیر اعظم نے خاندانوں کو غربت سے نکالنے کا منصوبہ تیار کر لیا
?️ 4 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وزیر اعظم نے لاکھوں خاندانوں کو غربت سے نکالنے
اگست
عام انتخابات کی ٹائم لائن پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل
?️ 22 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے عام
ستمبر
میر علی چیک پوسٹ حملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر داخلہ کا اظہارِ مذمت
?️ 17 مارچ 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور وفاقی وزیر
مارچ
غزہ کی جنگ جسمانی اور نفسیاتی طور پر 62 ہزار صہیونی ہلاک
?️ 26 جون 2024سچ خبریں: صیہونی فوج کی شدید فوجی سنسر شپ اور قابض حکومت کے
جون
صیہونی دشمن کے مقابلہ میں پورے عالم اسلام کا متحد ہونا ضروری ہے:ایران
?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:ایران کے صدر نےشامی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کے ساتھ
مارچ