فیض آباددھرناکیس: کمیشن نے سابق سربراہ آئی ایس آئی فیض حمید کو طلب کرلیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو طلب کر لیا۔

میڈیا کے مطابق حکومتی ذرائع نے کہا کہ لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فیض آباد دھرنا کمیشن نے دوسری بار طلب کیا ہے۔

حکومتی ذرائع نے کہا کہ جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگلے ہفتے فیض حمید فیض آباد دھرنا کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو طلبی کا نوٹس وزارت دفاع کے ذریعے بھجوایا گیا۔

واضح رہے کہ 15 نومبر کو سپریم کورٹ میں فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 2017 کے دھرنے سے متعلق اپنے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، 2 ریٹائرڈ سابق آئی جیز طاہر عالم خان اور اختر شاہ شامل ہیں۔

ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو موصول نوٹی فکیشن کے ٹی او آرز کے مطابق کمیشن کو فیض آباد دھرنا اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کے لیے ٹی ایل پی کو فراہم کی گئی غیر قانونی مالی یا دیگر معاونت کی انکوائری کا کام سونپا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا۔

حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوگیا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا۔

مشہور خبریں۔

مسلح افواج کا ملکی خودمختاری اور اقدار کے دفاع کیلئے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ

?️ 13 اگست 2025راولپنڈی (سچ خبریں) مسلح افواج نے ملکی خودمختاری اور اقدار کے دفاع

سیلاب کے بعد مالیاتی دباؤ، حکومت کا 4 ہزار 800 ارب روپے قرض لینے کا منصوبہ

?️ 2 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے ستمبر تا نومبر کے دوران اپنے

تل ابیب فلسطینیوں کے خلاف کشیدگی پیدا کرنے سے باز رہے: یورپی یونین

?️ 3 مئی 2023سچ خبریں:برسلز میں اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کے ساتھ اپنی پہلی

صیہونی آبادکاروں کے ساتھ یہ تو ہونا ہی تھا

?️ 27 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ٹی وی چینلز کے مطابق خانہ جنگی کے

دونوں امریکی جماعتیں کانگریس کا انتخاب جیتنے کی کوشش میں

?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگلے انتخابات

ٹرمپ کا چینی اور فرانسیسی طلباء پر جاسوسی کا الزام

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں:  ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے

یحییٰ السنوارکی شہادت کے بارے میں صیہونی انٹیلی جنس اداروں کے جھوٹ؛صہیونی میڈیا کی زبانی

?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: حماس کے رہنما یحییٰ السنوار کی شہادت کے بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے