فوج نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا

فوج

?️

راولپنڈی(سچ خبریں) پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش قیاس آرائیوں کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں، فوج میں بطور ادارہ تعیناتیاں اتنی کم مدتی نہیں ہوتی، ہر کوئی اپنی مدت پوری کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر فوج میں کسی ادارے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی 2 سال کے لیے کی جاتی ہے، میری گزارش ہوگی کہ اس طرح کی قیاس آرائیاں مزید نہ کی جائیں۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ آج 22 فروری ہے اور آپریشن ردالفساد کے 4 سال مکمل ہوگئے ہیں، اس پریس کانفرنس کا مقصد اس آپریشن کا تفصیلی جائزہ اور ثمرات پر کچھ روشنی ڈالنا ہے اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے آگاہی دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت اور سربراہی میں آپریشن ردالفسار کا آغاز کیا گیا، اس آپریشن کی بنیادی اہمیت جو اسے دیگر تمام چیزوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ آپریشن کسی مخصوص علاقے پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس کا اسٹریٹجک مقصد ایک پرامن، مستحکم پاکستان تھا اور ہے، جس میں عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو اور دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کی آزادی کو سلب کرکے انہیں مکمل طور پر غیر مؤثر کردیا جائے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ردالفساد کا بنیادی محور عوام ہیں تاہم جس وقت مسلح فورس دہشت گردوں سے لڑ رہی ہوتی ہیں تو دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے کی طاقت سے شکست دی جاسکتی ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اسی مناسبت سے ہر پاکستانی ناصرف اس آپریشن کا حصہ ہے بلکہ پوری قوم کی سوچ کے تحت ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے۔

2017 میں آپریشن شروع کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب دہشت گردوں نے قبائلی اضلاع میں اپنے انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور مختلف آپریشن میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں پناہ لینے کی کوشش کی، دہشت گرد، ان کے سہولت کار شہروں، قصبوں، دیہات، اسکولوں، مدارس، عبادت گاہوں، کاروباری مراکز حتیٰ کہ بچوں اور خواتین کو نشانہ بنانا کر زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوششوں میں بھی مصروف تھے۔

مشہور خبریں۔

برطانیہ: غزہ پر اسرائیلی حملے ناقابل برداشت اور اپنے دفاع سے بالاتر ہیں

?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: برطانوی حکومت نے غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں پر

صیہونیوں کی رفح کو جبری کیمپ میں بدلنے کی سازش

?️ 15 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونیوں  کا منصوبہ ہے کہ رفح میں فلسطینیوں کے لیے

فلسطینی مزاحمتی تحرمک پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے؛صیہونی فوج کا اعتراف

?️ 9 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونی فوجی کمانڈرز نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں

فارم 45 یا 47 میں فرق ہے تو کوئی ایک صحیح ہوگا، جانچنے کیلئے انکوائری کرنا ہوگی، جسٹس مندوخیل

?️ 20 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیراعظم

’موجودہ کیس دائرہ کار سے باہر ہے‘، بحریہ ٹاؤن کیس میں ملک ریاض کا سپریم کورٹ میں جواب

?️ 23 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کراچی

یوکرینی صدر کی وائٹ ہاؤس پر تنقید

?️ 3 مئی 2023سچ خبریں:یوکرین کے صدر کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے انہیں

غزہ پر قبضے کا منصوبہ؛ صیہونیوں کے داخلی اختلافات سے لے کر پیش رفتہ چیلنجز تک

?️ 14 اگست 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کی فوجی کمان کے لیے اگلے دو ہفتوں میں

بجلی کے بھاری نرخوں کے باوجود گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ

?️ 16 نومبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ صارفین پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے