?️
لاہور(سچ خبریں) عمران خان سے کہوں گا نادان دوست ان کے لیے ہر طرح کے فرنٹ کھولتے جا رہے ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہئیے، یکسو ہو کر پاکستان کو نارمل مہذب اور جمہوری ملک بنانے کے لیے جو بھی تقاضے ہوں ان کو پورا کیا جائے اور اپنے پرائے کی تمیز ختم کی جائے۔
ارشاد عارف نے مزید کہا کہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ دو تین روز میں حکومت نے سمجھ لیا،پولیس معاملات کو نہیں سنبھال سکتی اور رینجرز کو بلا لیا۔مذاکرات کے دعویدار وزیر داخلہ نے لگتا ہے غلط بیانی کی۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کو استعمال کیا گیا۔وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں جب کہ حکمران عیش و عشرت میں ہیں۔
وزیراعظم کو اس معاملے پر سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہئیے۔جب لال مسجد کا واقعہ ہو رہا تھا کچھ لوگ اس وقت بھی ریاست اور حکومت کو رٹ کے نام پر اکسا رہے تھے آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔یہاں واضح رہے کہ کالعدم تنظیم کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے کالعدم مذہبی تنظیم کی ریلی کو روکنے کے لیے رینجرز کے اختیارات اور کارروائی کا طریقہ کار طے کردیا ہے۔
اس طریقہ کار کے تحت پولیس اوررینجرز کے پاس انسداد دہشت گردی کے اختیارات ہوں گے، پولیس کو رینجرز کی ہدایات کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ مزید برآں رینجرز اور پولیس کو کم سے کم اسلحہ استعمال کرنے اجازت ہوگی، حملے کی صورت میں مقامی کمانڈر اسلحہ استعمال کی اجازت دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز حکومت نے کالعدم تنظیم سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور سکیورٹی ادارے کالعدم تنظیم سے سختی سے نمٹنے کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کالعدم تنظیم نے احتجاج کی آڑ میں رااستے بند کر رکھے ہیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا کہ کالعدم تنظیم سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے نہ ہی لانگ مارچ کی اجازت دی جائے گی۔
حکومت نے کالعدم تنظیم کے لانگ مارچ کو طاقت سے روکنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لیے کسی قسم کا تشدد کا راستہ اپنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی شہر شہر میں گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جائے گا اور اسلام آباد کے داخلہ راستوں پر رکاوٹیں اور سکیورٹی کی نفری بھی تعینات کی جائے گی۔
تاہم گذشتہ روز ہی لاہور سمیت پنجاب بھر میں 60 دن کے لیے رینجرز تعینات کر دی گئی تھی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں رینجرز کو 2 ماہ کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔جن 8 اضلاع میں رینجرز اہلکار اپنے فرائض سر انجام دیں گے ان میں لاہور، راولپنڈی، جہلم، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، چکوال، گجرات، فیصل آباد شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے نوٹی فی کیشن بھی جاری کر دیا گیا۔


مشہور خبریں۔
اشیا کی برآمدات میں مسلسل چھٹے مہینے اضافہ، فروری میں 17.5 فیصد بڑھیں
?️ 2 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان کی اشیا کی برآمدات میں مسلسل 6 مہینے
مارچ
عمران خان پر حملہ، مقدمہ درج کرنے کیلئے وفاق کا حکومتِ پنجاب کو خط
?️ 7 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے وزیر آباد میں لانگ مارچ کے
نومبر
کل سے سول نافرمانی کی مرحلہ وار تحریک شروع ہوگی، شیخ وقاص اکرم
?️ 22 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ
دسمبر
کیا آپریشن عزم استحکام حکومت کے لیے ضروری ہے؟
?️ 29 جون 2024سچ خبریں: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
جون
امریکہ لبنان میں صیہونی جرائم کی حمایت کیوں کرتا ہے؟
?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکہ، مغرب اور اسرائیل کے عسکری-سیکیورٹی اتحاد کے خلاف، بہترین
ستمبر
سید حسن نصراللہ لبنان کے قومی ہیرو کیسے بنے؟
?️ 23 فروری 2025 سچ خبریں:شہید سید حسن نصراللہ نے نہ صرف لبنان کی آزادی
فروری
رواں مالی سال کے دوسری ششماہی میں درآمدات میں اضافہ
?️ 26 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں پابندیوں
مئی
دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا کیس: علی امین گنڈا پور اشتہاری قرار
?️ 11 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے دفعہ 144 کی
مارچ