عمران خان کی جانب سے ‘نیوٹرلز’ کی مخالفت ماضی کی بات ہے، پرویز الہٰی

?️

لندن: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ایک سینئر شخصیت کے ساتھ مبینہ ملاقات کے بارے میں بڑھتے ہوئے قیاس آرائیوں کے درمیان وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوج کے لیے ‘نیوٹرلز’ کا لفظ استعمال کرنا ماضی کی چیز ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق لندن میں نیوز کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے پی ٹی آئی کے اتحادی پارٹنر سے پوچھا کہ عمران خان ‘نیوٹرلز’ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کیوں کرتے ہیں، خاص طور پر جب مسلم لیگ (ق) کو فوج کے ساتھ تعلقات اچھے لگتے ہیں۔

اس پر پرویز الہٰی نے کہا کہ ‘یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ ماضی کی بات ہے اور ختم ہو چکی ہے، اب بہت کچھ واضح ہے’۔

اگرچہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مزید کوئی وضاحت نہیں کی لیکن ان کے تبصروں نے ایوان صدر میں ہونے والی مبینہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں پارٹی کے لہجے میں واضح تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے۔

پرویز الہٰی نجی دورے پر لندن میں ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے مونس الہٰی کے خاندان سے ملنے آئے ہیں کیونکہ وہ پانچ سال سے برطانیہ نہیں گئے تھے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ نواز شریف سے ملنے کے لیے لندن آئے ہیں، پرویز الہٰی نے کہا کہ مجھے نواز شریف سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی جانب سے عمران خان کو اسلام آباد مارچ کے حوالے سے وارننگ کے بارے میں پرویز الہٰی نے کہا کہ ‘آس پاس دیکھو حکومت میں کون ہے؟ پنجاب میں عمران خان ہیں وہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہیں، رانا (ثنااللہ) صاحب کے پاس کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ہوگی۔‘

خیال رہے کہ جب پی ٹی آئی رہنماؤں کے لہجے کی تبدیلی کی وضاحت کرنے کے لیے کہا گیا تھا تو فواد چوہدری نے اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت سے عمران خان کی مبینہ ملاقات کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھے، لیکن کہا تھا کہ اس بات کا احساس نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر بلکہ دوسری طرف بھی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہونا چاہیے اور اس کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم (پی ٹی آئی) کبھی فوج پر تنقید نہیں کرتے، ہم اقدامات پر تنقید کرتے ہیں، ہمارے فوج کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور یہ کبھی نہیں ٹوٹے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی پاکستان کے متوسط طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور فوج بھی متوسط طبقے کی نمائندگی کرتی ہے، ہمیں فوج کے اندر بہت زیادہ حمایت حاصل ہے اور ہم اسے تبدیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ سب سے اچھی چیز جو ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو جگہ دیں، ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم مفاہمت چاہتے ہیں اور ہم الیکشن چاہتے ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا تھا کہ اگر حکومت خوشگوار حل اور انتخابات پر راضی نہیں ہوتی تو ہم اسٹیبلشمنٹ سے یہ توقع کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایسی کون سی فوج ہے جس کے کیمپ سے ٹینک چوری ہو جاتے ہیں؟

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ فلسطین کے شمال میں صیہونی فوج کے ایک اڈے

ٹیکس چوروں کیلئے ریلیف کا دور ختم، آئندہ بجٹ میں ایمنسٹی اسکیم کا امکان نہیں، محمد اورنگزیب

?️ 20 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دوٹوک اعلان کیا

آزادی بیان کا دعویٰ کرنے والے ممالک میں قرآن پاک کی سلسلہ وار توہین

?️ 30 جنوری 2023سچ خبریں:سویڈن کے فورا بعد ہالینڈ میں قرآن پاک کی بے حرمتی

پوٹین بھارت روانہ, واشنگٹن اور نئی دہلی کے تجارتی تعلقات میں پیچیدگی کے آثار

?️ 4 دسمبر 2025 پوٹین بھارت روانہ, واشنگٹن اور نئی دہلی کے تجارتی تعلقات میں

نبی کریم ﷺ کی ولادت کے 1500 سال مکمل ہونے پر جشن، فضائیں درود و سلام سے معطر

?️ 6 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وجہ تخلیق کائنات، رحمت اللعالمین، خاتم النبیین، نبی

فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی سیاسی شکست ہوگی:صہیونی وزیر خارجہ

?️ 17 ستمبر 2025فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کی سیاسی شکست ہوگی:صہیونی وزیر خارجہ  اسرائیل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پینٹاگون میں اعزازی کارڈن حاصل کریں گے

?️ 4 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ

کے الیکٹرک کو متعدد کمپنیوں میں بدلنے پر غور

?️ 31 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کو متعدد کمپنیوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے