?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج کو دھمکانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران سربراہ پی ٹی آئی عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار بھی شامل ہیں۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون سے استفسار کیا کہ یہ قابل اعتراض ریمارکس کب دیے گئے ہیں؟
جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ 20 اگست کو عمران خان نے ایف نائن پارک میں یہ ریمارکس دیے، عمران خان نے کہا زیبا صاحبہ، آپ کو شرم آنی چاہیے، ہم آپ کے خلاف بھی ایکشن لیں گے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وہ کونسا کیس سن رہی تھیں جس پر یہ ریمارکس دیے گئے؟
جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج شہباز گِل سے متعلق کیس سن رہی تھیں، عمران خان مسلسل اداروں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، کسی بھی جماعت کو اب اداروں کے خلاف بیانات سے روکا جانا چاہیے، عمران خان نے عدلیہ پر عوام کا اعتماد ختم کرنے کی کوشش کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا جو بھی عدالت کسی کے خلاف فیصلہ دے گی اس کے خلاف بیانات دینا شروع کردیں گے؟ کیا یہ چاہتے ہیں کہ لوگ اٹھیں اور خود اپنا انصاف کرنا شروع کردیں؟ اس رتبے کا آدمی جو وزیر اعظم رہ چکا وہ ایسا بیان کیسے دے سکتا ہے؟
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب، آپ کیس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تو سوال کا جواب دیں، کیا عمران خان کو نوٹس جاری کیا جائے یا شوکاز نوٹس ہونا چاہیے؟
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ بادی النظر میں یہ کیس شوکاز نوٹس کا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ خاتون جج کا نام لے کر اس طرح کی گفتگو کی گئی، تحقیقات میں تو عدالتیں بھی مداخلت نہیں کرتیں۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ تو ایسے دلائل دے رہے ہیں کہ آپ نے درخواست دی ہو۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایک خاتون جج کو دھمکی دی گئی، اگر یہ ماحول بنانا ہے تو کام تو ہوگا ہی نہیں، پورے پاکستان میں ججز کام کر رہے ہیں، کیا کورٹ جو فیصلہ دے گی تو اس کے خلاف تقاریر شروع کر دیں گے؟
انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے لیڈر سے اس طرح کے بیان کی توقع نہیں کی جاسکتی، عام آدمی کو کس طرف لے کر جارہے ہیں کہ وہ اٹھے اور اپنا انصاف خود شروع کردے؟
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ جس خاتون جج کو دھمکی دی گئی اس کو اضافی سیکیورٹی دینے کو تیار ہیں؟وہ خاتون جج کون سا کیس سن رہی تھیں؟
ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ عمران خان عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف مسلسل ایسی گفتگو کرتے رہے ہیں، عمران خان انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، وہ شہباز گل کے ریمانڈ سے متعلق کیس سن رہی تھیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جس کیس میں ریمارکس دیے گئے اس کیس کا کیا بنا؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عام آدمی کے ساتھ میڈیا کے توسط سے اس طرح کی باتیں کی جاتی ہے؟ ان لوگوں کو لگ رہا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں کر سکتا؟
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ابھی بھی لوگ اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہوں گے، آپ کی حکومت ہے تو اس قسم کے اقدامات کی روک تھام کیوں نہیں کرتے؟
ان کا مزید کہنا تھا اس قسم کے معاملات صرف اسلام آباد کی حد تک نہیں ہے، سول بیوروکریسی، آئی جی کو بھی دھمکی دی گئی، کیا پولیس نے کام نہیں کرنا؟ اگر ریاستی ادارے کام نہیں کریں تو ملک کیسے چلے گا؟ کچھ مخصوص لوگوں نے ریاست کو اپاہج بنا دیا۔
بعد ازاں عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 اگست کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کرلیا گیا جبکہ لارجر بینچ نے اس معاملے پر 3 سے زیادہ ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دینے کے لیے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔
عمران خان کے خلاف خاتون جج کے بارے میں متنازع ریمارکس دینے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے سے قبل ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے سابق وزیر اعظم کے بیانات کی ویڈیوز عدالت کے ریکارڈ پر لانے کی اجازت طلب کی۔
حکومت کی جانب سے درخواست میں جہانگیر جدون نے کہا کہ عمران خان کے بیان کے ویڈیو کلپس اور الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر ان کی جانب سے دیے گئے بیانات کی ویڈیوز بھی ریکارڈ پر لانے کی اجازت دی جائے، عدالت کو ان بیانات کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہوئے آسانی ہوگی۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ عدلیہ اور دیگر اداروں کے خلاف مختلف مواقع پر عمران خان کے مختلف بیانات کو عدالت میں چلانے کی اجازت لینا چاہتے ہیں۔
درخواست میں انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں استدعا کی جاتی ہے کہ مذکورہ مواد کو معزز عدالت میں یو ایس بی یا دیگر ڈیجیٹل آلات کے ذریعے چلانے کی اجازت دی جائے اور اس مواد کو کیس کا حصہ سمجھا جائے۔
واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے بارے میں عمران خان کے متنازع ریمارکس پر ان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے مذکورہ بینچ تشکیل دیا تھا۔


مشہور خبریں۔
سجل علی، عدنان صدیقی سمیت دیگر کو سول اعزازات سے نواز دیا گیا
?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی نامور اداکارہ سجل علی، سینئر اداکار
مارچ
غزہ کے بچوں کا بچپن اغوا؛ اور خواب جو ملبے تلے دب گئے
?️ 7 اپریل 2025سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت
اپریل
وفاقی حکومت کا آئندہ 2 ماہ میں فی یونٹ بجلی 6 سے 8 روپے سستی کرنے کا منصوبہ
?️ 24 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ 2 ماہ
فروری
9 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ شرجیل میمن
?️ 23 جولائی 2025کراچی (سچ خبریں) وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ نو
جولائی
گل پلازہ آتشزدگی؛ جانیں بچانا اولین ترجیح ہے، فوری اقدامات کیے جائیں۔ گورنر سندھ
?️ 18 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے آتشزدگی کا شکار گل
جنوری
امریکہ نے ایک بار پھر خطہ میں اپنی موجودگی کی وجوہات ظاہر کر دیں:شام
?️ 29 جون 2021سچ خبریں:شامی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شام اور
جون
منظم شیطانی مافیا(9)یمن میں مداخلت، جنگ اور انسانیت کے خلاف جرائم
?️ 21 فروری 2023سچ خبریں:یمن پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ریاض کے مختلف ذرائع
فروری
عالمی کمپنیاں معاشی صورتحال نہیں بلکہ اپنی حکمت عملی کے تحت پاکستان چھوڑ رہی ہیں، وزیر خزانہ کا دعویٰ
?️ 23 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا
اکتوبر