عمران خان پر حملے میں ’تین شوٹرز‘ کی موجودگی کے کوئی ثبوت نہیں ملے، جے آئی ٹی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر وزیر آباد حملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے سابق وزیراعظم پر حملے میں ایک سے زائد شوٹرز شوٹرز کے ملوث ہونے کے دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی شوٹرز کی موجودگی کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

سی سی پی او لاہور اور پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کو لکھے گئے خط میں تحقیقاتی ادارے کے چار دیگر ارکان نے سی سی پی او کی جانب سے تفتیشی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اس پر چار اراکین آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی شاہ، اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، ایس ایس پی سی ٹی ڈی پنجاب نصیب اللہ خان اور ایس پی پوٹھوہار ڈویژن طارق محبوب کے دستخط ہیں جنہوں نے خط میں کہا ہے کہ اب تک متعدد شوٹروں کی موجودگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا کوئی قابل اعتماد ثبوت ریکارڈ پر نہیں آیا جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ ایک سے زیادہ حملہ آور تھے۔

اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ ابھی تک کوئی ڈیٹا یا کال ریکارڈ نہیں ملا جس سے مرکزی ملزم کو اس جرم کی منصوبہ بندی میں ملوث کسی دوسرے شخص سے جوڑا جائے، اب تک دوسرے ملزم وقاص کا کردار صرف سہولت کار کا ہے۔

سی سی پی او لاہور کے کردار پر بحث کرتے ہوئے اراکین نے دعویٰ کیا کہ غلام محمود ڈوگر سے بار بار درخواست کی گئی کہ وہ اس موضوع پر ہماری مختلف آرا کو اہمیت دیں لیکن ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی جس کی وجہ وہی بہتر جانتے ہیں۔

رپورٹ میں ایک اور مسئلہ اٹھاتے ہوئے ارکان نے کہا کہ 17 دسمبر کو جے آئی ٹی کے ایک رکن نے تحقیقات کے معیار پر شدید اعتراض کیا اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہیں 29 دسمبر کو ہونے والے جے آئی ٹی کے اگلے اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر معروضیت اور جانبداری پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس کی انتہائی احتیاط کے ساتھ تفتیش کی جا رہی ہے اور تمام ممبران اور معاون عملے نے اسے خالصتاً میرٹ پر حتمی شکل دینے کی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے۔

رپورٹ میں اراکین نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے مزید کہا کہ معاملہ ابھی زیر تفتیش ہے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا لہٰذا اسے میڈیا پر زیر بحث لانا قبل از وقت ہو گا۔

مشہور خبریں۔

بین الاقوامی نظام کی تبدیلی سے مسئلہ فلسطین پر مثبت اثرات

?️ 6 مئی 2022سچ خبریں:   حماس کے خارجہ تعلقات کے دفتر کے سربراہ موسیٰ ابو

بحیرہ جاپان کے پانیوں میں روسیوں کا وسیع بحری تجربہ

?️ 5 جون 2023سچ خبریں:المیادین کے مطابق روسی ذرائع نے بحیرہ جاپان کے پانیوں میں

بغداد اور واشنگٹن امریکی فوج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل پر متفق نہیں

?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں:ایک امریکی میڈیا نے عراقی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا

اسرائیلی فوج کے خلاف نعروں پر برطانوی گلوکاروں کے امریکی ویزے منسوخ

?️ 1 جولائی 2025واشنگٹن: (سچ خبریں) اسرائیلی فوج کے خلاف نعرے لگانے اور فلسطین کی

جنگ بندی کے حوالے سے حزب اللہ کے 3 اصول کیا ہیں ؟

?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں: لبنان میں جنگ بندی کی تجویز کی تحقیقات اور جواب

سعودی نظام سیاسی وجوہات کی بنا پر بعض مسلمانوں کو حج سے محروم کر رہا ہے : انصار اللہ

?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:   یمن کی تحریک انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی بھوک ہڑتال

?️ 19 مارچ 2022سچ خبریں:  اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیرون نے بھوک ہڑتال کرنے

حیفا پر خوفناک حملے کا منظر نامہ

?️ 8 اگست 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ حیفا پر کسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے