عمران خان نیب ترامیم پر تمام سوالات اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے۔

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نیب کے قانون میں ترامیم کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے۔

‏سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، ‏چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، ‏جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی بینچ کا حصہ ہیں۔

آج دوران سماعت ‏چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل دیے جب کہ نیب نے اٹارنی جنرل کا مؤقف اپنانے کی درخواست جمع کرائی۔

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ نیب قانون کو مضبوط کرنے کے بجائے حالیہ ترامیم سے غیر مؤثر کیا گیا، ماضی میں سپریم کورٹ کرپشن کو ملک کے لیے کینسر قرار دے چکی ہے، احتساب کے جتنے بھی قوانین آئے عوامی عہدیداروں کو استثنیٰ نہیں دیا گیا، عوامی عہدیداروں کے احتساب کا قانون 1949 سے اب تک ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پارلیمان نیب کے قانون کو ختم کردے تو عدالت کیا کرسکتی ہے، کیا عدالت نے کبھی ختم کیے گئے قانون کو بحال کرنے کا حکم دیا جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ 1990میں ختم کیے گئے قانون کو عدالت نے بحال کیا تھا، عوامی عہدیدار ہونا ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ عدالت اور پارلیمان آئین اور شریعت کے تابع ہے، احتساب اسلام کا بنیادی اصول ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے سوال کیا آپ نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں لائے ہیں، بہتر نہیں تھا آپ کے مؤکل (عمران خان) پارلیمنٹ پر اعتماد کرتے؟ جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا، میں اس میں کچھ نہیں کہہ سکتا، پلی بارگین سے متعلق قانون میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، ‏پلی بارگین کی قسط نہ دینے والے کو سہولت دی گئی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ‏پہلے پلی بارگین کی رقم نہ دینے والے کے خلاف کارروائی ہوتی تھی،‏ ترمیم کے بعد قسط نہ دینے والی کی پلی بارگین ختم ہوجائے گی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ملزم کا کیس 50 کروڑ روپے سے کم ہو تو ازخود ختم ہوجائے گا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏ترمیم کے تحت ملزم بری ہوکر جمع کرائی گئی پلی بارگین رقم واپس مانگ سکتا ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس طرح تو ریاست کو اربوں روپے کی ادائیگی کرنا پڑے گی، خواجہ حارث نے کہا کہ پلی بارگین کی پوری رقم ادا کرنے والا بھی پیسے واپس مانگ سکتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ‏گرفتاری کے دوران پلی بارگین کرنے والا دباؤ ثابت بھی کر سکتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ‏کیا دباو ڈال کر ملزم سے پیسے لینا درست ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ‏پلی بارگین احتساب عدالت کی منظوری سے ہوتی ہے، اگر ملزم پر دباؤ ہو تو عدالت کو آگاہ کر سکتا ہے، منتخب نمائندے حلقے میں کام نہ ہونے پر عدالت ہی آسکتے ہیں اسمبلی نہیں جاتے۔

اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عمران خان پر بھی عوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا تھا،‏ عمران خان حلقے کے عوام کی مرضی کے بغیر اسمبلی کیسے اور کیوں چھوڑ آئے؟ ‏نیب ترامیم پر تمام سوالات عمران خان اسمبلی میں بھی اٹھا سکتے تھے جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت اکثریت سے قانون منظور کروا لیتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی جہاں خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ 26 جون کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے نیب آرڈیننس میں موجودہ مخلوط حکومت کی جانب سے ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، خواجہ حارث کے توسط سے دائر نیب ترامیم کے خلاف آرٹیکل 184/3 کی درخواست تیار کی گئی، درخواست میں وفاق اور نیب کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب قانون کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 25، 26، 14، 15، 21، 23 میں کی ترامیم آئین کے منافی ہیں، نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19 اے, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی مذکورہ درخواست کو عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا تھا، تاہم 7 جولائی کو سپریم کورٹ نے یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا، بعد ازاں درخواست پر سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

شوکت ترین سمیت 4 امیدوار کے کاغذات جمع

?️ 3 دسمبر 2021خیبر پختونخوا(سچ خبریں) خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی خالی ہونے والی نشست پر

پاکستان کیساتھ اسٹاف لیول معاہدے کی جانب اہم پیشرفت ہوئی، آئی ایم ایف مشن چیف نارتھن پورٹر

?️ 16 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور آئی ایم ایف نے اسٹاف لیول

پاکستان نے ۲۷۴ افغان اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا

?️ 27 فروری 2026پاکستان نے ۲۷۴ افغان اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا پاک فوج

حزب اللہ کے غیر معمولی حملے؛صیہونی میڈیا کی رپورٹ

?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا کی کہنا ہے کہ حزب اللہ نے قابض

”سنگل“ ہوں لیکن کسی رشتے کے لیے دستیاب نہیں، نعیمہ بٹ

?️ 21 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) ’کبھی میں کبھی تم‘ میں رباب کا کردار ادا

نیتن یاہو جیت گئے، لیکن اسرائیل کے خلاف: عبرانی میڈیا

?️ 1 دسمبر 2024سچ خبریں: میں بیس کی دہائی میں اپنے ایک دوست کے ساتھ

افغانستان سے پاکستان میں جاری حملے کسی سے مخفی نہیں۔ طاہر اشرفی

?️ 12 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان

خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات آفیسر کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

?️ 19 دسمبر 2021پشاور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق خاتون آفیسر کو شہریوں نے بیلٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے