?️
اسلام آباد 🙁سچ خبریں) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردی کے مقدمے میں سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی، ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری، وکلا زینب جنجوعہ اور قیصر امام عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ایمان مزاری کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 10 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم سنایا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان زینب مزاری کو 2 ہفتے کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم اس کے کچھ دیر بعد ہی ان کی درخواست ضمانت پر آج (بروز ہفتہ) ہونے والی سماعت تک دارالحکومت کے خواتین کے تھانے میں رکھنے کی ہدایت جاری کی تھی۔
واضح رہے کہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 19 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ایمان مزاری کو 20 اگست کی صبح ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اسلام آباد کے ترنول پولیس اسٹیشن اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پولیس اسٹیشن میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں۔
یہ گرفتاریاں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے زیر اہتمام منعقدہ جلسے کے 2 دن بعد کی گئیں، جلسے سے پی ٹی ایم کے رکن علی وزیر اور ایمان مزاری دونوں نے خطاب کیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر زیر گردش جلسے کی ویڈیوز میں مقررین کو جبری گمشدگیوں کے معاملے پر فوجی اسٹیبلشمنٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔
دونوں کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف درج 2 مقدمات کی سماعت ہوئی تھی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ کے ڈیوٹی جج احتشام عالم نے بغیر اجازت جلسہ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر تھانہ ترنول میں درج مقدمے میں ایمان مزاری کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں 2 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
دونوں ملزمان کے خلاف دوسری ایف آئی آر دہشت گردی کی دفعات کے تحت تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کی گئی تھی۔
22 اگست کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بغاوت، دھمکانے اور اشتعال پھیلانے کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں علی وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا جبکہ اسی مقدمے میں ایمان زینب مزاری کی ضمانت منظور کرلی تھی۔
تاہم ایمان مزاری دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج دوسرے مقدمے میں 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں تھیں، لہٰذا ان کی رہائی ممکن نہیں ہوسکی تھی۔
28 اگست کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بغاوت اور اشتعال پھیلانے کے کیس میں ایمان زینب مزاری اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ضمانت منظور کرلی تھی، تاہم رہائی کے فوری بعد پولیس نے ایمان مزاری کو دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔
ترجمان اسلام آباد پولیس نے بتایا کہ ایمان زینب مزاری کو بہارہ کہو میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے، ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔
29 اگست کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان زینب مزاری کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
یکم ستمبر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان زینب مزاری کو 2 ہفتے کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ سنایا اور ان کی درخواست ضمانت پر 2 ستمبر (بروز ہفتہ) کو سماعت ہونے تک دارالحکومت کے خواتین کے تھانے میں رکھنے کی ہدایت جاری کی۔


مشہور خبریں۔
طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں وزیراعلی تبدیلی کی وجہ بتادی
?️ 21 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےخیبرپختونخوا میں
اکتوبر
بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کی خاموشی کی وجہ سے کشمیریوں کو مشکلات کاسامنا ہے،حریت رہنماء
?️ 3 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر
جنوری
یہ ہمارے حملے تھے جنہوں نےسعودی اتحاد کو جنگ بندی پرمجبور کیا:انصار اللہ
?️ 2 اپریل 2022سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کی سیاسی کونسل کے رکن
اپریل
جولانی کا شام میں داخلی امن کے حوالے سے نیا بیان
?️ 10 مارچ 2025سچ خبریں: الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق جولانی نے دمشق کے علاقے
مارچ
دمشق کا اسرائیلی حملے پر سخت ردعمل
?️ 28 نومبر 2025سچ خبریں: خود ساختہ جولانی حکومت سے وابستہ شام کی وزارت خارجہ نے
نومبر
انتخابی نتائج کیخلاف چوہدری نثار بھی بول پڑے
?️ 24 فروری 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) ملک کے سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر چوہدری
فروری
بنوں میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے بعد پولیس کی ہڑتال
?️ 12 ستمبر 2024بنوں: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیو کے قطرے
ستمبر
لاوروف کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنے فرائض کے بارے میں یاددہانی
?️ 11 ستمبر 2022سچ خبریں: ایک انٹرویو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف
ستمبر