?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے عام انتخابات کے لیے غیر حتمی تاریخ کے اعلان پر سیاسی جماعتوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے جہاں کچھ اس پر مطمئن نظر آتے ہیں تو وہیں کچھ عمومی ٹائم فریم کے بجائے مخصوص تاریخ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے مخصوص تاریخ دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس اعلان کو عدالت میں چلینج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے رکن نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ آئین 90 روز کے اندر انتخابات پر زور دیتا ہے اور اس ٹائم فریم سے آگے جانا قانون کے خلاف ہے۔
نجی چینل ’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ’ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس طرح کمیشن کام کر رہا ہے وہ آئینی اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔‘
علاوہ ازیں پارٹی کے ترجمان نے علیحدہ بیان میں کہا کہ چونکہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، اس لیے قوم کے لیے 90 دن کی حد کے علاوہ کسی اور تاریخ کو قبول کرنا ممکن نہیں جب تک اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آجاتا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سینئر رہنما احسن اقبال نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر پارٹی کی طرف سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حد بندی کے عمل سے متعلق بےیقینی کو ختم کر دیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ شروع سے ہی سب جانتے تھے کہ الیکشن کمیشن کو مردم شماری کے بعد حد بندی کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پرکمیشن نے اشارہ دیا تھا کہ حد بندی کا عمل 15 دسمبر تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد اگلے سال فروری میں انتخابات ہوں گے۔
رہنما پیپلز پارٹی قمر زماں کائرہ نے محتاط بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے پر صرف اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں اور پیش رفت کو ’امید افزا‘ سمجھتے ہیں۔
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کی بنیاد پر بات نہیں کر سکتے، جو کہ ای سی پی پر زور دے رہی ہے کہ الیکشن شیڈول کا اعلان کرکے آئین کی پاسداری کی جائے۔
سابق وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ بےیقینی اب ختم ہو جائے گی اور وہ مثبت پیش رفت کے منتظر ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم۔پ)) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بھی حکومت اور ای سی پی کی جانب سے نئی حد بندی کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد انتخابات کرانے کے مطالبے کو پورا کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ آیا کمیشن ابتدائی حد بندی کی فہرست جاری کرنے کے بعد حلقہ بندیوں کے حوالے سے ان کی پارٹی کے تحفظات کو دور کرے گا۔
ادھر اے این پی نے الیکشن کمیشن سے عام انتخابات کے لیے حتمی تاریخ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیشن کے اعلان کے بارے میں پوچھے جانے پر اے این پی کے سینئر رہنما زاہد خان نے کہا کہ ان کی درخواست مسلسل یہ رہی ہے کہ انتخابات 90 دن کے اندر کرائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سے ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔


مشہور خبریں۔
Oka Antara plays police detective in new crime series ‘Brata’
?️ 30 جون 2021 When we get out of the glass bottle of our ego
عمران خان کے دوست ہی ان کے لئے محاذ کھول رہے ہیں
?️ 28 اکتوبر 2021لاہور(سچ خبریں) عمران خان سے کہوں گا نادان دوست ان کے لیے
اکتوبر
غزہ کی جنگ نے دنیا کے سامنے صیہونی حکومت کی ہوا نکال دی
?️ 24 جنوری 2024سچ خبریں: یمنی مفکر حمود الاھنومی نے اس بات کی طرف اشارہ
جنوری
گزشتہ 24 گھنٹوں میں حزب اللہ نے صیہونی فوج کے ساتھ کیا؛ خود فوج کا اہم اعتراف
?️ 10 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شمالی سرحدوں
اکتوبر
امریکا میں مندر کی تعمیر کے لیئے دلت ہندوؤں کی اسمگلنگ کا معاملہ، 200 سے زائد مزدور عدالت پہونچ گئے
?️ 27 مئی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی ریاست نیو جرسی میں ایک عالیشان مندر کی
مئی
مصری پارلیمنٹ ممبر کی اسرائیل کو شدید دھمکی
?️ 15 فروری 2024سچ خبریں: مصری پارلیمنٹ کے نمائندے نے صیہونی حکومت کو رفح میں
فروری
جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی، عمران خان، پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف مقدمہ درج
?️ 19 مارچ 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لیے چیئرمین
مارچ
حکومت نےایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کر دی
?️ 18 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) انتخابی اصلاحات کے معاملے پر حکومت نے ایک
نومبر