?️
واشنگٹن: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کا کہنا ہے کہ میں نہ تو سیاستدان ہوں اور نہ ہی سیاست میں آنا چاہتا ہوں، عاصم منیر نے عمران خان کو قید کرکے سب کنٹرول کیا ہوا ہے جو اب ایکسٹینشن چاہتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے ایک امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے والد کی جیل میں قید کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور پاکستانی عدالتی نظام پر کھل کر بات کی، انہوں نے بتایا کہ عمران خان پر 200 سے زیادہ مقدمات ہیں، جب بھی کسی مقدمے میں وہ بری ہوتے ہیں یا وہ مقدمہ ختم ہوتا ہے تو ان پر چار پانچ نئے مقدمات ڈال دیئے جاتے ہیں، اس سے یوں لگتا ہے جیسے اس کا کوئی اختتام ہی نہیں، ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ نہ کوئی راستہ ہے نہ ہم ان سے بات کر سکتے ہیں، تقریباً چار ماہ پہلے ہم نے ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی تھی، اس سے پہلے کے کچھ لمحات بھی بہت تکلیف دہ تھے۔
قاسم خان کا کہنا ہے کہ ہمارے والد دس دن تک ایسی کوٹھری میں تھے جہاں کوئی روشنی نہیں تھی جو ایک تشدد کا طریقہ ہے، ہم نے اس پر ماریان نوفل کے ساتھ انٹرویو میں بات کی تو اس کے بعد حکومت نے مزید سختیاں بڑھا دیں، اب انہیں دن میں صرف دو گھنٹے دھوپ میں جانے دیا جاتا ہے، تب سے ہم ان سے بات بھی نہیں کر سکے اس کو چار مہینے ہو چکے ہیں، ان کے ذاتی ڈاکٹر کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، آٹھ مہینے ہو چکے ہیں اُنہیں اپنے ڈاکٹر کو دیکھے ہوئے اور موجودہ ڈاکٹرز کے ماتحت پچھلے دو ہفتوں میں دس افراد کی موت ہو چکی ہے تو ظاہر ہے ہم بہت پریشان ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ میں کوئی سیاستدان نہیں ہوں، میں ذاتی حیثیت میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میرے والد جیل سے باہر آ جائیں، ظاہر ہے اپنے لیے اور اپنی فیملی کے لیے میں انہیں دوبارہ ساتھ دیکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ دو سال سے زیادہ ہو چکے ہیں جب میں نے انہیں آخری بار اس وقت دیکھا تھا جب ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور تین گولیاں لگی تھیں، اس کے فوراً بعد انہیں جیل میں ڈال دیا گیا جو کہ بالکل بھی محفوظ جگہ نہیں ہے، میرے خیال میں یہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ناقابل قبول سلوک ہے۔
سابق وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ رچرڈ گرنیل نے ہمارے لیے وقت نکالا یہ بڑی بات ہے، ہم نے تفصیل سے ان کے ساتھ بات کی، میں گفتگو کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن میں اس ملاقات سے بہت پُرامید ہوں کیوں کہ اس وقت آرمی چیف جو بہت طاقتور ہیں عملاً وہ کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں، ان کی مدتِ ملازمت اس سال ختم ہونی ہے لیکن لگتا ہے کہ وہ اسے مزید دو سال یا شاید غیر معینہ مدت تک بڑھا سکتے ہیں، وہاں کا نظام کسی حد تک آمریت جیسا ہے، ہمیں معلوم نہیں ان کا اقتدار کب ختم ہو گا اور ہمیں لگتا ہے وہی میرے والد کو جیل میں رکھے ہوئے ہیں۔
ایک سوال پر قاسم خان نے جواب دیا کہ عمران خان جیل سے ہی دو تہائی اکثریت سے الیکشن جیتے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام اپنی حقیقی نمائندگی کے حق دار ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا، حالاں کہ ان پر بدترین دھاندلی ہوئی، اتنی کہ ان کا انتخابی نشان بیٹ جو پورے ملک میں ان کی پہچان ہے، انتخاب سے کچھ دن پہلے ہی چھین لیا گیا، الیکشن والے دن بجلی بند کری گئی، انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا لیکن پھر بھی عمران خان جیت گئے تو عوام کو بھی سنا جانا چاہیئے، ہم اُن کے لیے بھی آواز بلند کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو مس کنڈکٹ کی شکایت پر شوکاز نوٹس جاری
?️ 27 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5
اکتوبر
پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر عوامی نیشنل پارٹی کا ردعمل
?️ 17 جولائی 2024سچ خبریں: عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اسفندیار ولی نے حکومت
جولائی
مقامی تاجروں، سول سوسائٹی کے ارکان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ترقی کے بھارتی دعوؤں کو مسترد کردیا
?️ 16 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
مارچ
وزیراعظم نے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا
?️ 5 نومبر 2021اٹک(سچ خبریں) عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ایک اور اہم
نومبر
افغانستان ميں قیام امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے: وزیر خارجہ
?️ 21 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے
جون
سعودی حکام وکی پیڈیا لکھنے والوں پر بھی رحم نہیں کرتے
?️ 8 جنوری 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے ویکیپیڈیا لکھنے والوں میں سے ایک زیاد السفیانی
جنوری
بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی کا قہر؛متعدد افراد جاں بحق
?️ 19 مئی 2021سچ خبریں:بنگلہ دیشی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک میں
مئی
حکام نے ٹیکس نیٹ میں مزید 15 لاکھ افراد کو شامل کرنے کے منصوبے سے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا
?️ 12 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی ٹیکس اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے
نومبر